اماراتی سرمایہ کاری گروپ ایم جی ایکس کی بائنانس میں 2 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری
ابوظبی کے حمایت یافتہ سرمایہ کاری گروپ ’ایم جی ایکس‘ نے بائنانس میں 2 ارب ڈالر کی کرپٹو کرنسی کی سرمایہ کاری کی ہے، کمپنیوں نے بدھ کو کہا کہ جس سے دنیا کے سب سے بڑے کرپٹو ایکسچینج اور متحدہ عرب امارات کے درمیان تعلقات مضبوط ہوئے ہیں۔
ڈان اخبار میں شائع برطانوی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ کے مطابق یہ معاہدہ، جسے بائنانس نے اپنی پہلی ادارہ جاتی سرمایہ کاری کا نام دیا ہے، کرپٹو صنعت میں اب تک کی سب سے بڑی سرمایہ کاری میں سے ایک ہے۔
اس میں ایم جی ایکس کو اسٹیبل کوائن میں سرمایہ کاری کرنے کے بعد اقلیتی شیئرہولڈر بنتے ہوئے دیکھا جائے گا، یہ ایک قسم کی کرپٹو کرنسی ہے، جو ڈالر جیسی کاغذی کرنسی سے منسلک ہے۔
بائنانس کے ترجمان نے ’متفقہ گورننس رائٹس‘ یا ایم جی ایکس کے حصص کے حجم یا سرمایہ کاری کے لیے اسٹیبل کوائن کے استعمال کے بارے میں تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا۔
ایم جی ایکس نے بھی تبصرہ کرنے سے انکار کیا ہے۔
چین میں ارب پتی چانگ پینگ ژاؤ کی جانب سے 2017 میں قائم کیا گیا بائنانس بٹ کوائن اور دیگر کرپٹو کرنسیوں کی تجارت کی بڑھتی ہوئی طلب کو پورا کرنے کے بعد دنیا کا سب سے بڑا کرپٹو ایکسچینج بن گیا ہے۔
’سی زیڈ‘ کے نام سے مشہور ژاؤ نے بائنانس میں منی لانڈرنگ کے خلاف امریکی قوانین کی خلاف ورزی کا اعتراف کیا اور گزشتہ سال کئی ماہ جیل میں گزارے تھے۔
کرپٹو ایکسچینج سی زیڈ کے جانشین رچرڈ ٹینگ کے تحت متحدہ عرب امارات کے ساتھ اپنے روابط میں اضافہ کر رہا ہے، جو پہلے ابوظبی کی فنانشل سروسز اتھارٹی کے سربراہ تھے۔
بائنانس نے بدھ کے روز اپنے اعلان میں کہا تھا کہ متحدہ عرب امارات میں اس کے ’نمایاں قدم‘ ہیں، جہاں اس کے کل 5 ہزار کے عملے میں سے تقریباً ایک ہزار ملازمین کام کر رہے ہیں۔
بائنانس میں سرمایہ کاری ’ایم جی ایکس‘ کی طرف سے کرپٹو میں پہلا عوامی قدم ہے، جو تقریباً ایک سال قبل شراکت داری کے ذریعے مصنوعی ذہانت اور جدید ٹیکنالوجیوں کی ترقی اور اپنانے میں تیزی لانے کے لیے قائم کیا گیا تھا۔