• KHI: Zuhr 12:34pm Asr 5:17pm
  • LHR: Zuhr 12:05pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:10pm Asr 5:11pm
  • KHI: Zuhr 12:34pm Asr 5:17pm
  • LHR: Zuhr 12:05pm Asr 5:01pm
  • ISB: Zuhr 12:10pm Asr 5:11pm

طلعت حسین: تہذیب و تمدن کا عہد تمام ہوا

طلعت حسین جیسی شخصیات ہم سے کبھی نہیں بچھڑتیں بلکہ یاد کی صورت میں سفرِ زندگی میں ہمارے ساتھ ساتھ رہتی ہیں۔
شائع May 27, 2024 اپ ڈیٹ May 29, 2024

پاکستانی شوبز کے موجودہ منظرنامے پر ایسے فنکاروں کی تعداد انگلیوں پر گنی جاسکتی ہے جن کی آنکھیں قیام پاکستان کی گواہ تھیں اور جنہوں نے ایک نئے ملک کو معرض وجود میں آتے دیکھا۔ وہ ریڈیو پاکستان کی شاندار تہذیب اور پاکستان ٹیلی وژن کے سنہری ادوار سے واقف تھے جن کے ہاں شوبز صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ تربیت کا بڑا حوالہ تھی۔ وہ جنہوں نے نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں اپنی فنکارانہ صلاحیتوں سے ملک کا نام روشن کیا۔ انہیں شخصیات میں سے ایک طلعت حسین تھے، اب جو دنیا سے رخصت ہوچکے۔

ہم جب طلعت حسین کے باب زیست کے اوراق پلٹتے ہیں تو ہمیں اندازہ ہوتا ہے کہ وہ ایک بڑے فنکار ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑے آدمی بھی تھے۔ انہوں نے غیرمنقسم ہندوستان میں آنکھ کھولی پھر تقسیم اور ہجرت کے پُر آشوب ادوار سے گزرے۔ اپنے وطن سے ٹوٹ کر محبت کی۔ مغربی دنیا سے اپنے پیشے کا علم حاصل کیا پھر ریڈیو کے مائیکروفون سے لے کر چھوٹی اور بڑی اسکرین پر اس فن کا شاندار مظاہرہ کیا۔ کئی نسلوں کی آبیاری کی اور زندگی کی آخری سانسوں تک اپنے اندر کے انسان کے تعاقب میں مصروف عمل رہے۔

وہ پروفیسر بننا چاہتے تھے مگر زندگی انہیں فن اداکاری کی طرف لے گئی۔ پڑھنے لکھنے کے شوق سے انہوں نے اپنی اس خواہش کو عملی جامہ پہنایا اور پھر تدریس کے شعبے سے جڑ کر اپنے خواب کو تعبیر دی۔

میرے اور ان کے تقریباً دو دہائیوں سے ذاتی مراسم تھے۔ انہوں نے ہمیشہ مجھے بھی محبت دی، میرے کام کی حوصلہ افزائی کی اور اپنے خیالات کی روشنی سے میرے ذہن کی تاریکی کو دور کیا۔ وہ ایک باعلم شخصیت تھے جس نے زندگی کی نہج تک پہنچ کر اپنے اندر کے پروفیسر کو دریافت کرلیا تھا۔ وہ ایک ایسے دانشور تھے جو اپنے ملک کو حقیقی معنوں میں روشن خیال اور تہذیب سے آراستہ دیکھنا چاہتے تھے۔

ان کی زندگی کے اوراق میں سے چند جھلکیاں پیش خدمت ہیں تاکہ آپ اس عظیم فنکار کی زندگی کے نشیب و فراز سے واقف ہوسکیں جنہوں نے اپنے فن کے ذریعے پاکستان کا نام روشن کیا۔

ذاتی زندگی کے ابتدائی نقوش

ان کا مکمل نام طلعت حسین وارثی تھا۔ والد کا نام الطاف حسین وارثی جبکہ والدہ حیات النسا بیگم المعروف شائستہ بیگم تھیں۔ انہوں نے ایک علمی و ادبی گھرانے میں آنکھ کھولی، جس کا تعلق کشمیر سے تھا۔ان کے دادا صاحب دیوان شاعر بھی تھے۔ان کی تاریخ پیدائش 18 ستمبر 1940جبکہ جائے پیدائش پٹیالا (غیرمنقسم ہندوستان) تھی،جہاں ان کے والد سرکاری ملازمت کے سلسلے میں رہائش پذیر تھے۔ تین بھائیوں میں وہ سب سے بڑے تھے۔ان کا ددھیال لاہور میں جبکہ ننھیال میسور میں تھا۔ ان کی عمر صرف دو سال تھی،تب سے وہ اپنے حافظے میں بچپن کی یادیں محفوظ کیے ہوئے تھے۔

