انسانی سرگرمیاں سمندروں کی قدرتی کاربن پکڑنے کی صلاحیت میں خلل کا سبب قرار
ایک نئی تحقیق کے مطابق سمندری فرش کو نقصان پہنچانے والی تجارتی سرگرمیاں سمندروں کی قدرتی کاربن پکڑنے کی صلاحیت میں خلل ڈال رہی ہیں، اور کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے پر ان کے اثرات پر مزید تحقیق کی ضرورت ہے۔
ڈان اخبار میں شائع فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق سائنس دانوں کا اندازہ ہے کہ انسانوں کی طرف سے خارج ہونے والی کاربن ڈائی آکسائیڈ کا تقریباً 30 فیصد سمندروں کے ذریعہ جذب کیا جاتا ہے ، جو آب و ہوا کو منظم کرنے اور گلوبل وارمنگ کی شرح کو کم کرنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔
سائنس ایڈوانسز جرنل میں شائع ہونے والی اس تحقیق کے مرکزی مصنف سیبسٹیان وان ڈی ویلڈ نے ایک انٹرویو میں کہا کہ سمندری کاربن ڈائی آکسائیڈ کے خاتمے پر اب بہت زیادہ توجہ دی جا رہی ہے۔
انہوں نے کہا کہ لیکن ہم یہ سوال نہیں پوچھ رہے کہ ہم پہلے ہی کیا کر رہے ہیں، جس سے شاید سمندروں کی کاربن ڈائی آکسائیڈ جذب کرنے کی صلاحیت میں مدد یا کمی نہیں ہو رہی ہے؟۔
اس پر تحقیق کرنے کے لیے ان کی ٹیم نے سمندروں میں کاربن ڈائی آکسائیڈ کے جذب ہونے پر نچلی سطح پر ٹرالنگ اور ڈریجنگ کے اثرات کی نقل کرنے کے لیے ماڈل تیار کیے۔
تجزیوں میں متعدد طریقے دریافت کیے گئے جن سے یہ طریقے پانی کی الکلائیٹی کو کم کرتے ہیں، جس سے کاربن ڈائی آکسائیڈ کی مقدار کو محدود کیا جاسکتا ہے، جو جذب کیا جاسکتا ہے۔