• KHI: Maghrib 6:33pm Isha 7:49pm
  • LHR: Maghrib 5:59pm Isha 7:20pm
  • ISB: Maghrib 6:03pm Isha 7:26pm
  • KHI: Maghrib 6:33pm Isha 7:49pm
  • LHR: Maghrib 5:59pm Isha 7:20pm
  • ISB: Maghrib 6:03pm Isha 7:26pm

’گالم گلوچ کے بعد فائرنگ، خون صاف کیا‘ گواہ کے سنسنی خیز انکشافات، ارمغان کو پہچان لیا

شائع February 27, 2025 اپ ڈیٹ February 28, 2025 01:18pm
گواہ نے بتایا کہ ہمارا کھانا باس آن لائن منگواتے تھے، نیچے رہتے تھے، جب کام ہوتا تھا تو باس بلاتے تھے
— فائل فوٹو: ڈان نیوز
گواہ نے بتایا کہ ہمارا کھانا باس آن لائن منگواتے تھے، نیچے رہتے تھے، جب کام ہوتا تھا تو باس بلاتے تھے — فائل فوٹو: ڈان نیوز

کراچی کے علاقے ڈیفنس کے رہائشی نوجوان مصطفیٰ عامر کے قتل کے مقدمے میں گواہ غلام مصطفیٰ نے ملزم ارمغان کو بیان ریکارڈ کراتے ہوئے بطور ملزم شناخت کرلیا۔

ڈان نیوز کے مطابق سٹی کورٹ میں مصطفیٰ عامر قتل کیس کی سماعت کے دوران 2 گواہوں کو بیان ریکارڈ کروانے کے لیے پیش کیا گیا، اس دوران ملزمان ارمغان اور شیراز کو بھی عدالت لایا گیا تھا، گواہ نے سنسنی خیز انکشافات کیے ہیں۔

گواہ نے بیان دیا کہ میرا نام غلام مصطفی ہے، میرے والد کا نام عابد ہے، حیدرآباد کا رہائشی ہوں، مجھے کراچی کے علاقے ڈیفنس میں بنگلہ نمبر 35 میں کام پر لگایا گیا تھا، میں بنگلے میں صفائی کا کام کرتا تھا، نیو ایئر نائٹ کو 2 بجے کال آئی، مجھے گھر بلایا گیا تو میں نے منع کر دیا، اگلے دن یکم جنوری کو 3 بجے بنگلے پر گیا تو دیکھا کہ گھر بکھرا ہوا تھا، 30 سے 40 لوگ آئے ہوئے تھے۔

دوران سماعت عدالت کے جج نے کہا کہ ملزموں کو آگے لایا جائے، ملزمان کھڑے ہوجائیں، اس پر ملزمان کھرے ہوگئے۔

گواہ نے ملزم ارمغان کی شناخت کرتے ہوئے عدالت کو بتایا کہ بنگلے میں ’باس‘ رہتے تھے، اوپر والے فلور پر ملزم ارمغان رہتا ہے، ہمارا کھانا بھی باس آن لائن منگواتے تھے، ہم نیچے رہتے تھے، جب کام ہوتا تھا تو باس ہمیں بلاتے تھے، گھر کا گیٹ ریموٹ سے کھلتا تھا۔

گواہ نے مزید بتایا کہ ہمیں باہر جانے کی بھی اجازت نہیں تھی، 6 جنوری کو رات 9 بجے ایک لڑکا آیا، بلیک ٹراؤزر میں جو اوپر چلاگیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ بلیک ٹراؤزر والا لڑکا دیکھنے میں کیسا تھا؟ جس پر گواہ نے بتایا کہ وہ دبلا پتلا تھااور اوپر چلا گیا، پھر کچھ دیربعد گالم گلوچ کی آواز آئی، پھر کچھ دیر بعد فائرنگ کی آواز آئی۔

