• KHI: Fajr 5:02am Sunrise 6:18am
  • LHR: Fajr 4:25am Sunrise 5:47am
  • ISB: Fajr 4:27am Sunrise 5:51am
  • KHI: Fajr 5:02am Sunrise 6:18am
  • LHR: Fajr 4:25am Sunrise 5:47am
  • ISB: Fajr 4:27am Sunrise 5:51am

عدالت نے صنم جاوید کی گرفتاری غیرقانونی قرار دے کر رہائی کی درخواست نمٹا دی

شائع July 18, 2024
صنم جاوید: فوٹو
صنم جاوید: فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی رہنما صنم جاوید کی گرفتاری غیرقانونی قرار دے کر رہائی کی درخواست نمٹا دی۔

ڈان نیوز کے مطابق صنم جاوید کی رہائی کے لیے ان کے والد کی درخواست پر سماعت جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے کی، اٹارنی جنرل منصور عثمان اعوان اور صنم جاوید کے والد کے وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق عدالت کے سامنے پیش ہوئے۔

دوران سماعت صنم جاوید کمرہ عدالت میں موجود تھیں۔

اٹارنی جنرل نے عدالت میں بیان دیا کہ صنم جاوید کو مزید کسی مقدمے میں گرفتار نہیں کیا جائے گا، بلوچستان پولیس راہداری ریمانڈ کی استدعا نہیں کر رہی ہے، صنم جاوید اب آزاد ہیں، وہ اپنے صوبے میں جا سکتی ہیں۔

اس پر جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے ریمارکس دیے کہ میں نے انٹرنیٹ پر دیکھا ہے کہ صنم جاوید بہت نامناسب زبان استعمال کرتی ہیں، انہوں نے درخواست گزار کے وکیل سے استفسار کیا کہ آپ گارنٹی دیتے ہیں کہ صنم جاوید مزید نامناسب گفتگو نہیں کریں گی؟

وکیل بیرسٹر میاں علی اشفاق نے جواب دیا کہ جی، صنم جاوید آئندہ نامناسب الفاظ استعمال نہیں کرے گی۔

بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے صنم جاوید کی گرفتاری غیر قانونی قرار دے کر رہائی کی درخواست نمٹا دی۔

واضح رہے کہ 15 جولائی کو اسلام آباد ہائی کورٹ نے پاکستان تحریک انصاف کی صنم جاوید کو جمعرات (آج) تک گرفتار نہ کرنے کا حکم دیتے ہوئے انہیں گھر جانے کی اجازت دے دی تھی۔

واضح رہے کہ 15 جولائی کو اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ کی جانب سے رہائی کے بعد پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کی رہنما صنم جاوید کو اسلام آباد پولیس نے دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔

عدالت نے صنم جاوید کے وکلا کی مقدمے سے ڈسچارج کرنے کی استدعا منظور کرلی تھی اور رہائی کے بعد صنم جاوید گھر روانہ ہوگئی تھیں تاہم کچھ ہی دیر بعد اسلام آباد کی رمنا پولیس نے انہیں دوبارہ گرفتار کر لیا تھا۔

یاد رہے کہ گزشتہ برس 9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتاری کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا اور اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جبکہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔

اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔

9مئی کے واقعات میں ملوث ہونے کے الزام میں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں یاسمین راشد، محمودالرشید، اعجاز چوہدری کے ساتھ ساتھ صنم جاوید کو بھی گرفتار کیا گیا تھا۔

کارٹون

کارٹون : 15 ستمبر 2024
کارٹون : 13 ستمبر 2024