بلوچستان: اختر مینگل اور حکومتی وفد میں مذاکرات ناکام، لکپاس میں بی این پی کا دھرنا جاری
سردار اختر مینگل اور حکومتی وفد کے درمیان مذاکرات اتوار کے روز ناکام ہوگئے، بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی-ایم) کے رہنما نے اپنے مطالبات پورے ہونے تک لکپاس میں دھرنا ختم کرنے سے انکار کردیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اختر مینگل نے اس بات پر زور دیا کہ احتجاج اس وقت تک جاری رہے گا، جب تک ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ سمیت تمام زیر حراست بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی خواتین رہنماؤں کی رہائی اور مظاہرین کو پرامن طریقے سے کوئٹہ میں داخل ہونے کی اجازت نہیں دی جاتی۔
صوبائی وزیر ظہور احمد بلیدی کی سربراہی میں حکومتی وفد نے اختر مینگل، آغا موسیٰ جان، ساجد ترین ایڈووکیٹ، میر اختر حسین لانگو، ثنا بلوچ اور میر حمل کلمتی سمیت بی این پی (ایم) کی قیادت سے ملاقات یں کیں۔
وفد نے دھرنا ختم کرنے کی وجوہات کے طور پر سندھ، پنجاب اور خیبر پختونخوا کے رہائشیوں کے لیے سیکیورٹی خدشات اور سفری رکاوٹوں کا حوالہ دیا۔
تاہم اختر مینگل نے کہا کہ ہمارا ایک نکاتی ایجنڈا ہے، اور وہ ہے ڈاکٹر ماہ رنگ اور دیگر خواتین قیدیوں کی رہائی۔
اہم راستے بند کر دیے گئے
لکپاس میں بی این پی -ایم کا احتجاج اتوار کو اپنے تیسرے دن میں داخل ہوگیا ، جس میں سیکڑوں شرکا نے اہم راستوں کو بند کردیا, مقامی انتظامیہ نے مارچ کرنے والوں کو کوئٹہ میں داخل ہونے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔
احتجاج کے نتیجے میں مستونگ، قلات، سوراب، خضدار، حب، لسبیلہ، نوشکی، خاران، دالبندین، نوکنڈی اور واشک سمیت 12 اضلاع کے رہائشیوں کو عید الفطر سے قبل سفری مشکلات کا سامنا ہے۔
بی این پی ایم کے لانگ مارچ کو کوئٹہ میں داخل ہونے سے روکنے کے لیے صوبائی انتظامیہ نے سیکیورٹی سخت کر دی ہے، اور لکپاس ٹنل، کنڈ مسوری، آغابرگ اور دیگر اہم داخلی راستوں پر شپنگ کنٹینرز اور رکاوٹیں کھڑی کر دی ہیں۔
ناکا بندی کی وجہ سے سیکڑوں مسافر پھنس گئے ہیں اور چھٹیوں کے موقع پر گھر واپس نہیں جا سکتے، جب کہ محدود رسائی کی وجہ سے طبی امداد کی ضرورت والے مریضوں کو ہسپتالوں تک پہنچنے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔
جمعیت علمائے اسلام (ف) بلوچستان کے ایک وفد نے سینیٹر مولانا عبدالواسع کی سربراہی میں بی این پی (ایم) کے دھرنے کے کیمپ کا دورہ کیا، اور اظہار یکجہتی کرنے کے علاوہ موجودہ صورتحال پر تبادلہ خیال کیا۔
وفد میں سینیٹر کامران مرتضیٰ ایڈووکیٹ، ایم پی اے نوابزادہ میر ظفر اللہ زہری اور میر عثمان پیرکانی بھی شامل تھے۔
اپنے دورے کے دوران جے یو آئی (ف) کے نمائندوں نے بی این پی (ایم) کے رہنماؤں سے بات چیت کی اور احتجاج اور حکومت کے ردعمل پر اپنے نقطہ نظر سے آگاہ کیا۔
مذاکرات کے بار بار مطالبے کے باوجود بلوچستان حکومت نے بی این پی ایم کے لانگ مارچ کو مسلسل تیسرے روز بھی روک رکھا ہے، اس کی وجہ سے کوئٹہ کا متعدد اضلاع سے رابطہ منقطع ہوگیا ہے، جس سے ہزاروں افراد متاثر ہوئے ہیں، خاص طور پر وہ لوگ جو عید کی تقریبات کے لیے سفر کر رہے ہیں۔
اتوار کے روز حکام نے کنڈ میسوری اور آغابرگ میں اضافی کنٹینرز لگا کر پابندیوں کو مزید سخت کر دیا، جس سے کوئٹہ کے اہم داخلی اور خارجی راستوں کا مؤثر طور پر رابطہ منقطع ہو گیا۔ اس اقدام نے شہریوں کی مشکلات کو دوگنا کر دیا ہے۔