• KHI: Maghrib 7:21pm Isha 8:47pm
  • LHR: Maghrib 7:05pm Isha 8:39pm
  • ISB: Maghrib 7:15pm Isha 8:52pm
  • KHI: Maghrib 7:21pm Isha 8:47pm
  • LHR: Maghrib 7:05pm Isha 8:39pm
  • ISB: Maghrib 7:15pm Isha 8:52pm
وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کررہے تھے— فوٹو: ڈان نیوز

مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش، سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں 25فیصد تک کا اضافہ

کم از کم تنخواہ 37 ہزار روپے مقرر، دفاعی اخراجات کے لیے 21 سو 22 ارب روپے مختص، موبائل فونز پر 18 فیصد سیلز ٹیکس عائد کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
شائع June 12, 2024

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نئے مالی سال 25-2024 کا 18ہزار ارب سے زائد حجم کا بجٹ پیش کردیا جس میں وفاقی ملازمین کی تنخواہوں میں 25 فیصد تک اضافے کے ساتھ ساتھ ملک میں ملازمین کی کم از کم تنخواہ 36ہزار روپے مقرر کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور ملک کے دفاعی اخراجات کے لیے 21 سو 22 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ تقریر

وزیر خزانہ نے قومی اسمبلی میں بجٹ تقریر کرتے ہوئے کہا کہ اس معزز ایوان کے سامنے مالی سال 25-2024 کا بجٹ پیش کرنا میرے لیے اعزاز کی بات ہے، فروری 2024 کے انتخاب کے بعد مخلوط حکومت کا یہ پہلا بجٹ ہے اور میں وزیراعظم شہباز شریف کی قیادت میں اتحادی حکومت میں شامل سیاسی جماعتوں کی قیادت خصوصاً محمد نواز شریف، بلاول بھٹو زرداری، خالد مقبول صدیقی، چوہدری شجاعت حسین، عبدالعلیم خان اور خالد حسین مگسی کی رہنمائی کے لیے دل کی اتاہ گہرائیوں سے شکریہ ادا کرنا چاہتا ہوں۔


بجٹ کے اہم نکات

  • گریڈ 1 سے16 کے سرکاری ملازمین کیلئے تنخواہ میں 25 فیصد اضافہ تجویز
  • گریڈ 17 سے 22 کے سرکاری ملازمین کی تنخواہ میں 22 فیصد اضافہ
  • سرکاری ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافے کی تجویز
  • کم سےکم ماہانہ تنخواہ 32 ہزار سے بڑھا کر 36 ہزار روپےمقرر
  • ہائبرڈ اور لگژری الیکٹرک گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت ختم
  • انجن کی استعداد کے بجائےگاڑی کی قیمت کی بنیاد پر ٹیکس لینےکا فیصلہ
  • سولر پینل کیلئے خام مال اور پرزہ جات کی درآمد پر رعایت کا اعلان
  • پنشن کے نظام میں اصلاحات لانے کی تجویز
  • دفاع کیلئے 2ہزار 122 ارب روپے مختص
  • موبائل فونز پر یکساں ٹیکس عائد کرنے کی تجویز
  • آئی ٹی سیکٹر کے لیے 89 ارب روپے مختص

وزیر خزانہ کا کہنا تھا کہ سیاسی اور معاشی چیلنجز کے باوجود پچھلے ایک سال کے دوران اقتصادی محاذ پر ہماری پیشرفت متاثر کن رہی ہے، ہم سب نے معاشی استحکام اور عوام کی بہتری کے لیے تمام سیاسی جماعتوں کے مل بیٹھنے کی بازگشت کئی بار سنی ہے ، آج قدرت نے پاکستان کو معاشی ترقی کی راہ پر چلنے کا ایک اور موقع فراہم کیا ہے، ہم اس موقع کو زائل کرنے کے متحمل نہیں ہو سکتے۔

انہوں نے کہا کہ پچھلے سال جون میں آئی ایم ایف پروگرام اپنے اختتام کو پہنچ رہا تھا اور نئے پروگرام سے متعلق بہت غیریقینی کیفیت تھی، نئے پروگعام میں تاخیر کافی مشکلات پیدا کر سکتی تھیں لیکن شہباز شریف کی سابقہ حکومت نے آئی ایم ایف سے اسٹینڈ بائی معاہدہ کیا، اس پروگرام کے تحت لیے جانے والے اقدامات کے نتیجے میں معاشی اصلاحات کی راہ ہموار ہوئی اور غیریقینی کی صورتحال اختتام کو پہنچی۔

سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ مئی میں مہنگائی کم ہو کر تقریباً 12فیصد پر آ گئی ، اشیائے خورونوش اب عوام کی پہنچ میں ہیں اور درپیش چیلنجز کو دیکھا جائے تو یہ کوئی معمولی کامیابی نہیں اور آنے والے دنوں میں مہنگائی مزید کم ہونے کا امکان ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے بتایا کہ ہم اس امید کے ساتھ ہوم گرون ریفارم ایجنڈے کو پختہ ارادے اور عزم کے ساتھ جاری رکھے ہوئے ہیں کہ پاکستان جلد ہی شمولیت اور پائیدار ترقی کے دور کی طرف لوٹ آئے گا۔

انہوں نے کہا کہ ہر کوئی اس بات سے بخوبی واقف ہے کہ راستہ بھت کٹھن ہے اور ہمارے پاس آپشنز محدود ہیں مگر یہ اصلاحات کا وقت ہے، یہی وقت ہے کہ ہم اپنی معیشت میں نجی شعبے کو مرکزی اہمیت دیں اور چند افراد کے بجائے پاکستان کو اپنی ترجیح بنائیں، ہم معاشی عدم توازن کے گرداب میں پھنسے ہیں، اس کی وجہ وہ اسٹرکچرل فیکٹرز ہیں جن کی وجہ سے سرمایہ کاری، معاشی پیداوار اور برا ٓمدات دباؤ کا شکار ہیں، ماضی میں ریاست پر غیر ضروری بوجھ ڈالا گیا جس کی وجہ سے حکومتی اخراجات ناقاب برداشت ہوگئے، اس کا خمیازہ مہنگائی، کم پیداواری صلاحیت اور کم آمدن والی ملازمتوں کی سورت مین عوام کو بھگتناپڑا۔

وفاقی وزیر کا کہنا تھا کہ اس کم ترقی کی سائیکل سے باہر آنے کے لیے اسٹرکچرل ریفارمز کو آگے بڑھانا ہے اور معیشت میں مراعات کو صحیح کرنا پڑے گا۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ خسارے کو کم کرنا ہمارا اہم مقصد ہو گا اور اس سلسلے میں ایک منصفانہ ٹیکس پالیسی کی بدولت اپنی آمدن کو بہتر بڑھائیں گے اور غیرضروری اخراجات کو کم کریں گے لیکن یہ کمی کرتے ہوئے ہمیں انسانی ترقی، سماجی تحفظ اور موسمیاتی تبدیلیوں سے نمٹنے کے لیے اقدامات کو ترجیح دینا ہو گی اور ان میں کمی نہیں لائی جائے گی۔

انہوں نے توانائی کے شعبے کو موثر بنانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں پیداواری لاگت کو کم، ایس ای او کی تنظیم نو اور نجکاری کرنی ہے اور اچھی گورننس اور سب کو یکساں مواقع فراہم کر کے نجی شعبے کو فروغ دینا ہے جہاں اس سب کا مقصد آمدن سے زائد اخراجات کے دائمی مسئلے کو حل کرنا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ پاکستان جی ڈی پی کے مقابلے میں ٹیکس کی شرح میں دوسرے ممالک سے کافی پیچھے ہے، اسی لیے ٹیکس نظام میں اصلاحات ہماری معاشی کامیابیوں کے لیے انتہائی اہم ہیں، ایف بی آر میں کثیرالجہتی اقدامات پہلے سے جاری ہیں اور وزیر اعظم ڈیجیٹلائزیشن، ٹیکس پالیسی اور ایف بی آر میں انتظامی اصلاحات پر گہری نگاہ رکھے ہوئے ہیں اور ان کی واضح ہدایت ہے کہ ٹیکس نیٹ میں پہلے موجود لوگوں پر بوجھ نہ ڈالا جائے بلکہ ٹیکس کے دائرہ کار میں وسعت لائی جائے۔

تاجر دوست اسکیم کا حوالہ دیتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس اسکیم کا مقصد ہول سیلرز، ڈیلز اور ریٹیلرز کو رجسٹر کرنا ہے اور اب تک ہم 30ہزار 400 افراد کی رجسٹریشن کر چکے ہیں اور آنے والے دنوں میں اس میں مزید تیزی لائی جائے گی جس کے لیے موجودہ ڈیٹا کا موثر استعمال کیا جائے گا۔

