کراچی میں پختونوں کے قدیم روایتی کھیل موخہ کی بڑھتی سرگرمیاں
کراچی کے علاقے بلدیہ ٹاؤن میں واقع مہاجر کیمپ میں یہ دسمبر کی سرد شام ہے کہ جہاں مختلف عمر کے مرد ایک وسیع گراؤنڈ میں جمع ہوئے ہیں جن میں سے کچھ کے ہاتھ میں تیر اور کمان ہیں۔
ان میں 35 سالہ محمد عمران یوسف زئی بھی شامل ہیں جو مقامات کو نشان زد کرنے میں مصروف ہیں۔ وہ ڈان کو بتاتے ہیں کہ وہ موخہ ٹورنامنٹ کی تیاری کررہے ہیں جوکہ صوبہ خیبرپختونخوا کے مختلف علاقوں میں کھیلا جانے والا روایتی کھیل ہے۔
عمران یوسف زئی بچپن سے موخہ کھیل رہے ہیں اور وہ اسے اپنے ثقافتی ورثے سے گہرے تعلق کے طور پر دیکھتے ہیں۔ وہ بتاتے ہیں، ’ہمارے آبا و اجداد اس کھیل کو روایت کی علامت کے طور پر کھیلتے تھے۔ جب پختون خاندانوں نے مزدوری یا کاروبار کے لیے کراچی ہجرت کی تو وہ اپنے ساتھ اس کھیل کو بھی یہاں لے کر آئے اور یہ بھی یقینی بنایا کہ یہ کھیل زندہ رہے‘۔
تاہم پختون کمیونٹی میں اس کھیل کی مقبولیت کے باوجود شہر میں بسنے والے مختلف نسلی گروہ موخہ سے ناواقف ہیں۔
کھیل سے منسوب روایتی تاریخ
پاکستان میں کھیلوں کی ایک بھرپور تاریخ ہے۔ پختون بزرگوں کے مطابق موخہ سیکڑوں سالوں سے کھیلا جارہا ہے جس کی بنیادیں ترکیہ سے ملتی ہیں جو بعدازاں سعودی عرب کا سفر کرکے خیبرپختونخوا پہنچا۔
موخہ کے شوقین 65 سالہ سردار علی کھیل کی اہمیت سے متعلق بتاتے ہیں، ’میں جب جوان تھا تو خیبرپختونخوا اور کوئٹہ میں یہ کھیل کھیلتا تھا۔ آج میرے بچے اور پوتے روایت برقرار رکھتے ہوئے موخہ کھیلتے ہیں‘۔
روایتی اعتبار سے یہ کھیل موسمِ سرما یا اکثر فصلوں کی کٹائی کے موسم کے بعد کھیلا جاتا ہے۔ تاہم کراچی میں پختونوں کی زائد آبادی کے باعث سال بھر موخہ کھیلا جاتا ہے۔
تاریخی اعتبار سے یہ کھیل پختون دیہاتیوں میں مقبول تھا بالخصوص کسانوں میں جوکہ دن بھر کی محنت کے بعد تفریح کے لیے موخہ کھیلتے تھے۔ اس کھیل سے وہ تیروں سے نشانہ بازی کے اپنے ہنر کو تراشتے تھے جوکہ شکار اور دیگر دفاعی حربوں میں کارآمد ثابت ہوتا ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ موخہ ایک سماجی سرگرمی بن گئی جو گاؤں کی محفلوں، فیسٹیول یا خصوصی تقاریب میں دوستانہ مقابلوں سے برادریوں کو قریب لے کر آتا ہے۔
موخہ کیسے کھیلا جاتا ہے؟
موخہ میں ایک چھوٹے سے نشانے پر لمبے تیر (گھاشے) کو مارنے کے لیے لکڑی کے لمبے کمان (لیندا) کا استعمال کیا جاتا ہے۔ ہدف طشتری کی شکل کی دھاتی پلیٹ (ٹیوبرے) سے لے کر لکڑی کے چھوٹے سے کھونٹے تک ہوسکتا ہے۔ ہدف کو کھیل کے میدان میں مٹی اور سیمنٹ سے تعمیر کی گئی عارضی دیوار سے کئی میٹر دور رکھا جاتا ہے۔
یہ کھیل ٹیموں کی صورت میں کھیلا جاتا ہے۔ ہر ٹیم میں 12 کھلاڑی شامل ہوتے ہیں جن میں سے 4 کھلاڑی متبادل کے طور پر ٹیم میں ہوتے ہیں جبکہ بقیہ 8 باقاعدہ مقابلے میں شرکت کرتے ہیں۔ اگر کوئی کھلاڑی زخمی یا بیمار ہوجائے تو متبادل کو موقع ملتا ہے۔ اس کھیل میں دو راؤنڈز ہوتے ہیں جن میں ہر ٹیم 16، 16 بار نشانہ لگاتی ہے۔
ہر ٹیم کو 32 بار نشانہ لگانے کے مواقع ملتے ہیں جن میں سے جیت کے لیے ٹیم کے کم از کم 16 کامیاب نشانے لگنے چاہئیں جبکہ حریف ٹیم کے 16 سے کم نشانے ہدف پر لگنے چاہئیں۔ اصل چیلنج 50 سے 100 فٹ (15 سے 30 میٹر) کے درمیان کافی فاصلے سے چھوٹے ہدف کو نشانہ بنانا ہوتا ہے۔