  طلعت حسین نے ریڈیائی ڈراموں میں بھی اپنے فن کےجوہر دکھائے—تصویر: فیس بُک
طلعت حسین نے ریڈیائی ڈراموں میں بھی اپنے فن کےجوہر دکھائے—تصویر: فیس بُک

دہلی کی یادیں ان کے ابتدائی زمانہ طالب علمی کی عکاسی کرتی ہیں، جہاں والد اپنی سرکاری ملازمت کے سلسلے میں رہائش پذیر ہوئے تھے۔ ان کو اپنے خانوادے سے تہذیب، شرافت کے ساتھ ساتھ، شعر و ادب اور صداکاری ورثے میں ملی۔ وہ والدین کے ہمراہ کم عمری ہی سے فلمیں دیکھنے سینما جایاکرتے تھے، ان کے والد نے کچھ عرصہ بطور فلم ساز بھی کام کیا، جبکہ والدہ آل انڈیا ریڈیو سے منسلک تھیں، جہاں وہ زیڈ اے بخاری جیسی نابغہ روزگار شخصیات کی رفیق کار تھیں۔

والدین کے ہمراہ اپنی آنکھوں سے ہندوستان کی تقسیم اور قیام پاکستان کو دیکھا۔ ہجرت اور خونریزی ،جس کاذکر سعادت حسن منٹو کی کہانیاں کرتیں، وہ انہوں نے اپنے سامنے ہوتے ہوئے دیکھا۔ پٹیالا سے دہلی اور پھر دہلی سے براستہ بمبئی اور کراچی تک کے سفر میں خون میں لت پت کئی مناظر دیکھے،جس کاآج کوئی تصور بھی نہیں کرسکتا۔اس ننھے ذہن نے اس کا گہرا اثر قبول کیااوراس کے نتیجے میں وہ ایک محب وطن پاکستانی بنے،جنہوں نے وطن سے ٹوٹ کر محبت کی اوراس کا نام پوری دنیا میں اپنے فن کے ذریعے روشن کیا۔ ڈاکٹر ہما میر نے طلعت حسین سے کئی مکالمات کیے اور ان کی سوانح عمری قلم بندی کی،وہ تقسیم سے پہلے کے اس دور کو ان کی زندگی کا پہلا دور کہتی ہیں۔

ڈاکٹر ہما میر نے طلعت حسین سے کئی مکالمات کیے اور ان کی سوانح عمری قلم بندی کی، وہ تقسیم سے پہلے کے اس دور کو ان کی زندگی کا پہلا دور کہتی ہیں۔

ذاتی زندگی کا ایک اور زاویہ

خاندان کے ہمراہ ایک کرب سے گزر کر نوزائید ملک پاکستان میں پہنچے مگر اس سے زیادہ تکلیف تب ہوئی جب والد صاحب کی عمر بھر کی جمع پونجی اپنے ہی وطن میں لوٹ لی گئی۔ والدین کو اس تکلیف میں دیکھ کر وہ بے انتہا دکھی ہوئے۔ بچپن میں ٹائیفائیڈ کی بیماری سے کئی سال تک لڑے۔ اپنے تعلیمی سالوں میں وہ بیماری سے نبرد آزما رہے جس کی وجہ سے تعلیم میں کچھ پیچھے رہ گئے۔

بہرحال وہ 14 سال کے تھے جب انہیں کلنٹن روڈ پر واقع پرائمری اسکول میں داخل کروایا گیا جس کے بعد وہ جیل روڈ والے اسکول میں زیرِتعلیم رہے۔ چوتھی جماعت میں ملک بھر میں اول پوزیشن حاصل کی اور دن رات سخت محنت سے پڑھائی کرکے اعلیٰ مقام حاصل کیا۔ والد کی صحبت میں انگریزی ادب سے رغبت ہوئی۔ اس کے ساتھ ساتھ موسیقی، مصوری اور کسرت کی طرف بھی رجحان ہوا ساتھ ہی کرکٹ بھی کھیلی۔

  پی ٹی وی کے ڈرامے تعبیر میں مشکبار فاطمہ کے ساتھ—تصویر: فیس بُک
پی ٹی وی کے ڈرامے تعبیر میں مشکبار فاطمہ کے ساتھ—تصویر: فیس بُک