انہوں نے مجموعی وسائل میں اضافے کے لیے صوبوں اور حکومت کے مل کر کام کرنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ہم تمام صوبائی حکومتوں کے ساتھ ایک جامع ’نیشنل فسکل پیکٹ تجویز کرتے ہیں کیونکہ ہم آہنگی اور یگانگت خودکفالت کے ہدف کو حاصل کرنے کا واحد راستہ ہے اور اس سلسلے میں صوبوں سے مشاورت جاری ہے۔

اخراجات میں کمی

اخراجات میں کمی کے لیے کیے جانے والے اقدامات کا ذکر کرتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ پی بی ایس ایک سے 16 تک تمام خالی آسامیوں کو ختم کرنے کی تجویز زیر غور ہے جس سے 45ارب روپے سالانہ کی بچت ہونے کا امکان ہے جبکہ وفاقی کابینہ کے حجم کو کم کرنے کے لیے بھی کمیٹی تشکیل دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی بھی حکومت کے بجٹ کا بڑا حصہ گڈز اینڈ سروسز کی پروکیورمنٹ میں صرف ہوتا ہے، پروکیورمنٹ کے نظام میں آسانی اور شفافیت کے ذریعے حکومت کی کارکردگی میں بہتری لانے کے ساتھ ساتھ وسائل کی بچے بھی کی جا سکتی ہے اور ای پروکیورمنٹ کے ذریعے سرکاری خرچ میں 10 سے 20 فیصد تک کمی لائی جا سکتی ہے جبکہ یہ نظام میں کرپشن، فراڈ اور بدنیتی جیسے مسائل پر قابو پانے میں بھی معاون ثابت ہو گا۔

اس سلسلے میں مزید تفصیلات بتاتے ہوئے سینیٹر نے کہا کہ یہ نظام 37وزارتوں اور 279 پروکیورنگ ایجنسیوں میں نافذ ہو چکا ہے جس کے تحت 14 ارب روپے کی پروکیورمنٹ ہو چکی ہے، پروکیورمنٹ ایجنسیوں کے ساڑھے 8ہزار ملازمین کی تربیت مکمل کی جا چکی ہے اور 10ہزار 545 سپلائرز اس نظام میں رجسٹر ہو چکے ہیں۔

اداروں کی نجکاری

سرکاری اداروں اور اثاثوں کی نجکاری کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ ہم نے نجکاری کو کلیدی ترجیح بنانا ہے، ہم ناصرف پی آئی اے، روز ویلٹ ہوٹل، ہاؤس بلڈنگ فنانس کارپوریشن اور فرسٹ ویمن بینک جیسے اداروں کی جاری نجکاری میں تیزی لائیں گے بلکہ نجی شعبے میں سرمایہ کاری کے لیے دیگر ایس او ایز(سرکار کے زیر انتظام اداروں) کو پیش کرنے کا ٹھوس پروگرام بھی شروع کرنے جا رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پی آئی اے کی نجکاری میں 12 کمپنیوں نے دلچسپی کا اظہار کیا تھا اور 3 جون کو چھ کمپنیوں کو نجکاری کمیشن کے بورڈ نے پری کوالیفائی کیا، اگست 2024 کے پہلے ہفتے میں سرمایہ کاروں سے بولیاں منگوا لی جائیں گی جس کے بعد یہ سلسلہ پایہ تکمیل تک پہنچ جائے گا۔

انہوں نے بتایا کہ بین الاقوامی سطح پر رائج بہترین طریقوں پر عمل کرتے ہوئے حکومت ملک کے بڑے ہوائی اڈوں کو آؤٹ سورس کررہی ہے جس سے مسافروں کو بہترین سہولیات میسر آنے کے ساتھ ساتھ ہوائی اڈوں سے حاصل ہونے والی آمدن میں بھی اضافہ ہو گا، سب سے پہلے اسلام آباد ایئرپورٹ کو آؤٹ سورس کیا جائے گا اور پھر چھ ماہ بعد کراچی اور لاہور ایئرپورٹس کی آؤٹ سورسنگ کا آغاز کیا جائے گا۔

وفاقی حکومت پر کھربوں کی غیر فنڈ شدہ پنشن کی ذمہ داری ہے، پینشن کے اخراجات میں تیزی سے اضافہ ہورہا ہے، لہٰذا ان اخراجات میں اضافے کی شرح کو کم کرنے کی ضرورت ہے جس کے لیے اقدامات کیے جائیں گے۔

