پلڈاٹ نے پارلیمان میں موجودہ حاضری کے نظام میں کوتاہی کا انکشاف کردیا
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف لیجسلیٹو ڈویلپمنٹ اینڈ ٹرانسپیرنسی (پلڈاٹ) نے 16ویں قومی اسمبلی کے پہلے سال کی کارکردگی کی سالانہ جائزہ رپورٹ میں انکشاف کیا ہے کہ پارلیمان میں موجودہ حاضری کے نظام میں 5 منٹ تک اجلاس میں شریک ہونے والے ممبر اور 5 گھنٹے تک موجود دوسرے ممبر میں کوئی فرق نہیں کرتا۔
رپورٹ میں پلڈاٹ کا کہنا تھا کہ حاضری میں کمی کے باعث کورم کی نشاندہی اور کورم کی کمی کی وجہ سے اجلاس ملتوی بھی ہوتے ہیں، 16 ویں قومی اسمبلی نے ایجنڈا آئٹمز کی منصوبہ بندی اور نمٹانے کے معاملے میں نسبتاً کمزور کارکردگی دکھائی ہے۔
پلڈاٹ کے مطابق 16 ویں قومی اسمبلی کے پہلے سال کے وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے کل 93 اجلاسوں میں سے صرف 17 اجلاسوں میں شرکت کی۔
واضح رہے کہ عمران خان نے 15 ویں قومی اسمبلی کے پہلے سال میں 96 میں سے صرف 18 فیصد اجلاسوں میں شرکت کی تھی جبکہنواز شریف بطور وزیر اعظم 14ویں قومی اسمبلی کے پہلے سال کے 103 میں سے صرف 7 اجلاسوں میں شریک ہوئے تھے۔
عمر ایوب خان بطور اپوزیشن لیڈر 62 اجلاسوں جبکہ محمد شہباز شریف بطور اپوزیشن لیڈر 53 اجلاسوں میں شرکت کی۔
عمر ایوب خان نے 16 ویں قومی اسمبلی کے پہلے سال کے دوران 13 گھنٹے اور 28 منٹ کے ریکارڈ شدہ ٹاک ٹائم کے ساتھ سب سے زیادہ خطاب کرنے والے ممبر اسمبلی بھی ہیں۔
16 ویں قومی اسمبلی نے بھی قائمہ کمیٹیوں کی تشکیل سے متعلق اپنے اصول کو نظرانداز کیا۔
قائمہ کمیٹیوں کو 3 اپریل 2024 تک فعال کرنا لازمی تھا، تاہم 17 مئی 2024 تک کمیٹیوں کو فعال نہیں کیا گیا اور کمیٹیوں کے چیئرمینوں کے انتخاب میں مزید تاخیر ہوئی۔