احسن بھون، جوڈیشل کمیشن میں پاکستان بار کونسل کے نمائندہ مقرر
سینئر وکیل محمد احسن بھون کو اختر حسین کی جگہ جوڈیشل کمیشن آف پاکستان (جے سی پی) میں پاکستان بار کونسل (پی بی سی) کا نمائندہ مقرر کردیا گیا۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق لاہور ہائی کورٹ میں ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی ترقی پر غور کے لیے جے سی پی کا اجلاس جمعہ کو ہوگا۔
احسن بھون کو پاکستان بار کونسل کے 245ویں اجلاس کے دوران جے سی پی میں بار کا نمائندہ منتخب کیا گیا، اجلاس کی صدارت اٹارنی جنرل فار پاکستان (اے جی پی) منصور عثمان اعوان نے کی جو پی بی سی کے چیئرمین بھی ہیں۔
احسن بھون کا تعلق آزاد گروپ سے ہے جو عاصمہ گروپ کے نام سے مشہور ہے۔
وہ بار کونسل کے وائس چیئرمین اور سپریم کورٹ بار ایسوسی ایشن (ایس سی بی اے) کے صدر بھی رہ چکے ہیں۔
احسن بھون آئندہ دو سال تک ’جے سی پی‘ میں ’پی بی سی‘ کی نمائندگی کریں گے۔ وہ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کے قریبی سمجھے جاتے ہیں۔
انتخابات کے دوران، اے جی پی نے آئین کے آرٹیکل 175-اے(2)(vi) کے تحت جے سی پی کے رکن کی نامزدگی کے لیے تجاویز طلب کیں۔ اٹارنی جنرل، کونسل کے انتخابات کے لیے ریٹرننگ افسر کے طور پر کام کرتا ہے۔
ارکان خوش دل خان اور محمد یٰسین آزاد نے محمد احسن بھون کا نام تجویز کیا جس کی حسن رضا پاشا نے تائید کی۔
پیر محمد نے جے سی پی کے رکن کے لیے مسعود چشتی کا نام تجویز کیا۔
شفقت محمود چوہان نے طاہر فراز عباسی کو نمائندہ مقرر کرنے کے لیے تجویز کیا اور عابد شاہد زبیری نے اس کی حمایت کی۔
محمد احسن بھون کے حق میں 14 اور طاہر فراز عباسی کے حق میں 4 ارکان نے ووٹ ڈالے۔ منیر کاکڑ نے ووٹ ڈالنے سے گریز کیا۔ ہاتھ دکھا کر ووٹ ڈالے گئے۔
اٹارنی جنرل نے احسن بھون کو 26 فروری 2025 سے 25 فروری 2027 تک دو سال کے لیے جے سی پی کا رکن منتخب کرنے کا اعلان کیا۔
احسن بھون کو عدالتی تقرریوں پر تنازعات کے تناظر میں پیر کو اختر حسین کے استعفیٰ دینے کے بعد جوڈیشل کمیشن کا رکن منتخب کیا گیا ہے۔
اپنے استعفے کے خط میں اختر حسین نے کہا تھا کہ چونکہ وہ موجودہ حالات میں کام جاری نہیں رکھ پا رہے تھے اس لیے انہوں نے جے سی پی کے رکن کی حیثیت سے استعفیٰ دینے کا فیصلہ کیا ہے۔ استعفے کا خط جے سی پی کے چیئرمین کو بھیجا گیا تھا، جو چیف جسٹس آف پاکستان (سی جے پی) یحییٰ آفریدی ہیں۔
اختر حسین نے آئین کی 26ویں ترمیم کے تحت 36 ججز کو ہائی کورٹس اور سپریم کورٹ کے 7 ججز کو ترقی دینے کے لیے بلائے گئے جے سی پی کے متعدد اجلاسوں میں شرکت کی تھی۔