پاکستان

چولستان کی زمین فوج کے 2 اداروں کو منتقل کرنے کے معاہدے پر عملدرآمد روک دیا گیا

پنجاب حکومت نے بتایا کہ موجودہ کابینہ نے نگران حکومت میں اراضی منتقلی کے معاہدوں اور نوٹیفکیشنز کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کر دیا ہے، لاہور ہائیکورٹ بہاولپور بینچ کا حکم نامہ

پنجاب حکومت نے نگران حکومت کے دور میں چولستان کی زمین پاک فوج سے وابستہ دو اداروں کو منتقل کرنے کے لیے کیے گئے 2 معاہدوں پر عمل درآمد روک دیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ کے بہاولپور بینچ کے جسٹس عاصم حفیظ کی جانب سے جاری کردہ حکم نامے کے مطابق پنجاب حکومت کے حکام نے عدالت کو بتایا کہ صوبائی کابینہ نے نگران دور حکومت مین بورڈ آف ریونیو کی جانب سے جاری کردہ اراضی منتقلی کے معاہدوں اور اس کے بعد کے نوٹی فکیشنز کا ازسرنو جائزہ لینا شروع کردیا ہے۔

یہ حکم اس وقت سامنے آیا جب بینچ نے چولستان کی دور افتادہ بستی چک نمبر 176 ڈی بی کے 100 سے زائد رہائشیوں کی جانب سے دائر درخواست کو نمٹا دیا، جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ انہیں ریاستی سرپرستی میں چلنے والے منصوبے کے لیے اپنی زمین دینے پر مجبور کیا جا رہا ہے۔

عدالت نے ریمارکس دیے کہ نگران حکومت نے چولستان میں ہزاروں ایکڑ اراضی کی منتقلی کے لیے میسرز گرین کارپوریٹ انیشی ایٹوز اور ملٹری فیملی ری ہیبلیٹیشن آرگنائزیشن (ایم ایف آر او) کے ساتھ جوائنٹ وینچر معاہدوں پر عمل کرتے ہوئے اپنے مینڈیٹ سے تجاوز کیا۔

عدالت نے کہا کہ حکومت نگران کابینہ کی جانب سے کیے گئے غیر قانونی اقدام کا دفاع کرنے کے بجائے معاملے کا ازسرنو جائزہ لینے کی خواہش مند ہے۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ سابقہ نوٹی فکیشنز اور معاہدوں پر نظر ثانی کی سمری صوبائی کابینہ کے سامنے پیش کردی گئی ہے جس پر 8 ہفتوں میں فیصلہ متوقع ہے۔

درخواست گزاروں کے ان خدشات کے بارے میں پوچھے جانے پر کہ انہیں ان کی زمین سے محروم کردیا جائے گا، عدالت کو صوبائی حکومت کے نمائندوں نے یقین دلایا کہ جب تک کابینہ نیا فیصلہ نہیں کرتی، ان کے خلاف کوئی منفی کارروائی نہیں کی جائے گی۔

حکم نامے میں کہا گیا ہے کہ کابینہ نگران حکومت کے اختیارات کے دائرہ کار اور زمین کے ایک بڑے حصے کو لیز پر دینے کے لیے ایک پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کے ساتھ کیے گئے معاہدوں کی قانونی حیثیت کے حوالے سے عدالت کی جانب سے پہلے تیار کیے گئے 11 سوالات پر بھی غور کرے۔