گواہ غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ باس نے کیمرے میں دیکھ کر ہمیں اوپر بلایا، ہمیں کمرے میں رہنے کا کہا گیا اور کہا کہ ڈرو نہیں، تھوڑی دیر بعد باس نے اوپر بلایا اور کہا کہ کپڑا اور شاور لیکر آؤ، میں اوپر چلا گیا، باس کے پاس ایک لڑکا چھوٹے قد کا چشمہ لگایا ہوا موجود تھا۔

گواہ نے عدالت کے روبرو بیان میں کہا کہ ہم سے باس نے خون صاف کرایا، ایک لڑکا بلیک ٹراؤزر میں موجود تھا لال پھول والے، لیکن وہ لڑکا نہیں تھا جو آیا تھا، خون صاف کرکے رات ایک بجے ہم کھانا کھانے بیٹھ گئے۔

گواہ نے بتایا کہ جب میں نے دیکھا رات ایک بجے جو لڑکا آیا تھا، اس کی گاڑی اور وہ موجود نہیں تھا، تب میں اپنے کمرے میں جاکر سوگیا، نیند نہیں آرہی تھی، فجر کی نماز پڑھی، دن ایک ڈیڑھ بجے اٹھے تو زور سے گیٹ پیٹ رہے تھے آوازیں دے رہے تھے، جب ہم نے گیٹ کھولا تو باس اور اسکا دوست موجود تھے، ہمیں کہا کہ گیٹ کیوں بند کیا ہم نے کہا ہم سمجھے آپ سو گئے ہیں۔

گواہ نے بتایا کہ باس نے کہا کہ ٹھیک ہے جاکر آرام کرو کوئی مسئلہ نہیں، پھر باس نے اسی دن اوپر بلایا ہم دونوں کو بولتے ہیں کہ نشان صاف کرو مگر اس وقت ٹراؤزر جہاں رکھا تھا وہاں موجود نہیں تھا، باس نے ہمیں چھٹی دے دی، ہمیں اوپر جانے کی اجازت نہیں تھی، پانی پینے یا کھانا کھانے کے لیے فون کرتے تھے۔

گواہ غلام مصطفیٰ نے بتایا کہ کچھ دن بعد پولیس کا چھاپہ پڑا، اوپر سے فائرنگ ہورہی تھی ہم اپنے کمرے میں ہی تھے، ہم چھپ گئے تھے، کیوں کہ آمنے سامنے فائرنگ ہو رہی تھی، ہم چھپ کر باہر نکلے اور چلے گئے، ہم 10 تاریخ کو بنگلے کے آس پاس سامان اٹھانے آئے تو پولیس نے پکڑ لیا۔

کیس کا پس منظر

یاد رہے کہ ڈپٹی انسپکٹر جنرل (ڈی آئی جی) سی آئی اے مقدس حیدر نے 14 فروری کو پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا تھا کہ مقتول مصطفیٰ عامر 6 جنوری کو ڈیفنس کے علاقے سے لاپتا ہوا تھا، مقتول کی والدہ نے اگلے روز بیٹے کی گمشدگی کا مقدمہ درج کروایا تھا۔

25 جنوری کو مصطفیٰ کی والدہ کو امریکی نمبر سے 2 کروڑ روپے تاوان کی کال موصول ہونے کے بعد مقدمے میں اغوا برائے تاوان کی دفعات شامل کی گئی تھیں اور مقدمہ اینٹی وائلنٹ کرائم سیل (اے وی سی سی) منتقل کیا گیا تھا۔

بعد ازاں، اے وی سی سی نے 9 فروری کو ڈیفنس میں واقع ملزم کی رہائشگاہ پر چھاپہ مارا تھا تاہم ملزم نے پولیس پر فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں ڈی ایس پی اے وی سی سی احسن ذوالفقار اور ان کا محافظ زخمی ہوگیا تھا۔

