• KHI: Maghrib 6:32pm Isha 7:48pm
  • LHR: Maghrib 5:58pm Isha 7:19pm
  • ISB: Maghrib 6:01pm Isha 7:24pm
  • KHI: Maghrib 6:32pm Isha 7:48pm
  • LHR: Maghrib 5:58pm Isha 7:19pm
  • ISB: Maghrib 6:01pm Isha 7:24pm

’کینال منصوبے کے خلاف بڑھتے مظاہرے پیپلز پارٹی کے لیے ویک اپ کال ہونی چاہیے‘

شائع 26 فروری 2025 01:43pm

متنازعہ کینال منصوبے کے خلاف سندھ بھر میں وسیع پیمانے پر مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جس کی وجہ سے صوبے کی صورت حال افراتفری کا شکار ہے۔ ’دریائے سندھ کو بچاؤ‘ (سیو ریور انڈس) مہم اب تیزی سے بڑی عوامی تحریک میں تبدیل ہوچکی ہے جو متنوع سیاسی قوتوں کو ایک نکتے پر یکجا کررہی ہے۔ اس تنازع نے گزشتہ 16 برس سے صوبے پر حکومت کرنے والی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی (پی پی پی) کو دشوار حالات میں دھکیل دیا ہے۔

اگرچہ پنجاب میں بنجر زمینوں کی آب پاشی کے لیے 6 نہریں بنانے کے وفاقی حکومت کے فیصلے سے پی پی پی نے خود کو الگ کرلیا تھا لیکن پھر بھی اس بھونچال سے پارٹی لاتعلق نہیں ہوسکتی۔ بہت سے لوگوں کے نزدیک کینال پروجیکٹ کا مطلب صوبہ سندھ کی وسیع زمین کو بنجر میں تبدیل کرنا ہوگا۔ پی پی پی جوکہ وفاقی حکومت کا حصہ ہے، اس تباہی کے الزام سے خود کو بری الذمہ قرار نہیں دے سکتی۔

اگرچہ دریائے سندھ سے پانی کی تقسیم طویل عرصے سے سندھ کے لیے سیاسی طور پر حساس معاملہ رہا ہے لیکن حالیہ تنازع نے صوبے کی صورت حال کو انتہائی سنگین رخ دیا ہے۔

اس نے سندھی قوم پرست کی تحریکوں کو ایک بھرپور جواز فراہم کیا ہے جو صوبے کے سیاسی منظرنامے میں پی پی پی کے غلبے کی وجہ سے طویل عرصے سے متحرک نہیں تھیں۔

صوبے بھر میں مختلف سندھی قوم پرست گروہوں کی جانب سے منعقد کیے جانے والے احتجاج میں ہزاروں افراد جن میں زیادہ تر نوجوان اور خواتین شامل ہیں۔ بہت سی مرکزی دھارے کی سیاسی جماعتیں اور سول سوسائٹی کے اراکین بھی کینال پروجیکٹ کی مخالفت کے لیے سراپا احتجاج ہیں جس کے بارے میں ان کا خیال ہے کہ اس فیصلے سے وفاقی اتحاد کو نقصان پہنچے گا۔

عوام میں بڑھتے اشتعال نے صوبائی حکومت کو مجبور کیا ہے کہ وہ وفاقی کینال پروجیکٹ کو چیلنج کرے۔ لیکن پی پی پی کی پوزیشن کے حوالے سے کافی شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔ منصوبے پر کام کا آغاز بھی ہوچکا تھا لیکن پارٹی قیادت طویل عرصے سے اس پر خاموشی اختیار کیے ہوئے تھی۔ کچھ حلقے الزام عائد کرتے ہیں کہ صدر آصف زرداری نے گزشتہ سال اس منصوبے کی منظوری دی تھی۔

مخالفین کا کہنا ہے کہ اسٹیبلشمنٹ کی سرپرستی میں شروع کیے جانے والے وفاقی حکومت کے گرین پاکستان انیشی ایٹو میں صوبائی حکومت نے ہزاروں ایکڑ زرعی اراضی دی ہے۔ آرمی چیف اور وزیر اعلیٰ پنجاب نے حال ہی میں جنوبی پنجاب کے چولستان میں گرین پاکستان انیشی ایٹو کا افتتاح کیا ہے جس سے دریائے سندھ سے نکالی جانے والی نئی نہروں سے زمینوں کی آب پاشی ہوگی۔

بہت سے صوبائی رہنماؤں کے لیے مجوزہ کینال پروجیکٹ سے اٹھنے والے تنازع میں کالا باغ ڈیم پروجیکٹ کی گونج سنائی دیتی ہے جس کی تکمیل کے خلاف مظاہروں میں پورا صوبہ سندھ متحد نظر آیا تھا۔ سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ نہریں بننے سے سندھ کی جانب پانی کے بہاؤ میں مزید کمی ہوگی۔ دریائے سندھ میں پانی کی سطح گرنے سے ہر سال ہزاروں ایکڑ اراضی سمندر کی نذر ہوجاتی ہے۔

وفاقی وزیر برائے منصوبہ بندی احسن اقبال نے یقین دہائی کروائی ہے کہ سندھ کے حصے کے پانی کا رخ نہیں موڑا جائے گا لیکن ان کی یقین دہائی بھی اطمینان بخش نہیں۔ پنجاب کے کوٹے میں اضافی پانی نہیں جسے وہ چولستان کینال منصوبے کو دے سکیں تو اس کے پاس نہروں کی گنجائش پوری کرنے کے لیے پانی کہاں سے آئے گا؟