میٹرک کرنے کے بعد کراچی کے اسلامیہ کالج میں داخلہ ہوا جہاں انہیں حسن عسکری جیسے اساتذہ کی صحبت نصیب ہوئی جو ان کے انگریزی کے استاد تھے۔ ان کی زندگی کا یہی وہ موڑ تھا جہاں ادب اور دانشوری ان کی زندگی میں شامل ہوئی۔ انہوں نے ادب، فلسفہ اور دیگر فنون لطیفہ کو بہ غور پڑھا۔ اس وقت کے بڑے دانشوروں اور کراچی میں دو مکاتب فکر کے بانیوں، قمر جمیل اور سلیم احمد سے فیض یاب ہوئے۔

عالمی ادب سے شناسائی حاصل کی اور سب سے بڑھ کر پاکستان کے اس سنہری سماج میں سانس لی جب علم سب سے بڑی دولت ہوا کرتا تھا۔ تہذیب اور شرافت معاشرے کا اوڑھنا بچھونا تھی اور طلعت حسین اس دور کی آخری علامتوں میں سے ایک تھے۔ اب ہمیں بھلا کون بتائے گا کہ کس عالمی ادیب کی کہانی میں سماج کا کون سا دکھ اور خوشی پنہاں ہے۔

عملی حیات کے گوشے

وہ زمانہ طالب علمی ریڈیو پاکستان میں بچوں کے پروگرامز میں شریک ہوتے رہے۔ یہ ان کی فنی زندگی کا نقطہ آغاز تھا۔ عمر تھوڑی پختہ ہوئی تو ریڈیو پاکستان پر قسمت آزمائی اور آڈیشن میں کامیاب ہوگئے۔ چھوٹے موٹے کرداروں کو ادا کرنے لگے جس سے ان کے اندر کا فنکار باہر آیا۔ انہوں نے اسی دور میں سینما میں ملازمت بھی کی۔ ریڈیو کے پروگرام اسٹوڈیو 9 سمیت دیگر مختلف پروگرامز میں بھی کام کرتے رہے جن میں خبروں پر تبصرے وغیرہ شامل ہوتے تھے۔ یہ 1950ء کی دہائی کی بات ہے۔

1960ء کی دہائی میں پاکستان میں ٹیلی وژن متعارف ہوا تو انہوں نے وہاں بھی کامیاب آڈیشن کے ذریعے اپنی فنی زندگی کی شروعات کی۔ 1970ء کی دہائی تک آتے آتے وہ خاصے مقبول ہوچکے تھے۔ جامعہ کراچی میں دورانِ تعلیم انہوں نے اپنی شریک حیات ’رخشندہ‘ کو پسند کیا جن سے 1972ء میں رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئے۔ دونوں کے تین بچے ہوئے جن میں سے بڑی بیٹی ’تزین‘ شعبہ اداکاری سے وابستہ ہونے کے ساتھ ساتھ آرٹ کے شعبے سے بھی وابستہ ہیں۔

   طلعت حسین کی بیٹی تزین بھی شوبز سے وابستہ ہیں—تصویر: فیس بُک
طلعت حسین کی بیٹی تزین بھی شوبز سے وابستہ ہیں—تصویر: فیس بُک

شادی کے کچھ عرصہ بعد طلعت حسین اداکاری کی مزید تعلیم حاصل کرنے کے لیے لندن چلے گئے اور وہاں سے ’لندن اکیڈمی آف میوزک اور ڈرامیٹک آرٹس‘ سے تعلیم مکمل کی۔ تعلیمی اخراجات پورے کرنے کے لیے کئی ریسٹورنٹس میں نوکری کرنے کے علاوہ بی بی سی میں بھی جز وقتی کام کرتے رہے اور وطن واپس آکر اپنے نام کا سکہ جمایا۔

براڈکاسٹر کے طور پر

انہوں نے اپنی زندگی میں سب سے زیادہ اہمیت اس تربیت کو دی جو انہوں نے ریڈیو کے میڈیم سے حاصل کی تھی۔ وہ کئی بار اپنی زندگی میں اس بات کا اعتراف کرچکے تھے کہ ریڈیو نے انہیں فنکار بنایا۔ وہ صداکاری سے اداکاری کی طرف آئے۔ انہوں نے نہ صرف ڈراموں میں اپنی آواز کا جادو جگایا بلکہ کئی شعرا کے کلام کو اپنی آواز بھی دی جن میں سرفہرست ’ن-م راشد‘ کا کلام ہے جو کیسٹ کی شکل میں ریلیز بھی ہوا تھا۔

