بنگلہ دیش میں انتخابات سے قبل طلبہ کی نئی سیاسی جماعت ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ لانچ
گزشتہ سال حکومت کا تختہ الٹنے میں کلیدی کردار ادا کرنے والے بنگلہ دیشی طلبہ نے ایک نئی سیاسی جماعت کا اعلان کر دیا ہے جو متوقع انتخابات سے قبل میدان میں شامل ہونے والی تازہ ترین سیاسی جماعت ہے۔
ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق اس پارٹی میں اسٹوڈنٹس اگینسٹ ڈسکریمنیشن (ایس اے ڈی) گروپ کے اہم منتظمین شامل ہیں، جنہوں نے اگست میں سابق وزیر اعظم شیخ حسینہ کو اقتدار سے بے دخل کرنے والی بغاوت کی قیادت کی تھی۔
نئی جاتیہ شہری پارٹی یا ’نیشنل سٹیزن پارٹی‘ نے جمعہ کے روز پارلیمنٹ کے سامنے اپنے سفر کا آغاز کیا، جس میں ہزاروں حامیوں نے بنگلہ دیش کے قومی پرچم کے سبز اور سرخ رنگوں کے بندانے پہن رکھے تھے۔
عبوری حکومت کے سابق مشیر ناہید اسلام نئی سیاسی جماعت کے کنوینر کی حیثیت سے قیادت کر رہے ہیں، جب کہ اختر حسین سیکریٹری ہوں گے، ناہید اسلام نے کہا کہ نئی پارٹی جمہوری، مساوات پسند، عوامی پارٹی ہوگی۔
انہوں نے کہا کہ ایک دوسری جمہوریہ اب وقت کی ضرورت ہے، اور اس کے لیے ہمیں سب سے پہلے دستور ساز اسمبلی کے انتخابات کی ضرورت ہے۔
اختر حسین نے کہا کہ ان کی پارٹی سماجی انصاف اور انسانی وقار کے حصول کے لیے جدوجہد کرے گی، نوجوان ایک نیا آئین چاہتے ہیں جس کا سیاق و سباق طے ہو چکا ہے۔
منتظمین نے ان واقعات کی عکاسی کرنے والی دستاویزی فلمیں بھی دکھائیں جن کی وجہ سے شیخ حسینہ کی حکومت کا خاتمہ ہوا۔
حاضرین میں 37 سالہ محمد شاہین عالم بھی شامل تھے جنہوں نے بغاوت کے دوران اپنے نوعمر بیٹے کو کھو دیا تھا۔
شاہین عالم نے کہا کہ انہیں امید ہے کہ نئی پارٹی سوگوار خاندانوں کے لیے انصاف کو یقینی بنائے گی۔