ترکیہ: استنبول کے برطرف میئر اکرام امام اوغلو کے وکیل کو بھی حراست میں لے لیا گیا
ترک حکام نے جمعرات کے روز صدر رجب طیب اردوان کے سب سے بڑے سیاسی حریف استنبول کے میئر اکرام امام اوغلو کے وکیل کو حراست میں لے لیا۔
ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق بعض انتخابی پولز میں رجب طیب اردوان سے آگے رہنے والے اکرام امام اوغلو کو اتوار کے روز بدعنوانی کے الزامات کے تحت مقدمے کی سماعت تک جیل بھیج دیا گیا تھا، جس کے بعد ایک دہائی کے دوران سب سے بڑے حکومت مخالف مظاہرے ہوئے جس کے بعد ترکیہ میں بڑے پیمانے پر گرفتاریاں کی گئیں۔
حزب اختلاف سے تعلق رکھنے والے رکن پارلیمنٹ توران تسکین اوزر نے ’ایکس‘ پر ایک پوسٹ میں بتایا کہ ’تازہ ترین تحقیقات میں امام اوغلو کا دفاع کرنے والے وکیل محمد پہلوان کو من گھڑت وجوہات کی بنا پر حراست میں لیا گیا ہے۔‘
دریں اثنا، امریکی سیکریٹری خارجہ نے کہا کہ انہوں نے مظاہرین کی گرفتاریوں اور کریک ڈاؤن پر واشنگٹن کے خدشات سے ترک حکام کو آگاہ کر دیا ہے۔
مارکو روبیو نے واشنگٹن واپسی پر ایک ہوائی جہاز میں صحافیوں کو بتایا کہ ہم دیکھ رہے ہیں، ہم نے تشویش کا اظہار کیا ہے، ہم کسی بھی ایسے ملک کی حکمرانی میں اس طرح کا عدم استحکام دیکھنا پسند نہیں کرتے جو اتنا قریبی اتحادی ہے۔
نجی نشریاتی ادارے ’ہیبرترک‘ نے خبر دی ہے کہ وکیل کو ’مجرمانہ فعل سے حاصل ہونے والے اثاثوں کی منی لانڈرنگ‘ کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
اس کیس کی وجہ سے عارضی طور پر برطرف کیے جانے والے اکرام امام اوغلو نے اپنے وکیل کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا۔
اکرام امام اوغلو کے ’ایکس‘ اکاؤنٹ پر پر کہا گیا کہ ’جمہوریت پر شب خون مارنا کافی نہیں تھا، حکومت کو اس بغاوت کے متاثرین کی جانب سے اپنا دفاع کرنا بھی برداشت نہیں ہے۔‘
امام اوغلو کی سی ایچ پی، دیگر حزب اختلاف کی جماعتوں، انسانی حقوق کے گروپوں اور مغربی طاقتوں نے کہا ہے کہ میئر کے خلاف مقدمہ اردوان کے لیے ممکنہ انتخابی خطرے کو ختم کرنے کی ایک سیاسی کوشش ہے۔
حکومت عدلیہ پر کسی بھی طرح کے اثر و رسوخ سے انکار کرتی ہے اور کہتی ہے کہ عدالتیں آزاد ہیں۔
2 صحافی گرفتار
ترکیہ کی جرنلسٹس یونین نے بتایا کہ استنبول میں حکومت مخالف مظاہروں کی کوریج کرنے والے 2 صحافیوں کو جمعے کی علی الصبح حراست میں لے لیا گیا ہے۔
ان صحافیوں کی حراست ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب ایک روز قبل ترکی کی ایک عدالت نے فرانس پریس کے فوٹو جرنلسٹ یاسین اکگل سمیت 7 دیگر صحافیوں کو رہا کر دیا تھا، جنہیں گزشتہ ہفتے ہونے والے عوامی مظاہروں کی کوریج کے دوران ’غیر قانونی مارچ میں شرکت‘ کرنے پر جیل بھیج دیا گیا تھا۔