انہوں نے مرثیہ خوانی بھی کی اور مختلف دستاویزی فلموں میں بھی ان کی آواز کو استعمال کیا گیا۔ مختلف کمرشلز میں ان کی آواز ایک جانی پہچانی آواز تھی۔ ریڈیو پاکستان کے علاوہ انہوں نے بی بی سی اور وائس آف امریکا میں بھی کام کرکے اپنی صلاحیتوں کو اجاگر کیا اور یہ ثابت کیا وہ ایک اچھے براڈ کاسٹر ہیں۔ اسٹوڈیو نائن سے پیش ہونے والے ڈراموں میں طلعت حسین کے نبھائے ہوئے کردار بھلا کون فراموش کرسکتا ہے۔ ریڈیو کی اس تربیت نے تھیٹر، ٹیلی وژن اور فلم کی دنیا میں طلعت حسین کی بہت معاونت کی۔

اداکار اور ایک مدرس کے طور پر

ٹیلی وژن کی ابتدا سے لے کر زندگی کے آخری برسوں تک وہ ٹیلی وژن کے لیے کام کر رہے تھے۔ انہوں نے اس میڈیم میں اداکاری بھی کی، میزبانی کے فرائض بھی انجام دیے اور لاتعداد پروگرامز میں بطور مہمان بھی شرکت کی۔ ٹیلی وژن پر ان کے فنی کریئر کی ابتدا ’ارجمند‘ نامی ڈرامے سے ہوئی۔ اس کے بعد بندش، کاروان، انسان اور آدمی، عید کا جوڑا، فنونی لطیفے، ہوائیں، کشکول، نقش ثانی، پرچھائیاں، پانچواں موسم، تھوڑی خوشی تھوڑا غم، دیس پردیس، دی کیسل ایک امید، ٹائپسٹ، منڈی، قصہ چہار درویش، روزن زنداں، پناہ، مہرالنسا، آنسو، من مائل اور 2023ء میں نشر ہونے والا آخری ڈراما ’نہ تمہیں خبرنہ ہمیں خبر‘ شامل ہیں۔

  پی ٹی وی کے ڈرامے ٹائپسٹ میں طلعت حسین اور خالدہ ریاست کی ایک جھلک—تصویر: یوٹیوب
پی ٹی وی کے ڈرامے ٹائپسٹ میں طلعت حسین اور خالدہ ریاست کی ایک جھلک—تصویر: یوٹیوب

اسی طرح تھیٹر کی دنیا میں بھی بہت نام کیا۔ ان کے چند مشہور کھیلوں میں گڑیا گھر، حبیب ماموں، سفید خون، سی گل اور دیگر کھیل شامل ہیں۔ اسی طرح انہوں نے فلمی دنیا میں بھی نام کمایا۔ انہوں نے 1962ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’چراغ جلتا رہا‘ سے آغاز کیا اور 2017ء میں ریلیز ہونے والی فلم ’پروجیکٹ غازی‘ ان کی آخری فلم تھی۔ ایک مدرس کے طور پر ’نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس‘ سے وابستہ ہوئے اور نوجوانوں کی ایک بڑی تعداد کو اداکاری کے رموز سکھائے۔

بین الاقوامی اداکار کے طور پر شہرت

انہوں نے 1971ء میں اپنی زندگی کی پہلی بین الاقوامی فلم ’مالکوکوگلو اولم فیدیلاری‘ میں کام کیا لیکن انہیں اصل شہرت 2005ء میں ناروے کی ایک فلم ’امپورٹ ایکسپورٹ‘ میں کام کرنے سے ملی۔ اس فلم نے اسکینڈی نیوین ممالک (شمالی یورپ کے ممالک) میں طلعت حسین کی شہرت میں حد درجہ اضافہ کیا۔ ان کے ساتھ دیگر پاکستانی فنکاروں نے بھی کام کیا تھا جن میں راحت کاظمی و دیگر شامل تھے لیکن انہیں زیادہ شہرت ملی جبکہ انہیں اسکینڈی نیوین ممالک کے آسکر ایوارڈ سمجھے جانے والی ایوارڈز تقریب میں بہترین معاون اداکار کا اعزاز بھی ملا۔

اسی طرح انہوں نے 1989ء میں برطانوی ڈراما سیریز ’ٹریفک‘ اور 1991ء میں ’فیملی پرائڈ ’میں بھی اپنے فن کے جوہر دکھائے اور مغربی ناظرین کو اپنی طرف متوجہ کیا۔