ان کا کہنا تھا کہ آئندہ مالی سال میں وفاقی حکومت آئی ٹی سیکٹر پر خصوصی توجہ دے گی کیونکہ اس شعبے میں کم مدت میں زیادہ منافع دینے کی صلاحیت ہے، حکومت کی سازگار پالیسیوں کے نفاذ کے بعد اس سال آئی ٹی کی برآمدات ساڑھے تین ارب ڈالر تک پہنچ جائیں گی اور اسی لیے اگلے مالی سال میں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کے لیے 79 ارب رویے سے زیادہ رقم تجویز کی جا رہی ہے۔

محمد اورنگزیب کا کہنا تھا کہ بینظیر انکم سپورٹ پروگرام (بی آئی ایس پی) ہمارے سماجی تحفظ کے اقدامات کے سنگ بنیاد کی حیثیت رکھتا ہے، موجودہ اتحادی حکومت کا عزم ہے کہ کمزور طبقے کی زیادہ سے زیادہ معانت کی جائے، مالی سال 25-2024 کے بجٹ کے ذریعے کمزور طبقوں کو بی آئی ایس پی پروگرام کے ذریعے معاونت کا سلسلہ جاری رہے گا، آئندہ مالی سال حکموت درجہ زیل پیشرفت کے ساتھ بی آئی ایس پی کی رقم کو 27 فہصد اضافے کے ساتھ 593 ارب روپے تک لے جائی گی:

کفالت پروگرام کے تحت مستفید ہونے والے افراد کی موجودہ تعداد کو 93 لاکھ سے بڑھا کر 1 کروڑ تک کردیا جائے گا، ان خاندانوں کو مہنگائی کے اثرات سے محفوظ رکھنے کے لیے کیش ٹرانسفر میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔

تعلیمی وظائف میں مزید 10 لاکھ بچوں کا اندراج کیا جائے گا، جس سے ان کے وظائف کی کل تعداد 1 کروڑ 4 لاکھ ہوجائے گی۔

نشونما پروگرام کا مقصد بچوں کی زندگی کے پہلے ایک ہزار دنوں کے دوران اسٹنٹنگ کو روکنا ہے، اگلے مالی سال کے دوران 5 لاکھ مزید خاندانوں کو اس پروگرام میں شامل کیا جائے گا۔

معاشی شمولیت (economic inclusion) کو فروغ دینے اور لوگوں کے معاشی حالات کو بہتر بنانے حکومت بی آئی ایس پی کے تحت پہلی مرتبہ پوورٹی گریجویشن ایند اسکلز ڈیولپمنٹ پروگرام کا آغاز کرنے جارہی ہے، اس کے علاوہ بی آئی ایس پی کے ذریعے مالی خودمختاری کا ایک ہائبرڈ سوشل پروٹیکشن پروگرام متعارف کرانے کے منصوبے کا بھی آغاز کیا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ انسانی ترقی میں سرمایہ کاری حکومت کی بہترین سرمایہ کاری ہے اور حکومت بچوں کی تعلیم کے لیے ماحول کی فراہمی میں خاطر خواہ سرمایہ کاری کرنے کا ارادہ رکھتی ہے۔

اس سلسلے میں تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ اسلام آباد کے 167 سرکاری اسکولوں میں انفراسٹرکچر اور تعلیمی سہولیات کو بہتر بنانے کے لیے رقم مختص کرنے کی تجویز ہے۔ جبکہ بچوں کی نشونما کے لیے ہم School meal program متعارف کروا رہے ہیں جس کے تحت اسلام آباد کے 200 پرائمری اسکولوں میں طلبہ کو متوازن اور غذائیت سے بھر پور کھانا فراہم کیا جائے گا۔

اسلام آباد کے سولہ (16) ڈگری کالجوں کو NUML ،NSU ،NUST اور COMSATS جیسی مشہور یونیورسٹیوں کے تعاون سے اعلیٰ نتائج کے حامل تربیتی اداروں میں تبدیل کیا جائے گا۔

اس کے علاوہ دیہی سے شہری علاقوں تک طالبات کے سفر کے لیے پنک بسیں متعارف کرانے کے ساتھ ساتھ دانش اسکولوں کے پروگرام کو اسلام آباد، بلوچستان، آزاد جموں و کشمیر اور گلگت بلتستان تک پھیلایا جا رہا ہے۔

سمندر پار پاکستانیوں کے لیے سہولت اور مراعات

ان کا کہنا تھا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانی ہمارے معاشی ڈھانچے میں ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھتے ہیں لہٰذا ان کی جانب سے بھیجی جانے والی ترسیلات زر کے فروغ کے لیے بجٹ میں 86.9 ارب روپے کی رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، یہ رقم Re-imbursment of TT Charges، سوہنی دھرتی اسکیم اور دیگر اسکیموں کیے لیے استعمال کی جائے گی۔

