پاکستان

جامعہ کراچی کی طالبات کو ہراساں کرنے والےملزمان گرفتار

ملزمان گاڑی میں یا جامعہ میں کسی ویران مقام پر بیٹھے لڑکوں اور لڑکیوں کی ویڈیوز بناکر انہیں بلیک میل کرتے تھے، ایڈیشنل ڈائریکٹر

وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے دعویٰ کیا ہے کہ انہوں نے دو مبینہ ملزمان کو گرفتار کیا ہے جو جامعہ کراچی کی متعدد طالبات کو ہراساں کرنے میں ملوث ہیں۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ادارے کے سائبر کرائم وِنگ کے ایڈیشنل ڈائریکٹر عمران ریاض کا کہنا ہے کہ ملزمان کی شناخت فضل داد اور عدنان علی کے نام سے کی گئی جو کراچی یونیوسٹی کے اسٹاف ٹاؤن میں رہتے ہیں۔

گرفتار ملزمان میں سے ایک رکشہ ڈرائیور ہے جبکہ دوسرا جامعہ کے ایک استاد کا ڈرائیور ہے۔

انہوں نے کہا کہ ملزمان گاڑی یا جامعہ میں کسی ویران مقام پر بیٹھے لڑکوں اور لڑکیوں کی ویڈیوز بناتے تھے۔

مزید پڑھیں: ’سال 2021 میں سائبر جرائم کی ایک لاکھ سے زائد شکایات رپورٹ ہوئیں‘

ایڈیشنل ڈائریکٹر نے شکایت کنندہ کو ’بہادر لڑکی‘ قرار دیتے ہوئے کہا کہ لڑکی نے ملزمان کے خلاف شکایت درج کروائی کہ ملزمان اسے کہہ رہے ہیں کہ وہ اکیلے میں ملے اور رقم دے یا نتائج بھگتنے کو تیار ہوجائے۔

عہدیدار نے بتایا کہ ملزمان سے برآمد ہونے والے ڈیجیٹل آلات قبضے میں لے کر انہیں فرانزک تجزیے کے لیے بھیج دیا گیا تھا۔

فرانزک کے بعد موصول ہونے والی رپورٹ سے معلوم ہوا کہ ملزمان جامعہ کراچی کی 14 طالبات کو بلیک میل اور ہراساں کر رہے تھے۔

یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کو سائبر کرائم قانون کا غلط استعمال روکنے کی ہدایت

انہوں نے مزید بتایا کہ ان کے علاوہ ایک اور طالبہ نے رازداری خدشات کے باعث رپورٹ درج کروانے سے انکار کردیا۔

ایف آئی اے کے جاری کردہ بیان میں کہا گیا کہ ’دیگر ملزمان کے ملوث ہونے کے شبے میں مزید تحقیقات جاری ہیں‘۔

ڈر تھا کہ ’گوری خان‘ مر جائیں گی، شاہ رخ خان

مسلم لیگ (ن) کے رہنما صحافیوں کے حوالے سے نازیبا گفتگو پر معافی مانگیں، پی ایف یو جے

بھارتی وزیر اعظم ’ناقص سیکیورٹی‘ کے باعث پھنس گئے