اس کے بعد 1989ء میں وہ بھارتی فلم ’سوتن کی بیٹی‘ میں جلوہ گر ہوئے۔ انہوں نے اس فلم میں مختصر لیکن پُراثر کردار نبھایا۔ اس فلم کے سلسلے میں جب وہ بھارت گئے تو اس وقت گلزار ’مرزاغالب‘ بنارہے تھے۔ اس موقع پر ان سے ملاقات ہوئی اور ان کے سیٹ پر شوٹنگ بھی دیکھی۔ ان کا ڈراما ’مہرالنسا‘ جو پاکستان میں انڈس ٹی وی پر نشر ہوا تھا، اسے بھارتی ٹیلی وژن ’زی ٹی وی‘ پر بھی نشر کیا گیا اور وہاں کے فنکاروں اور ناظرین نے اسے بہت پسند کیا۔

1998ء میں قائداعظم محمد علی جناح پر معروف فلم ساز جمیل دہلوی نے فلم ’جناح‘ بنائی جس میں اگرچہ طلعت حسین کا کردار بہت مختصر تھا لیکن اس کردار کی چھاپ آج تک فلم بینوں کے ذہنوں پر نقش ہے۔ اس فلم میں کئی دیگر پاکستانی فنکاروں نے بھی کام کیا مگر طلعت حسین صاحب کا نبھایا ہوا یہ مختصر کردار آج بھی اداکاری کے شعبے میں مستند حوالہ ہے۔

عینی شاہد اور نیاز مندی کی روایت

میں نے بطور صحافی جب اپنی پہلی ملازمت شروع کی تو یہ میری جامعہ کراچی میں تعلیم کا آخری سال (2009ء) تھا۔ اس زمانے میں مجھے طلعت حسین کا انٹرویو کرنے کا موقع ملا جس کے ذریعے میں نے ان کی شخصیت اور فن کو سمجھا لیکن اس انٹرویو سے زیادہ وہ تعلق اہم تھا جو ایک نیاز مندی کا تھا۔ انہوں نے مجھے ہمیشہ نہایت شفقت دی۔ ان کی اور میری دوستی کی بنیادی وجہ کتابوں کا مطالعہ تھا۔ وہ انگریزی ادب، اردو ادب، تاریخ، سماج، فلسفہ اور سیاسیات سمیت ہمہ جہت موضوعات کے وسیع المطالعہ قاری تھے۔

وہ اکثر مجھے چائے اور کافی پر ساتھ لے جاتے جہاں ہم کتابوں کے بارے میں ڈھیروں باتیں کرتے۔ ان کے ساتھ گھومتے پھرتے مجھے اندازہ ہوا کہ ’اسٹارڈم ’کیا چیز ہوتی ہے۔ مشہور ہونا کیا ہوتا ہے۔ ان کے ساتھ رہ کر مجھے اندازہ ہوا کہ شہرت بعض اوقات آپ کے لیے پریشانی کا باعث بنتی ہے کیونکہ آپ اپنی ذاتی زندگی انجوائے نہیں کرپاتے اور اس چیز کو میں نے طلعت حسین صاحب کے ساتھ رہ کر کافی گہرائی سے محسوس کیا۔

نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس میں ان کے ساتھ گزارے ہوئے دنوں کی یادیں بھی بہت خوشگوار ہیں جہاں میں ڈاکٹر انور سجاد، راحت کاظمی، احمد ہمیش، خالد احمد، ارشد محمود کے ساتھ ساتھ طلعت حسین صاحب سے گفت و شنید کیا کرتا تھا۔ وہ دنیا بھر کے ناولز پڑھتے تھے۔ انہوں نے خود بھی کچھ کہانیاں لکھیں اور ناول کے موضوع پر خود بھی طبع آزمائی کرنا چاہتے تھے۔ البتہ کچھ برسوں سے ان کی علالت ان سب کے آڑے آتی رہی۔

  طلعت حسین اور ڈاکٹر انور سجاد کے ساتھ لکھاری کی یادگار تصویر—تصویر: لکھاری
طلعت حسین اور ڈاکٹر انور سجاد کے ساتھ لکھاری کی یادگار تصویر—تصویر: لکھاری