انہوں نے بتایا کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کی غیر معمولی خدمات کو تسلیم کرنے کے لیے محسن پاکستان ایوارڈ متعارف کرایا جا رہا ہے اور اسی طرح کے دیگر اقدامات سمندر پار پاکستانیوں کی معاونت اور قومی ترقی میں ان کے تعاون سے فائدہ اٹھانے کے لیے حکومت کے عزم کی نشاندہی کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ برآمدات کے شعبے کی اہمیت کو مدنظر رکھتے ہوئے EXIM Bank کے ذریعے ایکسپورٹ ری فنانس اسکیم کے لیے مختص رقم کو 3.8 ارب سے بڑھا کر تیرہ 13.8 ارب روپے کرنے کی تجویز ہے اور ان اقدامات سے پورٹ فولیو میں 100 سے 280 ارب روپے تک کا اضافہ متوقع ہے جبکہ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے ذریعے 539 ارب روپے کے ایکسپورٹ کریڈٹ کی فراہمی کی جائے گی۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ بیرونی سرمایہ کاری ہماری ادائیگیوں کے توازن اور پاکستان کی ساکھ میں اضافے کے لیے اہم ہے، اس سلسلے میں برادر اور دوست ممالک کے ساتھ بات چیت اور کوششیں اگلے مرحلے میں ہیں، وزیر اعظم کے دورہ چین کا مقصد سی پیک کے دوسرے مرحلے کو جلا بخشنا تھا، سی پیک کے اس مرحلے میں چینی کمپنیوں کو خصوصی اکنامک زون کے ذریعے پاکستان میں سرمایہ کاری کے مواقع فراہم کیے جائیں گے اور ساتھ ہی ساتھ پاکستانی کمپنیاں چینی کمپنیوں کے ساتھ جوائنٹ وینچر کر سکیں گی۔

ملک پر موسمیاتی تبدیلی کے مرتب ہونے والے اثرات کا ذکر کرتے ہوئے سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا کہ پاکستان کو موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کا شدید خطرہ لاحق ہے اور اس سلسلے میں حکومت کام کررہی ہے، نیشنل کلائمیٹ فنانس اسٹریٹیجی اکتوبر 2024 تک تیار کرلی جائے گی جس کا مقصد گلوبل کمائمیٹ فنانس کو پاکستان لانا ہے جس سے ملک میں کاربن کے اخراج میں کمی لانے کے منصوبوں پر عمل کیا جا سکے گا۔

ماحولیاتی آلودگی میں کمی کے لیے حکومت کی جانب سے کیے جانے والے اقدماات کا ذکر کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ حکومت ای بائیکس کے لیے 4 ارب روپے اور توانائی کی بچت کرنے والے پنکھوں کے لیے 2 ارب روپے مختص کر رہی ہے۔

بجٹ کے بنیادی خدوخال

مالی سال 25-2024 کے بجٹ کے اہم خدو خال پیش کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اگلے مالی سال کے لیے اقتصادی ترقی کی شرح 3.6 فیصد رہنے کا امکان ہے جہاں افراط زر کی اوسط شرح 12 فیصد متوقع ہے جبکہ بجٹ خسارہ جی ڈی پی کا 6.9 فیصد جبکہ پرائمری سرپلس جی ڈی پی کا ایک فیصد ہوگا۔

ان کا کہنا تھا کہ ایف بی آر کے محصولات کا تخمینہ 12 ہزار 970 ارب روپے ہے جو کہ رواں مالی سال سے 38 فیصد زیادہ ہے، وفاقی محصولات میں صوبوں کا حصہ 7 ہزار 468 ارب روپے ہو گا، وفاقی نان ٹیکس ریونیو کا ہدف 3 ہزار 587 ارب روپے ہو گا۔

اسی طرح وفاقی حکومت کی خالص آمدنی 9 ہزار 119 ارب روپے ہو گی اور کل اخراجات کا تخمینہ 18 ہزار 877 ارب روپے ہے جس میں سے 9 ہزار 775 ارب روپے انٹرسٹ(سود) کی ادائیگی کی جائے گی۔

پی ایس ڈی پی کے لیے ایک ہزار 400ارب روپے کا بجٹ مختص کیا گیا ہے، پبلک پرائیویٹ پارٹنر شپ کے ذریعے 100 ارب روپے اضافی مختص کیے گئے ہیں اور مجموعی ترقیاتی بجٹ تاریخ کی بلند ترین سطح پر یعنی ایک ہزار 500 ارب روپے ہو گا۔