ایک اور کھلاڑی 38 سالہ جہانگیر خان نے بتایا کہ موخہ ہر شخص نہیں کھیل سکتا کیونکہ اسے کھیلنے کے لیے پُرسکون دماغ، مناسب تکنیک اور ’مضبوط سینے‘ کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ ہدف کو کامیابی سے نشانہ بنایا جاسکے۔ وہ کہتے ہیں، ’بہت سے لوگ کوشش کرتے ہیں لیکن وہ ناکام ہوجاتے ہیں کیونکہ ان میں وہ مہارتیں نہیں ہوتیں جوکہ اس کھیل کے لیے ضروری ہیں‘۔
جہانگیر خان بتاتے ہیں کہ اس کھیل نے اب بھی کراچی کی پختون خواتین میں مقبولیت حاصل نہیں کی ہے۔ وہ کہتے ہیں، ’تاہم پشاور میں خواتین کھلاڑیوں پر مشتمل ٹیمیں موجود ہیں جوکہ فعال بھی ہیں‘۔
انہوں نے مزید کہا کہ قبائلی قدامت پسندی اور کھیل مشکل ہونے کی وجہ سے یہ خواتین میں اس قدر مقبول نہیں جتنا کہ یہ مردوں میں ہے۔
حفاظتی تدابیر کی ضرورت
خیبرپختونخوا میں موخہ کی مشق کرنے والوں کے لیے بڑے بڑے میدان موجود ہیں جبکہ کراچی میں انہیں یہ آسائش میسر نہیں۔
مرکزی سڑکوں پر چلتے ہوئے ٹریفک کے ساتھ واقع کھلے میدانوں میں متعدد ٹورنامنٹس ہوتے ہیں۔ کچھ شرکا کا کہنا ہے کہ میدان کے ایک حصے میں بچے کھیل رہے ہوتے ہیں جبکہ دوسرے حصے میں موخہ کا ٹورنامنٹ کھیلا جارہا ہوتا ہے۔
یہ ایک سنگین خطرے کو اجاگر کرتا ہے کیونکہ چھوٹے اہداف کا نشانہ چُوک بھی سکتا ہے جو راہ گیروں یا موٹرسائیکل سواروں کے لیے حادثات کا باعث بن سکتا ہے۔ بدقسمتی سے ان میدانوں کے گرد حفاظتی دیوار نہیں ہوتیں تاکہ اس طرح کے حادثات سے بچا جا سکے۔
ان خطرات کے باوجود کھلاڑی دعویٰ کرتے ہیں کہ وہ برسوں سے موخہ کھیل رہے ہیں لیکن انہوں نے کبھی ایسے حادثات نہیں دیکھے۔ وہ زور دیتے ہیں کہ وہ تکنیک میں مہارت رکھتے ہیں اس لیے ان کا نشانہ ہدف پر لگتا ہے۔
تاہم وہ میدان جہاں موخہ ٹورنامنٹ کھیلے جاتے ہیں، بنیادی سہولیات کا فقدان ہوتا ہے جیسے کہ وہاں بیٹھنے کے لیے نشستیں موجود نہیں ہوتیں، لائٹنگ کا نظام اچھا نہیں ہوتا جبکہ شرکا کو پانی کی سہولت بھی دستیاب نہیں ہوتی۔ کھلاڑی اور منتظمین کرسیوں کا انتظام کرتے ہیں، میدان صاف کرتے ہیں، ساؤنڈ اور لائٹس سسٹم نصب کرتے ہیں جبکہ پانی کی سہولت کا انتظام بھی وہی سنبھالتے ہیں۔
اس کھیل کو کسی طرح کی سرکاری سرپرستی بھی حاصل نہیں جہاں شرکا ٹورنامنٹ کے انعقاد کے لیے اپنی جیبوں سے رقم خرچ کرتے ہیں جبکہ اس ٹورنامنٹ میں 2 درجن سے زائد ٹیمیں حصہ لیتی ہیں۔
جہانگیر خان وضاحت کرتے ہیں کہ جب کوئی ٹیم ٹورنامنٹ جیت جاتی ہے تو اپنے علاقے میں اگلا ٹورنامنٹ منعقد کرنے کی ذمہ داری جیتنے والی ٹیم کی ہوتی ہے۔ وہ ڈان کو کہتے ہیں، ’جیتنے والی ٹیم انعامی رقم کے لیے فنڈز بھی خود ہی اکٹھا کرتی ہے جو 10 سے 20 ہزار کے درمیان ہوسکتی ہے‘۔
شرکا اور تماشائیوں کی بڑی تعداد اس ضرورت کی نشان دہی کرتے ہیں کہ اس کھیل کے لیے خصوصی میدان درکار ہیں جہاں بھرپور حفاظتی اقدامات لیے جائیں۔
محمد عمران یوسف زئی جو ٹورنامنٹ کا انتظام سنبھال رہے ہیں، زور دیتے ہیں کہ ایک اچھا میدان اور سڑکوں کے ساتھ موجودہ گراؤنڈز کے گرد حفاظتی دیواریں تعمیر کرنے کے لیے حکومت ان کی معاونت کرے۔ وہ اپیل کرتے ہیں کہ مختلف شہروں میں اس کے انعقاد کے لیے بھی سرپرستی کی جائے۔ کہتے ہیں، ’یہ تعاون ہمیں قومی اور بین الاقوامی مقابلوں میں حصہ لینے اور پاکستان کا نام سربلند کرنے کے قابل بنائے گا‘۔
پختونوں کے لیے موخہ صرف کھیل نہیں بلکہ اس سے کئی زیادہ بڑھ کر ہے۔ یہ ان کی تاریخ کی علامت ہے جو مزاحمت اور دوستی کی نشانی ہے۔ اگرچہ موجودہ دور میں جدید کھیلوں کا غلبہ ہے لیکن موخہ کی روایتی اہمیت برقرار ہے جو پختونوں کے تیر اندازی کے ساتھ گہرے تعلق اور مسابقتی کھیلوں سے ان کی محبت کی نمائندگی کرتا ہے۔
یہ تحریر انگریزی میں پڑھیے۔