کیڑے مار ادویات جانوروں اور پودوں کیلئے انتہائی نقصان دہ ہیں، تحقیق میں انکشاف
بڑے پیمانے پر کئی گئی حالیہ تحقیق کے مطابق کیڑے مار ادویات کرہ ارض پر جنگلی حیات کو نمایاں طور پر نقصان پہنچا رہی ہیں، ان کی نشوونما کو روک رہی ہیں، افزائش نسل کو نقصان پہنچا رہی ہیں اور یہاں تک کہ جانوروں کے طرز عمل میں تبدیلی کا سبب بھی بن رہی ہیں۔
ڈان اخبار میں شائع ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سائنسدانوں نے خبردار کیا ہے کہ انسانی سرگرمیاں دنیا کو چھٹی بڑے پیمانے پر معدومیت کی طرف دھکیل رہی ہیں۔
محققین پہلے ہی آگاہ کر چکے ہیں کہ کیڑے مارادویات مختلف اقسام کے حشرات اور ان کے مسکن کے لیے نقصان دہ ہیں، جب کہ موسمیاتی تبدیلی کی وجہ سے فطرت کوپہنچنے والے نقصان میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔
’نیچر کمیونی کیشنز جرنل‘ میں شائع ہونے والی ایک نئی تحقیق میں چین اور یورپ کے سائنسدانوں نے گزشتہ 1700 تحقیقی مقالوں کا جائزہ لیا تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ یہ کیمیکل دنیا بھر میں جانوروں اور پودوں کو کس طرح نقصان پہنچاتے ہیں۔
محققین کا کہنا تھا کہ ماضی میں کی جانے والی تحقیق کے برعکس، جو خاص طور پر مچھلی یا شہد کی مکھیوں جیسی ہیبی ٹیٹ یا حشرات پر محدود تھیں، نئی تحقیق میں کھیتوں، کاروباری اداروں اور گھروں میں استعمال ہونے والی کیڑے مار ادویات کی 471 مختلف اقسام کے عالمی اثرات پر ایک جامع تحقیق کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔
یونیورسٹی آف سسیکس کے شریک مصنف ڈیو گولسن کا کہنا ہے کہ ’اکثر یہ خیال کیا جاتا ہے کہ کیڑے مار ادویات بنیادی طور کیڑے مارتی ہیں، تاہم یہ مکمل طور پر درست نہیں۔‘
تشویش کی بات یہ ہے کہ ہم نے ان ادویات کے پودوں، جانوروں اور مائیکروبز وغیرہ میں وسیع پیمانے پر منفی اثرات دیکھے، جس سے ماحولیاتی نظام کی سالمیت کو خطرہ لاحق ہے۔
ان کے سبب زمین اور پانی میں موجود 800 سے زائد حشرات کو نقصان دہ اثرات کا سامنا کرنا پڑا جس کی وجہ سے ان کی نشوونما، افزائش، یہاں تک کہ شکار پکڑنے کی صلاحیت بھی اثر انداز ہوئی، جس سے ان کا خاتمہ ہو سکتا ہے۔
برطانیہ کے سینٹر فار ایکولوجی اینڈ ہائیڈرولوجی کے ڈاکٹر بین وُڈ کاک کا کہنا ہے کہ ’یہ کیمیکلز ایک ایسی برائی ہیں، جو ضروری بھی ہیں۔‘
انہوں نے کیڑے مار ادویات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ان کے استعمال کے بغیر عالمی سطح پر غذا کی پیداوار اور کسانوں کا ذریعہ معاش تباہ ہو جائے گا، تاہم حالیہ تحقیق میں محققین کا کہنا ہے کہ کسان مختلف اوقات میں فصلیں لگا کر یا جنگلی پودے اگاکر کیڑے مار ادویات کا استعمال کم کرسکتے ہیں۔
یہ تحقیق فروری کے اواخر میں روم میں حیاتیاتی تنوع سے متعلق اقوام متحدہ کے مذاکرات سے قبل سامنے آئی ہے، جس کا مقصد جنگلات کی کٹائی کے نتیجے میں حشرات کا تحفظ یقینی بنانا، موسمیاتی تبدیلی اور آلودگی سے مختلف حیاتیات کو بچانے کے لیے فنڈز حاصل کرنا ہے۔
دسمبر میں اقوام متحدہ کے حیاتیاتی تنوع کے ماہرین نے ایک تاریخی رپورٹ میں متنبہ کیا تھا کہ ضرورت سے زیادہ کھپت اور غیر پائیدار کاشتکاری فطرت اور آب و ہوا میں ایک دوسرے سے جڑے بحرانوں کو ہوا دے رہی ہے۔
ماہرین پہلے ہی خبردار کر چکے ہیں کہ 10 لاکھ انواع معدومیت کے خطرے سے دوچار ہیں۔
لندن کی برونل یونیورسٹی سے وابستہ انٹونیس میریڈاکس، جو اس تحقیق کا حصہ نہیں تھے، کا کہنا ہے کہ اس تحقیق سے ان خدشات کو تقویت ملی ہے کہ کیڑے مار ادویات حیاتیاتی تنوع کے نقصان میں اہم کردار ادا کر رہی ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ تحقیق میں استعمال ہونے والے اعداد و شمار کچھ حشرات کے اثر انداز ہونے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، جب کہ یہ امکان بھی موجود ہے کہ کیڑے مار ادویات کے استعمال سے ہونے والا نقصان رپورٹ شدہ نقصان سے کہیں زیادہ ہو۔