ان کا کہنا تھا کہ 2ہزار 122 ارب روپے دفاعی ضروریات کے لیے فراہم کیے جائیں گے اور سول انتظامیہ کے اخراجات کے لیے 839 ارب روپے مختص کیے جا رہے ہیں۔

پنشن کے اخراجات کے لیے ایک ہزار 14 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں، بجلی، گیس اور دیگر شعبوں کے لیے سبسڈی کے طور پر ایک ہزار 363 ارب روپے کی رقم مختص کی جا رہی ہے۔

مالی سال کے بجٹ میں ایک ہزار 777 ارب روپے پر مشتمل کل گرانٹس بنیادی طور پر بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام، آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان، خیبر پختونخوا میں ضم ہونے والے اضلاع، ہائر ایجوکیشن کمیشن، ریلوے، ترسیلات زر اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے شعبے کو فروغ دینے کے لیے مختص کی گئی ہیں۔

حکومت نے 25-2024 کے لیے تاریخ میں سب سے بڑا فیڈرل پبلک سیکٹر ڈیولپمنٹ پروگرام وضع کیا ہے جس کا حجم ایک ہزار 500 ارب روپے ہے جو پچھلے سال کے نظر ثانی شدہ حجم سے 101 فیصد زیادہ ہے، 1500 ارب میں پی پی پی منصوبوں کے لیے 100 ارب روپے شامل ہیں۔

اسی طرح 25-2024 میں جاری منصوبوں کی تکمیل کو ترجیح دی گئی ہے اور تقریباً 83 فیصد وسائل جاری منصوبوں کے لیے جبکہ صرف 17 فیصد وسائل نئے منصوبوں کے لیے مختص کیے گئے ہیں، پی ایس ڈی پی میں اس شعبے کے لیے 59 فیصد رقم مختص کرنے کی تجویز ہے، سماجی شعبے کے لیے ترقیاتی بجٹ کا میں (20) فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔

آزاد جموں و کشمیر، گلگت بلتستان اور خیبر پختونخوا کے ضم شده اضلاع کے لیے10 فیصد وسائل مختص کیے گئے ہیں، تقریباً 11.2 فیصد وسائل دیگر شعبوں جیسے آئی ٹی اور ٹیلی کام، سائنس اینڈ ٹیکنالوجی ، گورنس اور پروڈکشن سیکٹر وغیرہ کے لیے مختص ہیں۔

ٹرانسپورٹیشن کے شعبے میں ہائی ویز کے نیٹ ورک کو بہتر بنانے، بڑے شہروں اور علاقوں کے درمیان رابطے بڑھانے اور ٹریفک کے بڑھتے ہوئے حجم کو سنبھالنے کے لیے موجودہ انفراسٹرکچر کو اپ گریڈ کرنے کے منصوبوں پر توجہ مرکوز کی گئی ہے۔

اگلے مالی سال میں پی ایس ڈی پی میں انفراسٹرکچر کی فراہمی کے لیے 824 ارب روپے کی خطیر رقم مختص کرنے کی تجویز ہے جس میں سے توانائی کے شعبے کے لیے 253 ارب روپے، ٹرانسپورٹ اینڈ کمیونیکیشن سیکٹر کے لیے 279 ارب روپے، پانی کے شعبے کے لیے 206 ارب روپے، پلاننگ اور ہاؤسنگ کے لیے 86 ارب روپے شامل ہیں۔

سماجی شعبے کے لیے رواں سال میں 244 ارب روپے کے مقابلے میں 280 ارب روپے مختص کرنے کی تجویز ہے، خصوصی علاقوں آزاد جموں و گلگت بلتستان کے لیے 75 ارب روپے، خیبر پختونخوا کے ضم ہونے والے علاقوں کے لیے 64 ارب روپے اور سائنس اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کے لیے 79 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں جبکہ پیداواری شعبہ بشمول زراعت کے لیے 50 ارب روپے مختص کیے گئے ہیں۔

بجٹ میں ملک کے سب سے بڑے شہر کراچی کے لیے پیکج کا ذکر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ کراچی ملک کا سب سے بڑا شہر ہے جو اقتصادی ترقی میں کلیدی کردار ادا کرتا ہے، اس لیے شہر کے لیے ایک جامع کراچی پیکیج کی تجویز ہے جبکہ اس کے ساتھ ساتھ حیدرآباد، میرپور خاص، سکھر اور بے نظیر آباد کے لیے بھی منصوبے مرتب کرنے کی تجویز ہے۔

