• KHI: Maghrib 6:33pm Isha 7:49pm
  • LHR: Maghrib 5:58pm Isha 7:19pm
  • ISB: Maghrib 6:02pm Isha 7:25pm
  • KHI: Maghrib 6:33pm Isha 7:49pm
  • LHR: Maghrib 5:58pm Isha 7:19pm
  • ISB: Maghrib 6:02pm Isha 7:25pm

امریکی ارکان کانگریس کا مارکو روبیو کو خط،’عمران خان کی رہائی‘ کیلئے پاکستان سے بات چیت پر زور

شائع February 26, 2025
— فائل فوٹو:
— فائل فوٹو:

امریکی ارکان کانگریس جو ولسن اور اگست پلگر نے سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو خط لکھ کر زور دیا ہے کہ وہ سابق وزیراعظم اور پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے بانی عمران خان کی رہائی کو یقینی بنانے کے لیے پاکستان کے ساتھ بات چیت کریں۔

جو ولسن گزشتہ چند ہفتوں کے دوران سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر متعدد پوسٹس میں عمران خان کی رہائی کا مطالبہ کرتے رہے ہیں، بانی پی ٹی آئی اگست 2023 سے متعدد مقدمات میں گرفتار ہیں، جنہیں وہ ’سیاسی‘ قرار دیتے ہیں۔

جو ولسن ایوان کی خارجہ امور اور آرمڈ سروسز کی کمیٹیوں کے ایک اہم رکن ہیں، جبکہ وہ ریپبلکن پالیسی کمیٹی کے سربراہ ہیں اور انہیں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریب سمجھا جاتا ہے، اگست پلگر ریپبلکن اسٹڈی کمیٹی کے سربراہ ہیں۔

جو ولسن اور اگست پلگر نے 25 فروری کو سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو کو مشترکہ خط لکھا، ان کا کہنا تھا کہ ’ہم مطالبہ کرتے ہیں کہ آپ عمران خان کو آزاد کروانے کے لیے پاکستان میں ملٹری رجیم کے ساتھ بات چیت کریں‘۔

جو ولسن نے خط ایکس پر خط جاری کرتے ہوئے لکھا کہ وہ اور اگست پلگر سیکریٹری آف اسٹیٹ مارکو روبیو پر زور دیتے ہیں کہ ’پاکستان میں جمہوریت بحال اور عمران خان کو رہا کروایا جائے‘

ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا کے تعلقات اس وقت مضبوط ہوتے ہیں، جب ان کی بنیاد آزادی پر ہو۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’پاکستان میں عمران خان کو پسند کیا جاتا ہے، اور ان کی رہائی سے امریکا اور پاکستان کے تعلقات میں ایک نئے دور کا آغاز ہو گا‘، مزید کہا گیا ہے کہ پی ٹی آئی کے بانی ’آپ کے پہلے دور حکومت میں وزیر اعظم تھے اور آپ دونوں کے درمیان مضبوط تعلقات تھے‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم آپ پر زور دیتے ہیں کہ جمہوریت، انسانی حقوق، قانون کی حکمرانی، اور پاکستانی عوام کے لیے آزادی صحافت، آزادیِ اجتماع اور آزادیِ اظہار رائے کی بنیادی ضمانتوں کے احترام کے لیے پاکستان کے ساتھ مل کر کام کریں۔

خط میں کہا گیا ہے کہ ’ہم جانتے ہیں کہ آپ کا مقصد دنیا کے ہر ملک کے ساتھ مضبوط ترین تعلقات رکھنا ہے اور پاکستان اور امریکا کے تعلقات کی مضبوطی عمران خان کی آزادی پر منحصر ہے‘۔

واضح رہے کہ 17 فروری 2025 کو کانگریس کے رکن جو ولسن نے سیکریٹری خارجہ مارکو روبیو سے ملاقات کے بعد ٹوئٹ کیا تھا کہ ’مارکو روبیو سے ملاقات کا شکر گزار ہوں، وہ دنیا بھر میں آزادی اور جمہوریت کی اہمیت سے بخوبی واقف ہیں، میں پاکستان میں جمہوریت کی بحالی کے لیے ان کے ساتھ مل کر کام کرنے کا منتظر ہوں۔‘

ایوان نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی کے چیئرمین کانگریس مین برائن ماسٹ نے واضح کیا تھا کہ گو کہ واشنگٹن نے پاکستانی جمہوریت پر تشویش کا اظہار کیا ہے، تاہم امریکی خارجہ پالیسی کا مرکز قومی سلامتی اور اقتصادی ترجیحات ہی رہیں گی۔

رواں مہینے کے اوائل میں جو ولسن نے صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر کو خط لکھا تھا، جس میں اس بات پر زور دیا گیا تھا کہ امریکا اور پاکستان کے مضبوط تعلقات دونوں ممالک کے قومی مفاد میں ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور پاکستان کے درمیان 75 سال سے زائد عرصے سے جاری دوطرفہ تعلقات اس وقت مضبوط ترین سطح پر رہتے ہیں، جب پاکستان اپنے جمہوری اصولوں اور قانون کی بالادستی کو برقرار رکھتا ہے۔

اپنے خط اور تقریر دونوں میں کانگریس مین نے خان کے ساتھ اپنے شدید اختلافات کا اعتراف کیا تھا، بالخصوص روسی صدر ولادیمیر پیوٹن اور چینی کمیونسٹ پارٹی کے بارے میں ان کی کمزور پالیسیوں پر، لیکن ان کا کہنا تھا سیاسی مخالفین کو جمہوری انتخابات میں شکست دی جانی چاہیے نہ کہ من گھڑت سیاسی الزامات پر جیل میں ڈالنا چاہیے۔

1000 حروف

معزز قارئین، ہمارے کمنٹس سیکشن پر بعض تکنیکی امور انجام دیے جارہے ہیں، بہت جلد اس سیکشن کو آپ کے لیے بحال کردیا جائے گا۔

کارٹون

کارٹون : 27 فروری 2025
کارٹون : 26 فروری 2025