پنجاب کی یونیورسٹیز کو ٹیکس ریکوری کے بھیجے گئے فوری نوٹسز ظاہر کرتے ہیں کہ ٹیکس بیوروکریسی کو کس طرح شکاری کلچر نے اپنی گرفت میں لے رکھا ہے۔
اپ ڈیٹدن پہلے
سیاسی حل تلاش کرنے کے بجائے بلوچ یکجہتی کمیٹی کے خلاف کریک ڈاؤن کرکے ریاست ایسے اقدامات کا سہارا لے رہی ہے جن سے بلوچستان کی بےچینی میں مزید اضافہ ہوگا۔
پنجاب کے موقع پرست سیاست دانوں کے اس رویے کی وجہ سے مسئلہ بڑھتا گیا اور آج پورا پاکستان بلوچستان بن گیا ہے جبکہ پاکستان کو 'گریٹر پنجاب' میں تبدیل کیا جا رہا ہے۔
جب تک بی جے پی نے اپنی مذموم سیاست کی وجہ سے اس پورے معاملے کو اپنی فرقہ وارانہ جنونیت میں تبدیل نہیں کیا تب تک کسی کو اورنگزیب یا اس کی قبر سے کوئی مسئلہ نہیں تھا۔
دو سابق سوویت ایجنٹس نے تسلیم کیا کہ بی ایل اے درحقیقت سوویت کا پروجیکٹ تھا جو بلوچستان میں عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش تھی کیونکہ پاکستان افغان جنگ میں سوویت کے خلاف تھا۔
چین نے انسداد دہشت گردی میں پاکستان کی مدد کرنے پر آمادگی ظاہر کی ہے، اب سوالات اٹھ رہے ہیں کہ کیا چین پاکستان کی فوج کو بی ایل اے سے لڑنے کے لیے براہ راست مدد فراہم کرسکتا ہے؟
ٹرمپ نے کہا، 'اگر آپ دہشتگردی کی حمایت کرتے ہیں تو امریکا میں آپ کی جگہ نہیں'، معیار یہی ہے تو ٹرمپ، ان کی کابینہ اور سپورٹرز کو بھی اسرائیل کی حمایت پر امریکا سے بےدخل کردینا چاہیے۔
ایک ایسے کڑے وقت میں کہ جب پریس حملے کی زد میں ہے، ٹاک شوز میں کی جانے والی معذرتوں نے دھچکا پہنچایا ہے کیونکہ یہ معذرتیں نقطہ نظر پیش کرنے پر کی گئی ہیں۔
بہ ظاہر ہائبرڈ ماڈل واحد حل تھا لیکن اندازہ نہیں تھا کہ یہ غلطی نہ صرف بھارت کو فائدہ پہنچائے گی بلکہ پاکستان میں ہونے والے میگا ایونٹ کا مزہ بھی کرکرا کر دے گی۔
نیوزی لینڈ کے خلاف ون ڈے سیریز کے لیے منتخب ٹیم من وعن وہی ہے جس نے چیمپیئنز ٹرافی میں قومی پرچم سرنگوں کیا تھا بس ٹیم سے کراچی کی نمائندگی ختم کردی گئی ہے۔
امریکی نائب صدر نے زیلنسکی کو جال میں پھنسایا اور وہ غلطی کربیٹھے، بہ ظاہر یہ اچانک شروع ہونے والی بحث تھی لیکن میرے خیال میں یہ منصوبہ بندی کے تحت ہوا۔
چونکہ شادی بہت سے حقوق اور ذمہ داریوں کا نام ہے، اس لیے دونوں فریقوں کی حفاظت اور تنازعات یا ان کے حقوق کی خلاف ورزیوں کو روکنے کے لیے نکاح نامہ واضح اور مؤثر ہونا چاہیے۔
ملک کی تین صوبائی حکومتیں جہاں تین مختلف سیاسی جماعتوں کی حکومت ہے، تقریباً ایک ہی وقت میں ہائر ایجوکیشن کے شعبے کو اپنے ماتحت کرنے کی کوشش کررہی ہیں، کیا یہ محض اتفاق ہے؟
آلِ سعود خاندان نے برطانیہ کے کرنل ٹی ای لارنس سے لے کر امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دور تک ایک طویل سفر طے کیا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ دنیا بھی ایک اہم دوراہے پر کھڑی ہے۔
کل کوہلی کی اننگز دیکھ کر پاکستانی شائقین حسد و رشک میں مبتلا رہے کہ وہ آخر کب کسی پاکستانی بلے باز کو کسی بڑے میچ میں ایسی ہی شاندار اننگز کھیلتا دیکھ پائیں گے۔
1985ء میں کراچی کے علاقے ناظم آباد میں بشریٰ زیدی کے حادثے سے لے کر چند ماہ قبل کارساز روڈ پر باپ بیٹی کی المناک اموات تک، کراچی میں ٹریفک حادثات کی فہرست بہت طویل ہے۔
پاکستان کا مسئلہ کارکردگی میں غیر مستقل مزاجی ہے جبکہ زمبابوے اور نیپال جیسی ٹیموں کے خلاف جیت پر جشن منانے کی روایت نے ٹیم کو سہل پسند اور سخت جنگ سے معذور بنادیا ہے۔
اگر ایک استاد کا خیال ہے کہ بچے کو یہ یاد رکھنے کے لیے ہوم ورک کرنے کی ضرورت ہے کہ اسے کلاس میں کیا پڑھایا گیا ہے تو ہمیں طریقہِ تدریس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔
آسام میں چائے کے باغیچوں سے لے کر ملتان میں آم کے باغات تک، موسمیاتی تبدیلی سب کو یکساں متاثر کررہی ہے تو ایسے میں ہم سب کا ردعمل بھی مشترکہ ہونا چاہیے۔
چین نہیں چاہتا کہ پاکستان بیجنگ کے ساتھ اپنے تعلقات کا فائدہ اٹھائے اور بیک وقت واشنگٹن کے ساتھ اپنے تعلقات استوار کرے خاص طور پر جب پاکستان اور امریکا کے تعلقات کشیدہ ہوں۔
امریکی صدر رچرڈ نکسن بھی کھلے عام دھمکیاں دیتے تھے جبکہ ان کے سفارت کار عالمی رہنماؤں کو کہتے تھے کہ صدر نکسن کچھ بھی کرسکتے ہیں لہٰذا انہیں خوش رکھنے کی کوشش کی جائے۔