اسی طرح کراچی کو پانی کی سپلائی بہتر بنانے کے لیے کے۔فور منصوبے کے لیے ایک خطیر رقم رکھنے کی تجویز ہے تاکہ اس اہم منصوبے کو تکمیل کی طرف لے جایا جائے۔

نئے بجٹ میں ٹیکس پالیسی کے حوالے سے اہم اصول وضع کیے گئے ہیں جس کے تحت ٹیکس بیس وسیع کر کے ٹیکس ٹو جی ڈی پی شرح میں اضافہ کرنا، غیردستاویزی معیشت کو ختم کرنے کے لیے کو ڈیجیٹل خطوط پر استور کرنا، زیادہ آمدن والوں پر زیادہ ٹیکس کا نفاذ اور نان فائلرز کے لیے کاروباری ٹرانزیکشنز کے ٹیکس میں نمایاں اضافہ شامل ہے۔

محصولات اور ٹیکسز کا نظام

بجٹ تقریر کرتے ہوئے محمد اورنگزیب نے کہا کہ محصولات کے حوالے سے اہم اقدامات اٹھانے کی تجاویز دی گئی ہیں جس کے تحت تنخواہ دار طبقے پر انکم ٹیکس چھوٹ 6 لاکھ روپے تک کی آمدن پر برقرار رکھنے کی تجویز ہے اور یہ بھی تجویز ہے کہ تنخواہ دار طبقے میں زیادہ سے زیادہ ٹیکس سلیب میں اضافہ نہ کیا جائے تاہم غیر تنخواہ دار طبقے کے افراد کے لیے زیادہ سے زیادہ ٹیکس کی شرح پینتالیس 45 فیصد رکھنے کی تجویز ہے۔

اسی طرح ایکسپورٹرز پر Horizontal Equity کے اصول کے مطابق نارمل ٹیکس رجیم کے تحت ٹیکس عائد کرنے کی تجویز ہے البتہ ریئل اسٹیٹ پر کیپیٹل گینز ٹیکس میں ترمیم کی گئی ہے۔

موجودہ قانون میں غیرمنقولہ جائیداد کے کیپیٹل گینز پر فائلرز، نان فائلرز دونوں کے لیے ہولڈنگ کی مدت کی بنیاد پر ٹیکس لگایا جاتا ہے اور ہولڈنگ کی مدت سے قطع نظر 15 فیصد کی شرح سے ٹیکس وصول کرنے کی تجویز ہے جبکہ نان فائلرز کے ٹیکس ریٹ مختلف سلیبز کے تحت 45 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے۔

موجودہ قانون میں فائلرز اور نان فائلرز دونوں کے لیے ہولڈنگ کی مدت کی بنیاد پر سیکیورٹیز پر کیپیٹل گینز ٹیکس لگایا جاتا ہے لیکن اب اس پر ٹیکس نظام کو تبدیل کیا جا رہا ہے، یکم جولائی 2024 کے بعد ہولڈنگ کی مدت سے قطع نظر فائلرز کے لیے 15 فیصد جبکہ نان فائلرز کے لیے مختلف سلیبز کے تحت ٹیکس کی شرح 45 فیصد تک کرنے کی تجویز ہے۔

اس وقت فائلرز کے لیے غیرمنقولہ جائیداد خریدنے پر 3 فیصد اور نان فائلرز پر 6 فیصد ٹیکس عائد ہے، ایسے لوگ ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کی آخری تاریخ پر کبھی ریٹرن فائل نہیں کرتے بلکہ جائیداد کی خریداری کے وقت ٹرانزیکشن کرنے سے پہلے ریٹرن فائل کرتے ہیں لہٰذا مقررہ تاریخ تک ٹیکس ریٹرن فائل کرنے کو یقینی بنانے اور نان فائلرز اور تاخیر سے ریٹرن فائل کرنے والوں کے لیے کاروبار کی لاگت بڑھانے کی غرض سے یہ تجویز کیا جارہا ہے کہ فائلرز، نان فائلرز اور تاخیر سے ریٹرن جمع کرانے والوں کے لیے تین الگ الگ ریٹس متعارف کرائے جائیں۔ اور تینوں کیٹیگریز میں ٹیکس کی شرح میں ردو بدل تجویز کیا جا رہا ہے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ موجودہ قانون کے تحت 2000 سی سی تک کی گاڑیوں کی خریداری اور رجسٹریشن پر ایڈوانس ٹیکس کی وصولی انجن کی استعداد کی بنیاد پر کی جاتی ہے لیکن چونکہ گاڑیوں کی قیمتوں میں کافی اضافہ ہو چکا ہے اس لیے ٹیکس وصولی کا اصل فائدہ اٹھانے کے لیے یہ تجویز دی جارہی ہے کہ تمام موٹر گاڑیوں کے لیے ٹیکس وصولی کی بنیاد انجن کی استعداد کے بجائے اسے تبدیل کر کے قیمت کے تناسب پر کر دیا جائے۔

