ایلون مسک کی اے آئی کمپنی نے ایکس کو 45 ارب ڈالر میں خرید لیا
ایلون مسک کی کمپنی ایکس اے آئی نے ایکس کو ایک معاہدے میں خرید لیا ہے جس میں سوشل میڈیا پلیٹ فارم کی قدر 33 ارب ڈالر ہے اور ان کی مصنوعی ذہانت کی کمپنی کی قیمت کو ایکس میں ان کے شریک سرمایہ کاروں کے ساتھ بانٹنے کی اجازت دی گئی ہے۔
ڈان اخبار میں شائع خبر کے مطابق اس معاہدے سے ایکس اے آئی کو اپنے چیٹ بوٹ ’گروک‘ کو تربیت دینے میں بھی مدد مل سکتی ہے۔
آٹومیکر ٹیسلا اور اسپیس ایکس کے سربراہ ایلون مسک نے ایکس پر ایک پوسٹ میں لکھا کہ ’ایکس اے آئی اور ایکس کے مستقبل ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں، آج ہم باضابطہ طور پر ڈیٹا، ماڈلز، کمپیوٹنگ، ڈسٹری بیوشن اور ٹیلنٹ کو یکجا کرنے کے لیے قدم اٹھا رہے ہیں‘، انہوں نے کہا کہ اس مجموعے کی مالیت ’ایکس اے آئی 80 ارب ڈالر اور ایکس کی قیمت 33 ارب ڈالر (45 ارب ڈالر میں سے 12 ارب ڈالر قرض) ہے‘۔
ایکس اور ایکس اے آئی کے نمائندوں نے فوری طور پر تبصرہ کی درخواستوں کا جواب نہیں دیا، معاہدے کی زیادہ تر تفصیلات واضح نہیں ہیں ، جیسے ایکس کے رہنماؤں کو نئی کمپنی میں کس طرح ضم کیا جائے گا یا کیا ریگولیٹری جانچ پڑتال ہوگی۔
دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے قریبی اتحادی بھی ہیں اور حکومتی کارکردگی کے محکمے کے سربراہ بھی ہیں۔
سعودی عرب کے سرمایہ کار شہزادہ الولید بن طلال، جو سرمایہ کاری کمپنی کنگڈم ہولڈنگ کے مالک ہیں، نے کہا کہ انہوں نے اس پیش رفت کی درخواست کی تھی۔
انہوں نے ایکس پر لکھا کہ ’ان کی کمپنیاں ایکس اور ایکس اے آئی میں دوسری سب سے بڑی سرمایہ کار ہیں، اس معاہدے کے بعد ہماری سرمایہ کاری کی مالیت 4 سے 5 ارب ڈالر تک پہنچنے کی توقع ہے اور میٹر چل رہا ہے‘۔
ڈی اے ڈیوڈسن کے تجزیہ کار گل لوریا کا کہنا ہے کہ جب قرضوں کو شامل کیا گیا تو ایکس کی قیمت 45 ارب ڈالر تک پہنچنا کوئی اتفاق نہیں ہے، یہ 2022 میں ٹوئٹر کے لیے نجی لین دین کے مقابلے میں ایک ارب ڈالر زیادہ ہے۔
ایکس اے آئی کے ایک سرمایہ کار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ وہ اس معاہدے سے حیران نہیں ہیں اور اسے ایلون مسک کی اپنی کمپنیوں میں اپنی قیادت اور انتظام کو مستحکم کرنے کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