سب سے حیران کُن یہ ہے کہ اتنے حساس مسئلے پر وفاق میں کوئی بات چیت نہیں ہوئی اور نہ ہی اس فیصلے کو مشترکہ مفادات کونسل سے منظور کروایا گیا۔ یہ بھی غیرمعمولی تھا کہ جب منصوبے کو حتمی شکل دی جارہی تھی تب بھی پی پی پی نے کونسل کا اجلاس بلانے کا مطالبہ نہیں کیا جبکہ وہ اس مسئلے پر اس وقت بیدار ہوئی ہے کہ جب پروجیکٹ کے مخالفین سڑکوں پر آچکے ہیں۔

مظاہروں کا آغاز ہوئے کئی ماہ بیت چکے ہیں لیکن عوام کی زندگیوں کو براہِ راست متاثر کرنے والے اس منصوبے کے خلاف اب تک کوئی واضح پالیسی سامنے نہیں آسکی ہے۔ سندھ حکومت نے ان الزامات کی تردید کی ہے کہ وہ وفاق کے سامنے معاملے کو مؤثر انداز میں اٹھانے میں ناکام رہے۔ اس کے باوجود ایک سنگین مسئلے سے نمٹنے میں صوبائی حکومت کی کمزور روش کئی سوالات کو جنم دیتی ہے۔

بات صرف وفاق نہیں بلکہ سیکیورٹی اسٹیبلشمنٹ کی قیادت کے سامنے کھڑے ہونے کی بھی ہے جو گرین پاکستان انیشی ایٹو کی سرپرست ہے۔ موجودہ ہائبرڈ نظام میں ان کے کلیدی کردار کے پیش نظر یہ حیران کُن نہیں کہ پی پی پی براہ راست اس مسئلے پر تصادم سے گریز کررہی ہے۔

پی پی پی رہنما یقینی بنائیں گے کہ سندھ کا مقدمہ لڑنے کے لیے جمہوری اور آئینی راستے اختیار کیے جائیں۔ یہ شاید ایک دانا فیصلہ ہو لیکن وفاقی ڈھانچے کو خطرے میں ڈالنے والے اس مسئلے سے نمٹنے کے لیے یہ کافی نہیں بلکہ اور بھی بہت کچھ درکار ہوگا۔ صوبے میں بڑھتے عدم اطمینان کی پُرتشدد صورت اختیار کرنے سے پہلے کینال پروجیکٹ تنازع سے نمٹنے کی جلد از جلد ضرورت ہے۔ یہ ایک سنگین مسئلہ ہے جو صوبے کو غیرمستحکم کررہا ہے۔ خیبرپختونخوا اور بلوچستان پہلے ہی بےامنی کا شکار ہیں، ایسے میں آبادی کے اعتبار سے ملک کے دوسرے بڑے صوبے میں بڑھتی بے امنی وفاق کے لیے تباہ کن ثابت ہوگی۔

یہ آوازیں بھی اٹھ رہی ہیں کہ کینال پروجیکٹ جسے سندھی قوم پرست گروپس زندگی اور موت کا مسئلہ قرار دے رہے ہیں، روک دیا جائے۔ ان قوم پرست رہنماؤں کے بیانات کافی حد تک سخت ہیں جبکہ پروجیکٹ کے حوالے سے عوام کے خدشات بھی بے بنیاد نہیں۔ ان خدشات کے تدارک کی اصل ذمہ داری وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ پر عائد ہوتی ہے۔ سندھ کے عوام میں غم و غصہ شدید تحفظات پائے جاتے ہیں جن کی شنوائی ہونی چاہیے۔

صوبوں کے درمیان پانی کے تنازعات کے حل کے لیے ایک جامع آئینی طریقہ کار موجود ہے لیکن اس پر عمل نہیں کیا جاتا۔ حکومت سندھ 1991ء کے پانی کی تقسیم کے معاہدے پر مکمل عمل درآمد کرنے میں ناکامی کا الزام وفاقی حکومت پر عائد کرتی ہے۔ نہروں کی تعمیر کا یک طرفہ فیصلہ آئین کی خلاف ورزی ہے۔ گمان ہوتا ہے کہ اقتدار کے ایوانوں میں بیٹھے افراد نے ہماری تاریخ سے کوئی سبق نہیں سیکھا۔

کینال پروجیکٹ پر بڑھتے عوامی مظاہرے، وفاقی حکومت اور صوبائی حکومت کے درمیان عدم اعتماد کی عکاسی کرتے ہیں۔ اس سے انتہا پسند قوم پرست قوتیں مضبوط ہوں گی۔ وسیع پیمانے پر ہوتے یہ مظاہرے اشرافیہ کے تسلط کے خلاف عوام بالخصوص نوجوانوں میں بڑھتی بےچینی کا محض ایک رخ پیش کرتے ہیں۔

یہ صوبے پر دہائیوں سے حکومت کرنے والی پی پی پی کے لیے بھی پیغام ہے۔ گمان ہوتا ہے جیسے پی پی پی جو جمہوری حقوق کی علم بردار بنتی ہے، اب اس کا واحد مفاد اپنے اقتدار کو محفوظ بنانا ہے۔ وہ شاید صوبے کے تیزی سے تبدیل ہوتے سماجی اور سیاسی منظرنامے سے ناواقف ہے۔ مظاہروں کی تازہ ترین لہر پارٹی قیادت کے لیے ویک اپ کال ہونی چاہیے۔


یہ تحریر انگریزی میں پڑھیے۔

زاہد حسین

لکھاری صحافی اور مصنف ہیں. ان کا ای میل ایڈریس [email protected] ہے.

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔
1000 حروف

معزز قارئین، ہمارے کمنٹس سیکشن پر بعض تکنیکی امور انجام دیے جارہے ہیں، بہت جلد اس سیکشن کو آپ کے لیے بحال کردیا جائے گا۔

کارٹون

کارٹون : 26 فروری 2025
کارٹون : 25 فروری 2025