ملزم کو کئی گھنٹے کی کوششوں کے بعد گرفتار کیا گیا تھا، جس کے بعد پولیس نے جسمانی ریمانڈ لینے کے لیے گرفتار ملزم کو انسداد دہشت گردی کی عدالت میں پیش کیا تو جج نے ملزم کا ریمانڈ دینے کے بجائے اسے عدالتی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا تھا، جس کے خلاف سندھ پولیس نے عدالت عالیہ میں اپیل دائر کی تھی۔

ملزم نے ابتدائی تفیش میں دعویٰ کیا تھا کہ اس نے مصطفیٰ عامر کو قتل کرنے کے بعد لاش ملیر کے علاقے میں پھینک دی تھی لیکن بعدازاں اپنے بیان سے منحرف ہوگیا تھا، بعدازاں اے وی سی سی اور سٹیزنز پولیس لائژن کمیٹی (سی پی ایل سی) اور وفاقی حساس ادارے کی مشترکہ کوششوں سے ملزم کے دوست شیراز کی گرفتاری عمل میں آئی تھی جس نے اعتراف کیا تھا کہ ارمغان نے اس کی ملی بھگت سے مصطفیٰ عامر کو 6 جنوری کو گھر میں تشدد کا نشانہ بناکر قتل کرنے کے بعد لاش اسی کی گاڑی میں حب لے جانے کے بعد نذرآتش کردی تھی۔

ملزم شیراز کی نشاندہی کے بعد پولیس نے مقتول کی جلی ہوئی گاڑی حب سے برآمد کرلی تھی جبکہ حب پولیس مقتول کی لاش کو پہلے ہی برآمد کرکے رفاہی ادارے کے حوالے کرچکی تھی جسے امانتاً دفن کردیا گیا تھا، مصطفیٰ کی لاش ملنے کے بعد مقدمے میں قتل کی دفعات شامل کی گئی ہیں۔

تفتیشی افسران کے مطابق حب پولیس نے ڈی این اے نمونے لینے کے بعد لاش ایدھی کے حوالے کی تھی، گرفتار کیا گیا دوسرا ملزم شیراز ارمغان کے پاس کام کرتا تھا، قتل کے منصوبے اور لاش چھپانےکی منصوبہ بندی میں شیراز شامل تھا۔

کراچی پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول مصطفیٰ کا اصل موبائل فون تاحال نہیں ملا ہے، ملزم ارمغان سے لڑکی کی تفصیلات، آلہ قتل اور موبائل فون کے حوالے سے مزید تفصیلات حاصل کی جائیں گی۔

بعدازاں پولیس نے لاش کے پوسٹ مارٹم کے لیے جوڈیشل مجسٹریٹ کی عدالت میں قبر کشائی کی درخواست دی تھی جس پر گزشتہ روز عدالت نے قبر کشائی کا حکم جاری کردیا تھا۔

دریں اثنا، 15 فروری کو ڈان نیوز کی رپورٹ میں تفتیشی حکام کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا تھا کہ مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑے کی وجہ ایک لڑکی تھی جو 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی تھی، لڑکی سے انٹرپول کے ذریعے رابطے کی کوشش کی جارہی ہے۔

تفتیشی حکام نے بتایا کہ ملزم ارمغان اور مقتول مصطفیٰ دونوں دوست تھے، لڑکی پر مصطفیٰ اور ارمغان میں جھگڑا نیو ایئر نائٹ پر شروع ہوا تھا، تلخ کلامی کے بعد ارمغان نے مصطفیٰ اور لڑکی کو مارنے کی دھمکی دی تھی۔

پولیس حکام نے بتایا کہ ارمغان نے 6 جنوری کو مصطفیٰ کو بلایا اور تشدد کا نشانہ بنایا، لڑکی 12 جنوری کو بیرون ملک چلی گئی جس سے انٹرپول کے ذریعے رابطہ کیا جارہا ہے، کیس کے لیے لڑکی کا بیان ضروری ہے۔

کارٹون

کارٹون : 28 فروری 2025
کارٹون : 27 فروری 2025