• KHI: Maghrib 6:33pm Isha 7:49pm
  • LHR: Maghrib 5:59pm Isha 7:20pm
  • ISB: Maghrib 6:03pm Isha 7:26pm
  • KHI: Maghrib 6:33pm Isha 7:49pm
  • LHR: Maghrib 5:59pm Isha 7:20pm
  • ISB: Maghrib 6:03pm Isha 7:26pm

برطانوی نژاد خاتون کو ہراساں کرنے پر آزاد کشمیر میں ایس ایچ او کےخلاف مقدمہ درج

شائع February 27, 2025
پولیس ترجمان نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنے والا خواہ کوئی پولیس افسر ہی کیوں نہ ہو، کارروائی کی جائے گی — فائل فوٹو
پولیس ترجمان نے کہا کہ خواتین کو ہراساں کرنے والا خواہ کوئی پولیس افسر ہی کیوں نہ ہو، کارروائی کی جائے گی — فائل فوٹو

میرپور میں برطانوی نژاد کشمیری خاتون کو مبینہ طور پر ہراساں کرنے کے الزام میں آزاد جموں و کشمیر کے اسٹیشن ہاؤس افسر (ایس ایچ او) کو ملازمت سے معطل کر دیا گیا، اور ان کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کر لیا گیا ہے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق خاتون کو میرپور کے ڈویژنل کمشنر کی جانب سے مشورہ دیا گیا تھا کہ وہ جائیداد کے قبضے کے معاملے میں ازالے کے لیے تھوتھل پولیس اسٹیشن سے رجوع کریں۔

جب خاتون نے ایس ایچ او چوہدری عمران احمد سے رابطہ کیا تو انہوں نے کہا کہ وہ خود انہیں لینے گھر آئیں گے۔

تھانیدار کی گاڑی میں سواری کے دوران خاتون نے بار بار ایس ایچ او کی جانب سے ہراساں کرنے کی کوششوں کا سامنا کیا اور مزاحمت کی۔

ذرائع نے بتایا کہ متاثرہ خاتون کے موبائل فون پر خفیہ طور پر ریکارڈ کی گئی ایک آڈیو کلپ میں مبینہ طور پر نشے میں دھت ایس ایچ او کو اس پر اگلی سیٹ پر بیٹھنے، عبایا ہٹانے، دوستی کرنے اور اس کے گھر جانے کے لیے دباؤ ڈالتے ہوئے سنا گیا ہے۔

یہ ریکارڈنگ مبینہ طور پر 21 فروری کو انسپکٹر جنرل آف پولیس (آئی جی پی) رانا عبدالجبار کی توجہ میں لائی گئی تھی۔

آئی جی پی نے فوری نوٹس لیتے ہوئے ایس ایچ او کو ہیڈکوارٹرز طلب کرلیا اور ایس ایس پی میرپور خاور شوکت علی کو ابتدائی انکوائری کی ہدایت کی۔

محکمہ پولیس کے ترجمان نے منگل کے روز بیان میں کہا کہ انکوائری میں ہراسانی کے الزامات کی تصدیق ہوئی ہے، جس کے نتیجے میں ایس ایچ او کے خلاف فوجداری مقدمہ درج کیا گیا ہے۔

ملزم کو مزید احکامات تک ملازمت سے معطل کر دیا گیا اور اس کے خلاف الگ سے محکمانہ کارروائی شروع کی گئی ہے۔

پولیس ترجمان نے کہا کہ محکمانہ تحقیقات کے نتائج کی بنیاد پر انسپکٹر کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی، انہوں نے ہراسانی کے حوالے سے محکمہ پولیس کی زیرو ٹالرنس پالیسی کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ غیر قانونی سرگرمیوں یا جرائم میں ملوث کوئی بھی شخص، چاہے وہ محکمہ پولیس سے وابستہ ہو یا کسی بھی عہدے پر فائز ہو، بلاامتیاز قانونی کارروائی کا سامنا کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے خلاف ہراسانی کی شکایات کو برداشت نہیں کیا جائے گا، اور ایسے پولیس اہلکاروں یا افسران کے خلاف سخت تادیبی اور فوجداری کارروائی کی جائے گی، خواتین کے تحفظ کو یقینی بنانا اولین ترجیح رہے گی۔

کارٹون

کارٹون : 28 فروری 2025
کارٹون : 27 فروری 2025