رائل سوسائٹی کا ایلون مسک کو نکالنے کے مطالبے کے بعد اجلاس رواں ہفتے طلب
برطانیہ کی رائل سوسائٹی دنیا کے امیر ترین شخص اور ٹیکنالوجی کے ارب پتی ایلون مسک کو سائنس دانوں کے معروف ادارے سے نکالنے کے مطالبے کے بعد رواں ہفتے ایک اہم اجلاس منعقد کرے گی۔
ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق 1660 میں قائم ہونے والی رائل سوسائٹی خود کو ’دنیا کے بہت سے ممتاز سائنسدانوں کی فیلوشپ‘ کے طور پر بیان کرتی ہے، اور عالمی سائنسی کمیونٹی میں کلیدی آواز سمجھی جاتی ہے، اس سے قبل البرٹ آئن اسٹائن، آئزک نیوٹن، چارلس ڈارون، ڈوروتھی ہوجکن، بینجمن فرینکلن اور اسٹیفن ہاکنگ بھی اس ارکان میں شامل رہے ہیں۔
تاہم 2018 میں فیلو منتخب ہونے والے ’ایکس‘ کے مالک ایلون مسک کے بارے میں اراکین کی جانب سے تشویش کا اظہار کیے جانے کے بعد تنظیم نے کہا کہ اب وہ ’عوامی اعلانات اور فیلوز کے رویوں سے متعلق اصولوں‘ پر تبادلہ خیال کرے گی۔
نوبیل انعام جیتنے والوں سمیت 3 ہزار افراد نے گزشتہ ماہ شائع ہونے والے ایک کھلے خط پر دستخط کیے تھے، جس میں کہا گیا تھا کہ ایلون مسک نے ’بے بنیاد سازشی نظریات‘ کو فروغ دے کر سوسائٹی کے ضابطہ اخلاق کی خلاف ورزی کی ہے۔
محققین کا کہنا ہے کہ ایلون مسک نے 2022 میں سوشل میڈیا سائٹ پر ’قبضہ‘ کرنے کے بعد ’ایکس‘ میں تبدیلیاں کیں۔
53 سالہ ایلون مسک نے بار بار اپنے اکاؤنٹ کا استعمال کرتے ہوئے جھوٹ پھیلایا ہے، جس میں کووڈ 19، ویکسین، اسقاط حمل اور دل کے مسائل کے بارے میں غلط دعوے شامل ہیں۔