پاکستان

وزیر اعظم یو این جنرل اسمبلی میں پائیدار ترقی کے اہداف کے حصول کی ضرورت کو اجاگر کریں گے

انوار الحق کاکڑ 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایس ڈی جی کے لیے فنڈز متحرک کرنے کے بارے میں بات کریں گے، منیر اکرم

نگران وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 78ویں اجلاس سے خطاب کریں گے جہاں وہ اقوام متحدہ کے طے کردہ پائیدار ترقی کے اہداف (ایس ڈی جیز) کے حصول میں ترقی پذیر ممالک کی مدد کرنے کی ضرورت پر زور دیں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق نگران وزیراعظم کی 18 ستمبر کو نیویارک میں آمد متوقع ہے جب کہ وہ 22 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کریں گے، وہ 23 ستمبر کو وطن واپس روانہ ہوں گے۔

بدھ کے روز نیویارک میں منعقدہ ایک نیوز بریفنگ کے دوران اقوام متحدہ میں پاکستان کے مندوب منیر اکرم نے کہا کہ وزیر اعظم انوار الحق کاکڑ اقوام متحدہ کے ہیڈ کوارٹرز کے دورے کے دوران ایس ڈی جی سربراہی اجلاس میں بھی شرکت کریں گے۔

اقوام متحدہ 18اور 19 ستمبر کو نیویارک میں ایس ڈی جی سربراہی اجلاس کی میزبانی کرے گا۔

سفیر منیر اکرم نے کہا کہ وزیر اعظم ایس ڈی جی کے لیے فنانس کو متحرک کرنے کے بارے میں بات کریں گے، یقیناً اہم بات جنرل اسمبلی سے ان کا خطاب ہو گا جو کہ سالانہ پالیسی بیان ہو گا۔

پاکستانی مندوب نے کہا کہ نگران وزیر اعظم ترقی کے لیے مالی اعانت سے متعلق ایک اور سربراہی اجلاس سے بھی اہم خطاب کریں گے جہاں وہ ترقی کے لیے نجی شعبے کے سرمایہ کاری کو متحرک کرنے کے بارے میں بات کریں گے۔

توقع ہے کہ انوار الحق کاکڑ جنرل اسمبلی سے اپنے خطاب میں ایس ڈی جی کے حصول کے لیے پاکستان کی کوششوں پر بھی روشنی ڈالیں گے۔

اپنے ایک حالیہ بیان میں اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے عالمی برادری کو یاد دلایا کہ سالانہ ایس ڈی جی فنڈنگ گیپ وبائی مرض سے پہلے 25 کھرب ڈالر تھا جو کہ اب بڑھ کر اب ایک اندازے کے مطابق 42 کھرب ڈالر تک پہنچ گیا ہے۔

سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر جاری ایک پوسٹ میں انتونیو گوتریس نے 78ویں یو این جنرل اسمبلی میں شرکت کرنے والے عالمی رہنماؤں کو خبردار کیا کہ یہ ’دکھاوے، جانب داری، بے حسی یا عدم فیصلے کا وقت نہیں ہے، یہ حقیقی معنوں میں اور عملی حل کے لیے متحد ہونے کا وقت ہے‘۔

سلمان خان اپنے گھر میں میرا بیان سنتے ہیں، مولانا طارق جمیل

ایشیا کپ: سری لنکا کے خلاف میچ کیلئے پاکستان کی ٹیم میں 5 تبدیلیاں