آڈیشن کے بغیر ہی پہلے ڈرامے میں کاسٹ کرلیا گیا تھا، ثمن انصاری
سینئر اداکارہ و ٹی وی میزبان ثمن انصاری نے اعتراف کیا ہے کہ انہیں سلطانہ صدیقی کی وجہ سے پہلے ہی ڈرامے میں آڈیشن کے بغیر ہی کاسٹ کرلیا گیا تھا۔
ثمن انصاری نے حال ہی میں مزاحیہ پروگرام ’مذاق رات‘ میں شرکت کی، جہاں انہوں نے مختلف معاملات پر کھل کر بات کی۔
انہوں نے بتایا کہ انہوں نے بطور ریڈیو جوکی (آر جے) کیریئر کا آغاز کیا تھا، جس کے بعد انہوں نے کچھ عرصے تک ٹی وی پروگرامات کی میزبانی بھی کی۔
ان کے مطابق انہیں بچپن سے ہی زیادہ بولنے کی عادت تھی، اس لیے انہیں ٹی وی پروگرام کرنے کا شوق تھا لیکن انہیں اداکاری سے کوئی لگاؤ نہیں تھا۔
ایک سوال کے جواب میں ثمن انصاری نے انکشاف کیا کہ کالج کے دور میں انہیں کلاس فیلوز لڑکیوں نے تنگ کیا، ان پر طنز کی جاتی، انہیں ٹرول کیا جاتا تھا۔
ان کے مطابق جیسے جیسے وہ کسی کام میں کامیابی حاصل کرتیں، ویسے ویسے انہیں کالج کی لڑکیاں تنگ کرتیں اور انہیں اتنا تنگ کیا گیا کہ کالج چھوڑنے کے 10 سال بعد تک وہ ذہنی مسائل کا شکار رہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ کالج چھوڑنے کے 10 سال بعد انہیں محسوس ہوا کہ انہیں ذہنی مسائل سے نجات کے لیے ماہر نفسیات کے پاس جانا چاہیے اور وہ ماہرین کی مدد سے ہی پریشانیوں سے نکلیں۔
ثمن انصاری نے بتایا کہ انہیں سلطانہ صدیقی نے اداکاری کرنے کا کہا اور ان کی پہلی ملاقات ایک کافی شاپ میں ہوئی تھی۔
ان کے مطابق سلطانہ صدیقی اور ان کے والد پاکستان ٹیلی وژن (پی ٹی وی) پر ایک ساتھ کام کیا کرتے تھے، اسی حوالے سے سلطانہ صدیقی انہیں جانتی تھیں، جنہوں نے انہیں اداکاری کرنے کا کہا۔
ثمن انصاری نے بتایا کہ سلطانہ صدیقی کی وجہ سے انہیں پہلے ڈرامے میں آڈیشن کے بغیر ہی کاسٹ کرلیا گیا تھا اور انہیں فون کرکے شوٹنگ پر آنے کا کہا گیا۔
ایک اور سوال کے جواب میں انہوں نے انکشاف کیا کہ انہیں ہولی وڈ اداکار ٹام کروز پسند ہیں اور وہ آج بھی یہ سوچ کر گھبرا جاتی ہیں کہ اگر ٹام کروز ان کے سامنے آگئے تو کیا ہوگا؟ انہوں نے بتایا کہ 16 سال کی عمر سے ہی انہیں ٹام کروز پسند ہے اور آج تک وہ انہیں پسند ہے۔