سائنس و ٹیکنالوجی

واٹس ایپ میسیجز کا از خود جواب دینے کے لیے گوگل کا اے آئی فیچر پیش کرنے کا امکان

گوگل کے ماہرین اے آئی جیمنائی کو ڈیفالٹ ایپ کی طرح اینڈرائیڈ سسٹم کا حصہ بنانے پر کام کر رہے ہیں، جس کے تحت مختلف ایپلی کیشنز پر بھی جیمنائی کو استعمال کیا جا سکے گا۔

خبریں ہیں کہ انٹرنیٹ ٹیکنالوجی کمپنی گوگل اپنے آرٹیفیشل انٹیلی جنس (اے آئی) سسٹم ”جیمنائی“ کو اینڈرائیڈ فون میں ڈیفالٹ ایپ کے طور پر شامل کرے گا، جس سے واٹس ایپ سمیت دیگر میسیجز ایپلی کیشن پر وہ از خود جواب دینے لگے گا۔

اینڈرائیڈ کی اپڈیٹس پر نظر رکھنے والی ویب سائٹ کے مطابق گوگل کی جانب سے جیمنائی کو اپنی دیگر ایپس اور ویب سائٹس سے ایکسٹینشن کے ذریعے ملانے کا کام پہلے سے ہی جاری تھا لیکن اب گوگل جیمنائی کو دیگر ایپس کے ذریعے بھی ملانے کا کام کر رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق گوگل کے ماہرین اے آئی جیمنائی کو ڈیفالٹ ایپ کی طرح اینڈرائیڈ سسٹم کا حصہ بنانے پر کام کر رہے ہیں، جس کے تحت مختلف ایپلی کیشنز پر بھی جیمنائی کو استعمال کیا جا سکے گا۔

گوگل کا مقصد ہے کہ جیمنائی کو گوگل اسسٹنٹ کے طور پر استعمال کیا جائے اور اسے مختلف ایپلی کیشنز اور ویب سائٹس پر بھی اے آئی ٹول یا چیٹ بوٹ کے طور پر استعمال کیا جائے۔

گوگل کے ماہرین نے جیمنائی کو اینڈرائیڈ کا حصہ بنا کر واٹس ایپ سمیت موبائل میسینجر کو بھی اس سے منسلک کرنے پر کام کر رہے ہیں، جس کے بعد جیمنائی کو صرف ہدایات دے کر واٹس ایپ پر ملنے والے میسیجز کا ازخود ریپلائی دینے اور کالز کرنے کے لیے بھی استعمال کیا جا سکے گا۔

یعنی جیمنائی اینڈرائیڈ فونز پر واٹس ایپ ایسے ہی ڈفالٹ ایپ کے طور پر کام کرے گا، جس طرح اس وقت واٹس ایپ کے اپنے اے آئی چیٹ بوٹ کام کر رہے ہیں۔

گوگل نہ صرف واٹس ایپ بلکہ یوٹیوٹ، اسپاٹی فائے، موبائل ڈیوائس کے کانٹیکٹ نمبرز، موبائل میسینجر اور مختلف گوگل سروسز پر بھی جیمنائی کو ڈیفالٹ ایپ کے طور پر شامل کرنے پر کام کر رہا ہے۔

آئی فون 16 کو آئندہ ماہ متعارف کرائے جانے کا امکان

ملک بھر میں انٹرنیٹ سروس اکتوبر تک سست رہے گی، پی ٹی اے نے خبردار کردیا

کھانسنے اور چھینکنے سے بیماریوں کا پتا لگانے والا اے آئی ٹول تیار