بجٹ میں ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مصنوعات کے پہلی سطح کے ریٹیلرز پر لاگو سیلز ٹیکس کے ریٹ کو 15 فیصد سے بڑھا کر 18 فیصد کرنے کی تجویز دی گئی ہے اور یہ ٹیکس ٹیکسٹائل اور چمڑے کی مہنگی اور برانڈڈ مصنوعات پر لاگو ہوگا، یہ ٹیکس اس طبقے پر لاگو کیا جارہا ہے جو مہنگی اشیا خریدنے کی استطاعت رکھتا ہے لہٰذا اس کا عام شہری پر کوئی اثر نہیں پڑے گا۔

اس کے علاوہ موبائل فونز کی مختلف کیٹیگریز پر 18فیصد کا اسٹینڈرڈ ٹیکس لاگو کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔

ملک میں سولر پینل کی صنعت کے فروغ کے لیے پلانٹ، مشینری اور اس کے ساتھ منسلک آلات اور سولر پینلز، انورٹرز اور بیٹریوں کی تیاری میں استعمال ہونے والے خام مال اور پرزہ جات کی درآمد پر رعایتیں دی جارہی ہیں تا کہ درآمد شدہ سولر پینلز پر انحصار کم کیا جاسکے اور قیمتی زرمبادلہ بچایا جا سکے۔

وزیر خزانہ نے کہا کہ ہائیبرڈ اور عام گاڑیوں کے درمیان قیمتوں میں فرق کم ہو چکا ہے اور مقامی طور پر ہائبرڈ گاڑیوں کی تیاری شروع ہو چکی ہے، اس لیے مقامی صنعت کو فروغ دینے کے لیے یہ رعایت اب واپس لی جارہی ہے۔

اس کے علاوہ لگژری گاڑیوں کی درآمد پر دی جانے والی رعایت واپس لی جارہی ہے کیونکہ 50ہزار ڈالر اور اس سے زائد قیمت کی گاڑیاں درآمد کرنے کی استطاعت رکھنے والے لوگ واجب الادا ٹیکس اور ڈیوٹیز بھی ادا کر سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری ملازمین کی مشکلات کا احساس کرتے ہوئے گریڈ 1 سے 16 کے سرکاری ملازمین کی قوت خرید بہتر بنانے کے لیے تنخواہوں میں 25 فیصد اضافہ کیا جارہا ہے جبکہ 17 سے 22 گریڈ تک افسران کی تنخواہوں 20 اضافہ کیا جارہا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ریٹائرڈ ملازمین کی پنشن میں 15 فیصد اضافہ کرنے کی تجویز ہے اور اسی طرح کم سے کم ماہانہ تنخواہ کو 32ہزار روپے سے بڑھا کر 37 ہزار روپے کرنے کی تجویز ہے۔

وزیر خزانہ نے ملک کی صحافی برادری کو ہیلتھ انشورنس دینے کا اعلان کرتے ہوئے ابتدائی طور پر ملک کے 5ہزار صحافیوں کو ہیلتھ انشورنس دینے کا اعلان کیا جہاں دوسرے مرحلے میں 10ہزار صحافیوں کو ہیلتھ انشورنس دی جائے گی۔

فنانس بل میں پیٹرولیم منصوعات پر فی لیٹر لیوی 20 روپے تک بڑھانے کی تجویز ہے ۔

فنانس بل میں پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل پر لیوی 60 سے بڑھا کر 80 روپے فی لیٹر کرنے کی تجویز ہے جبکہ لائٹ ڈیزل پر لیوی 50 روپے فی لیٹر سے بڑھا کر 75 روپے کرنے کی تجویز ہے۔

ہائی آکٹین اور ای ٹین گیسولین پر لیوی 50 روپے سے بڑھا کر 75 روپے فی لٹر کرنے کی سفارش کی گئی ہے جبکہ مٹی کے تیل پر لیوی 50 روپے فی لیٹر پر برقرار رکھنے کی تجویز ہے۔