افغانستان میں پوست کی کاشت پر پابندی سے افیون کی قیمتوں میں 10 گنا اضافہ
اقوام متحدہ کے منشیات کے نگران ادارے نے کہا ہے کہ طالبان حکام کی جانب سے پوست کی کاشت پر عائد پابندی کے بعد افغانستان میں افیون کی قیمتوں میں اضافہ ہو رہا ہے اور جرائم پیشہ گروہوں کو بھاری منافع مل رہا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق ویانا میں قائم اقوام متحدہ کے دفتر برائے منشیات و جرائم (یو این او ڈی سی) نے ایک بیان میں کہا کہ 2024 میں افیون کی قیمت 750 ڈالر فی کلو گرام تک پہنچ گئی، جو 2022 میں 75 ڈالر فی کلو گرام کے مقابلے میں دس گنا زیادہ ہے جب طالبان حکومت نے پوست کی کاشت پر پابندی عائد کی تھی۔
ماضی میں دنیا میں سب سے زیادہ افیون پیدا کرنے والے ملک افغانستان میں پابندی کے بعد سے افیون کی پیداوار میں تیزی سے کمی دیکھنے میں آئی ہے، اس اقدام سے اسمگلنگ کو روکا گیا اور ہیروئن اور افیون کی ضبطی میں 2021 کے مقابلے میں 50 فیصد کمی واقع ہوئی جبکہ قیمتوں میں اضافہ ہوا۔
یو این او ڈی سی کا کہنا ہے کہ کم تجارتی حجم کے باوجود فی کلو گرام بلند قیمت اس بات کو یقینی بناتی ہے کہ اب بھی بڑے پیمانے پر منافع کمایا جا رہا ہے، جس سے بنیادی طور پر منظم جرائم پیشہ گروہوں میں شامل بڑے تاجروں اور برآمد کنندگان کو فائدہ پہنچ رہا ہے۔
یو این او ڈی سی کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طویل عرصے سے افیون کی اوسط قیمت 75 ڈالر فی کلو گرام تھی لیکن 2021 میں طالبان حکام کے اقتدار سنبھالنے کے بعد اس میں اضافہ ہوا اور دسمبر 2023 میں یہ 800 ڈالر فی کلو گرام کی ماہانہ بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ 2022 کے اختتام تک ملک میں موجود افیون کا تخمینہ 13 ہزار 200 ٹن تھا جس میں سے زیادہ تر بڑے تاجروں اور برآمد کنندگان کے پاس ہے، یہ مقدار 2027 تک افغان افیون کی طلب کو پورا کرنے کے لیے کافی ہوگی۔