سرگودھا: جعلی عاملہ اور باپ نے ’مریضہ‘ کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی
سرگودھا کے علاقے محمدی کالونی میں بیمار خاتون کو مبینہ طور پر جعلی عاملہ اور اس کے والد نے ’آسیب سے چھٹکارا‘ دلانے کے لیے پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق مقامی ذرائع کے مطابق محمدی کالونی کے رہائشی محمد دین کی اہلیہ ہاجرہ بی بی مسلسل طبی امداد کے باوجود طویل عرصے سے بیمار تھیں۔
محمد دین، جو اپنی بیوی کی صحت کے حوالے سے فکر مند تھا، اس نے حمیرا نامی خاتون سے رابطہ کیا، جس کے والد عزیز الرحمٰن نے دعویٰ کیا کہ وہ روحانی علاج کرنے کی ماہر ہے۔
محمد دین نے باپ بیٹی کی جوڑی سے درخواست کی کہ وہ اس کی بیوی کا ’علاج‘ کریں، جس کے بعد دونوں اس کے گھر آئے۔
ہاجرہ کو دیکھنے کے بعد خاتون اور اس کے والد نے محمد دین کو بتایا کہ ان کی بیوی ’برے جادو‘ کی لپیٹ میں ہے، اور اسے روحانی علاج کی ضرورت ہے، جس کے بعد محمد دین نے انہیں ’علاج‘ شروع کرنے کی اجازت دے دی۔
باپ اور بیٹی محمد دین کے گھر گئے جہاں انہوں نے مبینہ طور پر مریضہ کو پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی، تاکہ اسے جادو سے نجات دلائی جا سکے۔
محمد دین کی جانب سے پولیس میں جمع کرائی گئی درخواست کے مطابق عزیز الرحمٰن نے اپنی بیٹی حمیرا کو پیٹرول کی بوتل دی، جس نے اس کی بیوی پر پیٹرول چھڑک کر آگ لگا دی۔
جب ہاجرہ نے رونا شروع کیا تو اس کے شوہر اور خاندان کے دیگر افراد کچھ دیگر مقامی لوگوں کے ساتھ مل کر خاتون کو بچانے پہنچے، جو شدید طور پر جھلس گئی تھی۔
دریں اثنا، دونوں باپ اور بیٹی فرار ہونے میں کامیاب رہے، ہاجرہ کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال منتقل کیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے بتایا کہ وہ 70 فیصد جھلس چکی ہے۔
واقعے کی اطلاع ملنے پر تھانہ اربن ایریا کی ایک ٹیم ہسپتال پہنچی اور محمد دین سے اس معاملے کے بارے میں پوچھ گچھ کی۔
تاہم ہاجرہ نے سوشل میڈیا پر پوسٹ کی گئی ویڈیو میں بیان دیا کہ ان کے اہل خانہ کو ہراساں کرنے کے بجائے پولیس کو خاتون اور اس کے والد کو گرفتار کرنا چاہیے، جنہوں نے اسے نقصان پہنچایا۔
متاثرہ خاتون نے الزام لگایا کہ اسے ٹھیک کرنے کے نام پر عزیزالرحمٰن نے پیٹرول چھڑک دیا اور بیٹی نے اسے ماچس کی تیلی سے آگ لگا دی۔
ہاجرہ کے بیان پر کارروائی کرتے ہوئے پولیس نے دونوں ملزمان کے خلاف مقدمہ درج کرنے اور تفتیش شروع کرنے کا دعویٰ کیا ہے۔
پولیس ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مار رہی ہے۔