کیا آپ امریکا مخالف ہیں؟ واشنگٹن کا اقوام متحدہ کے امدادی اداروں، این جی اوز سے سوال
واشنگٹن نے امریکی فنڈ حاصل کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، غیر منافع بخش تنظیموں اور خیراتی اداروں سے پوچھا ہے کہ آیا ان کے ’کمیونسٹ‘ روابط ہیں یا وہ ’صنفی نظریے‘ کی حمایت کرتے ہیں؟ ایسے دیگر موضوعات پر بھی سوالات پوچھے گئے ہیں جن کو امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نشانہ بنایا ہے۔
ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق واشنگٹن کی جانب سے غیر ملکی امداد کے اخراجات کے جائزے کے سلسلے میں 36 سوالات کی ایک فہرست چھوٹی اور بڑی تنظیموں کو بھیجی گئی، ایک بڑی انسانی تنظیم کے عملے کے ایک رکن نے کہا کہ ’مجھے نہیں لگتا کہ ہمیں پہلے کبھی ایسا کچھ ملا ہے‘۔
اگرچہ سوالنامے میں عطیہ دہندگان کے عام سوالات شامل تھے، جن میں لاگت کی تاثیر کی حکمت عملی جیسی چیزوں کے بارے میں سوالات شامل تھے، لیکن دیگر اس بات کا تعین کرنے کے لیے تیار کیے گئے تھے کہ آیا گرانٹس صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ کی سیاست سے مطابقت رکھتی ہیں یا نہیں۔
ایک سوال میں پوچھا گیا کہ کیا تنظیموں کو چین، روس، کیوبا یا ایران سے کوئی فنڈنگ ملی ہے؟ اور اس بات کی تصدیق کے لیے کہ اس منصوبے میں کوئی ’ڈی ای آئی عناصر‘ نہیں ہیں۔
ان سے یہ بھی کہا گیا ہے کہ وہ اس بات کی تصدیق کریں کہ ’یہ آب و ہوا یا ’ماحولیاتی انصاف‘ کا منصوبہ نہیں ہے، اور یہ کہ یہ خواتین کے تحفظ اور صنفی نظریے کے خلاف دفاع کے لیے مناسب اقدامات کرتا ہے، اور تنظیموں سے پوچھا گیا کہ کیا وہ کمیونسٹ، سوشلسٹ، یا مطلق العنان جماعتوں سے وابستہ اداروں، یا کسی ایسی پارٹی کے ساتھ کام کرتے ہیں جو امریکا مخالف عقائد کی حمایت کرتی ہے؟
اقوام متحدہ کے ترجمان اسٹیفن ڈوجارک نے صحافیوں بتایا کہ اقوام متحدہ کے متعدد اداروں کو امریکی حکومت کی جانب سے سوال نامے موصول ہوئے ہیں اور وہ اپنے متعلقہ قواعد کے مطابق جواب دیں گے۔
یو این ایڈز کے ایک ترجمان (جس نے اپنے آدھے بجٹ کے لیے امریکا پر انحصار کیا ہے) نے تصدیق کی ہے کہ اسے نئی انتظامیہ کے آنے کے بعد سے امریکا سے کئی مختلف سوال نامے موصول ہوئے ہیں، ہم ہر بار جواب دیتے ہیں، جواب دینے کی ڈیڈ لائن مختلف معلوم ہوتی ہے۔
’آمریت پسند‘
انٹرنیشنل سروس فار ہیومن رائٹس (آئی ایس ایچ آر) کے سربراہ فل لنچ نے کہا کہ آمریت پسند یا امریکا مخالف حکومتیں، ستم ظریفی یہ ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ کی ایک بہت ہی درست وضاحت ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ان کی تنظیم نے سوال نامے کا جواب دینے سے انکار کرتے ہوئے کہا ہے کہ امریکی حکومت کی جانب سے دی جانے والی ہماری گرانٹ ختم کر دی گئی ہے۔
آئی ایس ایچ آر این جی اوز سے لے کر اقوام متحدہ کی ایجنسیوں، ریڈ کراس اور دیگر بڑے بین الاقوامی انسانی حقوق کے اداروں تک کی ایک طویل قطار میں شامل تھا، جنہوں نے کہا کہ انہیں سوال نامہ موصول ہوا ہے۔
بہت سے لوگوں نے ان سوالات کے لہجے پر حیرت کا اظہار کیا، جو ٹرمپ کی جانب سے جنوری میں اقتدار میں واپسی کے فوری بعد بھیجے گئے تھے، جس میں نظر ثانی تک تقریباً تمام امریکی غیر ملکی امداد کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا گیا تھا۔
روایتی طور پر سب سے زیادہ امداد دینے والے اس ملک کی جانب سے اچانک سامنے آنے والے نقصان نے پوری انسانی ہمدردی کی برادری کو مشکل میں ڈال دیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جن لوگوں کو آپ پیسے دیتے ہیں انہیں سوال نامہ بھیجنا مناسب ہے، لیکن یہ سوال نامہ انسانی ہمدردی کے شعبے کے مطابق نہیں ہے۔
ایک بڑی بین الاقوامی امدادی تنظیم کے ایک اعلیٰ سطح کے عہدیدار نے کہا کہ ہمیں جو چیز بہت مشکل لگتی ہے وہ یہ ہے کہ بعض سیاسی مقاصد کے بارے میں بہت سارے سوالات ہیں۔
اسٹاپ ٹی بی کی سربراہ لوسیکا ڈیٹیو نے اس بات پر زور دیا کہ عطیہ دہندگان کے ملک کو یہ اختیار حاصل ہے کہ وہ اپنی فنڈنگ کو کس طرح استعمال کر رہے ہیں۔
واضح رہے کہ 1961 میں قائم ہونے والی امریکی امدادی ایجنسی یو ایس ایڈ کا سالانہ بجٹ 40 ارب ڈالر سے زائد ہے، جو غریب ممالک میں ترقی اور صحت پر خرچ ہوتا ہے تاہم ڈونلڈ ٹرمپ نے تمام غیر ملکی امداد روک دی ہے۔