ڈونلڈ ٹرمپ کا اتحادیوں اور حریفوں پر ’جوابی ٹیرف‘ عائد کرنے کا اعلان
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتحادیوں اور حریفوں دونوں پر ’جوابی ٹیرف‘ عائد کرنے کے منصوبے کا اعلان کیا ہے، جس سے بین الاقوامی تجارتی جنگ میں ڈرامائی تیزی آئے گی اور جس کے حوالے سے ماہرین اقتصادیات نے متنبہ کیا ہے کہ اس سے مہنگائی میں اضافہ ہوسکتا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اوول آفس میں بات کرتے ہوئے امریکی صدر نے میڈیا سے بات کرتے ہوئے کہا کہ انہوں نے جوابی ٹیرف عائد کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
ان کا مزید کہنا تھا کہ ’تجارتی معاملات میں اکثر امریکی اتحادی ہمارے دشمنوں سے بدتر رہے ہیں۔‘
ٹیکس کی شرح ہر امریکی تجارتی پارٹنر کے مطابق رکھی جائے گی اور اس کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس (وی اے ٹی) سمیت مختلف عوامل پر غور کیا جائے گا، یعنی ہر ملک پر اتنا ہی جوابی ٹیکس ہوگا جتنا وہ امریکی مصنوعات پر لگاتے ہیں۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے عہدہ سنبھالنے کے بعد سے امریکا کے چند بڑے تجارتی شراکت داروں کو نشانہ بناتے ہوئے وسیع پیمانے پر ٹیرف عائد کرنے کا اعلان کیا ہے۔
ٹیرف عائد کرنے کے حوالے سے وہ دلیل دیتے ہیں کہ اس طرح غیر منصفانہ طریقوں سے نمٹنے اور کچھ معاملات میں پالیسی پر اثرانداز ہونے کے لیے بھی مدد ملے گی۔
امریکی صدر نے ٹیرف کو آمدنی بڑھانے، تجارتی عدم توازن ختم کرنے اور دوسرے ممالک پر دباؤ ڈالنے کا ایک طریقہ قرار دیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے یہ اعلان بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی سے واشنگٹن میں ملاقات سے کچھ گھنٹے قبل کیا گیا۔
تاہم اب تک یہ واضح نہیں ہے کہ اگر ٹیرف عائد کیے جاتے ہیں تو ان کا اطلاق کب سے ہوگا۔
تجزیہ کاروں نے متنبہ کیا ہے کہ اگر جوابی ڈیوٹیز عائد کی جاتی ہیں تو اس کا اثر ابھرتی ہوئی اقتصادی منڈیوں جیسے بھارت، تھائی لینڈ پر ہوگا جنہوں نے امریکی برآمدات پر بھاری محصولات عائد کر رکھی ہیں۔
تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ جنوبی کوریا جیسے ممالک جن کے واشنگٹن کے ساتھ تجارتی معاہدے ہیں، انہیں اس اقدام سے کم خطرہ ہے۔
افراط زر بڑھنے کے خدشات
نومبر میں ہونے والے انتخابات میں امریکی عوام کا بنیادی مسئلہ مہنگائی میں اضافہ تھا، جسے ری پبلکن پارٹی نے کم کرنے کا وعدہ کیا تھا اور اسی وجہ سے ڈونلڈ ٹرمپ اقتدار حاصل کرنے میں کامیاب ہو سکے تھے۔
تاہم اقتصادی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ درآمدات پر بھاری محصولات سے مہنگائی میں کمی نہیں بلکہ اضافہ ہوگا،جس کا اثر اقتصادی ترقی پربھی پڑ سکتا ہے۔
امریکی صدر کے نامزد کردہ اقتصادی سیکریٹری ہاورڈ لٹنک نے اس خیال کو مسترد کیا ہے کہ محصولات سے افراط زر یا قیمتوں میں میں اضافہ ہوگا۔
ڈونلڈ ٹرمپ کے پالیسی پر ڈپٹی چیف آف اسٹاف اسٹیفن ملر نے اس سے قبل کہا تھا کہ ممالک غیر منصفانہ تجارتی فوائد حاصل کرنے کے لیے ویلیو ایڈڈ ٹیکس عائد کرتے ہیں، تاہم تجزیہ کاروں نے ان کے اس بیانیہ کو غلط قرار دیا ہے۔
انتخابی مہم کے دوران امریکی صدر نے ’آنکھ کے بدلے آنکھ اور ٹیرف کے بدلے اتنی ہی شرح سے ٹیرف کا وعدہ کیا تھا۔
جاپانی مالیاتی ادارے نومورا کی رواں ہفتے کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ ’مثال کے طور پر اگر بھارت امریکی گاڑیوں پر 25 فیصد ٹیرف عائد کرتا ہے، تو واشنگٹن بھی بھارت سے گاڑیوں کی درآمد پر 25 فیصد ٹیرف لے گا۔‘
نان ٹیرف عوامل پر غور کرنے سے یہ حساب کتاب تبدیل ہوسکتا ہے۔
نئی دہلی نے بھارتی وزیر اعظم کے دورے سے قبل فوری ٹیرف رعایتوں کی پیش کش کی تھی، جس میں مہنگی موٹر سائیکلیں بھی شامل ہیں۔
نومورا کے تجزیہ کاروں کا خیال ہے کہ ’ٹرمپ کا باہمی محصولات کے نفاذ کا مقصد امریکی برآمدات کے لیے منصفانہ ماحول یقینی بنانا ہے، جس سے بالواسطہ طور پر شراکت دار ممالک کے ساتھ امریکی تجارتی عدم توازن کو بھی دور کیا جا سکتا ہے۔‘
ایشیائی معیشتوں میں بھارت کا امریکی برآمدات پر اوسط ٹیرف 9.5 فیصد ہے جبکہ امریکا 3 فیصد شرح وصول کرتا ہے۔
نومورا کے مطابق تھائی لینڈ میں امریکی مصنوعات پر شرح 6.2 فیصد اور چین میں 7.1 فیصد ہے۔
کیٹو انسٹی ٹیوٹ کے اسکاٹ لنکی کوم نے اس سے قبل کہا تھا کہ بھاری محصولات اکثر غریب ممالک کی جانب سے عائد کیے جاتے ہیں، جنہیں وہ آمدنی میں اضافے کے لیے بطور ٹول استعمال کرتے ہیں، کیونکہ ان کے پاس نان ٹیرف رکاوٹیں عائد کرنے کے لیے کم وسائل ہوتے ہیں۔