میری ان سے ایک یادگار ملاقات ماضی قریب میں ایک نجی چینل کے ٹاک شو میں ہوئی جس کے کراچی اسٹوڈیو میں طلعت صاحب اور میں موجود تھے جبکہ لاہور سے خلیل الرحمن قمر موجود تھے۔ اس موقع پر انہوں نے مجھے اپنی صحافت کے ابتدائی دن یاد کروائے اور میری محنت کی تعریف کی۔

میں ان کی محبتوں کا مقروض ہوں۔ وہ ہمیشہ اپنی محبت مجھ پر نچھاور کرتے رہے اور میرے جیسے کئی طلبا، صحافی، مداح اور ان کے رفقا تھے جن پر انہوں نے اپنی محبتوں کو نچھاور کیا۔ میں اس کا عینی شاہد ہوں اور اس نیاز مندی پر مجھے فخر ہے۔ ایسی شخصیات کبھی ہم سے نہیں بچھڑتیں بلکہ یاد کی صورت میں ہمارے ساتھ محو سفر زندگی ہوتی ہیں۔

انہوں نے ہمیشہ صاف اور کھری زندگی بسر کی جبکہ وہ شوبز کی روایتی چکا چوند سے دور رہے جس کو پسند کرتے کھل کر کہتے اور جو ناپسند ہوتا اسے مودب انداز میں ناپسندیدہ ہی کہتے جیسے مثال کے طور پر خالدہ ریاست اور راحت کاظمی کے لیے وہ ہمیشہ پسندیدہ کا لفظ استعمال کرتے لیکن شعیب منصور جیسے ہدایت کار کے ساتھ ان کی لغت میں ناپسندیدہ کا لفظ درج تھا۔ اداکاری کی دنیا میں ’مکالمہ‘ ادا کرنے میں ان کا وقفہ لینے کا انداز اور مکالمات کے درمیان خاموشی بہت مشہور ہوئی۔ سب نے ان کو اپنی اپنی پسند سے مختلف القابات سے نوازا۔

میری کتاب ’باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے‘ میں شامل انٹرویو میں انہوں نے پاکستانی شوبز پر بلاجھجک بات کی۔ ٹیلی وژن، فلم، تھیٹر، ریڈیو کے تجربات بیان کرتے ہوئے ہمارے سماج کی تنزلی کا دکھ بھی بیان کیا۔ میں نے ان سے پوچھا کہ کیا اداکاری کے ذریعے آپ نے ناظرین کی تربیت کی تو جواباً کہا کہ ’پتا نہیں کہ میں تربیت کرسکا یا نہیں، البتہ میری کوشش رہی کہ لوگوں کو اس کردار کے تمام پہلو دکھا سکوں جو عام آنکھ سے پوشیدہ ہوتے ہیں‘۔ یہ عاجزی و انکساری ان کی شخصیت کا خاصا تھی جس پر وہ تادم مرگ قائم رہے۔

وہ ’ڈیمنشیا‘ کے عارضے میں مبتلا تھے۔ ان کے ذہن سے نام اور یادیں مٹ رہی تھیں۔ وہ بھول رہے تھے مگر کیا یہ ممکن ہے کہ زمانہ انہیں بھلا سکے؟ پاکستانی تھیٹر، ریڈیو، ٹیلی وژن اور فلم کی تاریخ میں وہ ہمیشہ زندہ رہیں گے۔

ان کی رحلت سے یہ محسوس ہورہا ہے کہ کوئی اپنا بہت قریبی عزیز چلا گیا ہو۔ بہت کم ایسا ہوتا ہے کہ کسی کا پرسہ لکھتے ہوئے اتنی اداسی ہو جتنی یہ تحریر لکھتے ہوئے مجھے محسوس ہورہی ہے۔ دنیا کے لیے وہ ایک مقبول صداکار اور ممتاز اداکار تھے لیکن میرے لیے وہ ایک شفیق استاد تھے جس نے میری انگلی تھام کر مجھے دنیا دکھائی، گلیمر کی وہ دنیا جس سے میں واقف نہیں تھا۔

حوالہ جات

  • ڈان اخبار، انگریزی اخبار
  • روزنامہ جنگ، اردو اخبار
  • یہ ہیں طلعت حسین: سوانح عمری، مصنفہ ڈاکٹر ہما میر
  • باتوں کی پیالی میں ٹھنڈی چائے، مصنف:خرم سہیل
خرم سہیل

بلاگر صحافی، محقق، فری لانس کالم نگار اور کئی کتابوں کے مصنف ہیں۔

ان سے ان کے ای میل ایڈریس [email protected] پر رابطہ کیا جاسکتا ہے۔

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