• KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:42pm
  • KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:42pm

غزہ میں عیدالفطر جنازوں کا دن بن گئی، اسرائیلی بمباری میں 20 فلسطینی شہید

شائع March 31, 2025
بہت سے لوگوں نے غزہ کے ہزاروں بے گھر افراد کو پناہ دینے والے عارضی خیموں کے پاس نماز ادا کی
—فوٹو:رائٹرز
بہت سے لوگوں نے غزہ کے ہزاروں بے گھر افراد کو پناہ دینے والے عارضی خیموں کے پاس نماز ادا کی —فوٹو:رائٹرز

غزہ میں مسلسل دوسرے سال بھی رمضان المبارک کے اختتام پر عیدالفطر کی روایتی تقریبات کا سلسلہ جاری رہا، اور فلسطینی علاقے کے باشندے اسرائیلی بمباری کی گونج سے بیدار ہوئے، جس میں کم از کم 20 فلسطینی شہید ہو گئے۔

ڈان اخبار میں شائع غیر ملکی خبر رساں اداروں کی رپورٹ کے مطابق ایک 28 سالہ ماں نہلہ ابو متار نے کہا کہ عید، جو کبھی خاندان کے دوبارہ ملنے اور ملاقاتوں کا دن ہوا کرتی تھی، اب الوداع اور تدفین کا دن بن گئی ہے۔

غزہ کے لاکھوں رہائشیوں کی طرح وہ بھی شمالی غزہ میں اپنے گھر سے بے گھر ہو چکی ہیں اور اب خان یونس کے جنوبی علاقے میں رہ رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ جن مساجد میں ہم نماز پڑھتے تھے وہ اب ملبے کے ڈھیر میں تبدیل ہو گئی ہیں، اور جن جگہوں پر ہم جمع ہوتے تھے وہ اب کھنڈرات اور لاشوں سے بکھرے ہوئے ہیں۔

5 بچوں سمیت 8 افراد شہید

غزہ کی امدادی ٹیموں نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ اتوار کی علی الصبح خان یونس میں اسرائیلی فضائی حملے میں 5 بچوں سمیت 8 افراد شہید ہو گئے۔

ابو متار نے کہا کہ تکبیروں (عید کی نماز) کی آواز سے بیدار ہونے کے بجائے، ہم فضائی حملوں اور دھماکوں کی گونج سے بیدار ہوئے۔

صبح سویرے غزہ کے بہت سے باشندے عید کی روایتی نماز ادا کرنے کے لیے علاقے کے مختلف حصوں میں جمع ہوئے۔

کچھ لوگوں نے ملبے کے درمیان سڑکوں پر نماز کی چادریں اتاریں، جب کہ دیگر نے مساجد کے اندر نماز ادا کی ، جس میں قدیم عمری مسجد بھی شامل ہے ، جس کی دیواریں اب بمباری کی وجہ سے گر چکی ہیں۔

بہت سے لوگوں نے غزہ کے ہزاروں بے گھر افراد کو پناہ دینے والے عارضی خیموں کے پاس نماز ادا کی، جو سنگین انسانی حالات میں زندگی گزار رہے ہیں۔

وسطی غزہ کے نصیرات پناہ گزین کیمپ میں متعدد رہائشیوں نے جنگ میں شہید ہونے والے پیاروں کی قبروں پر حاضری دی، جب وہ دعا کر رہے تھے تو توپ خانے کی فائرنگ اور فوجی ڈرونز کی گونج فضا میں پھیل گئی۔

الجزیرہ نے صحت کے حکام کے حوالے سے بتایا کہ غزہ میں اسرائیلی فوج کے حملوں میں اتوار کی صبح سے اب تک 5 بچوں سمیت 20 افراد شہید ہو چکے ہیں، رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ المواسی پر فضائی حملے میں شہید ہونے والی 3 نوجوان لڑکیوں کو تصدیق شدہ فوٹیج میں دیکھا جا سکتاہے، اور وہ عید الفطر کے موقع پر نئے کپڑے پہنے ہوئے تھیں۔

کتنا وقت ہے؟

غزہ شہر کے ایک رہائشی عزالدین موسا نے بتایا کہ اس علاقے میں خوف و ہراس کا شدید احساس پایا جاتا ہے، لوگ ایک دوسرے سے ملنے سے ڈرتے ہیں، کیوں کہ ایک راکٹ کسی بھی وقت حملہ کر سکتا ہے اور ان کی جان لے سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے بچوں کی آنکھیں ان کے خوف کی عکاسی کرتی ہیں، لیکن ہمارے پاس جو کچھ بھی ہے، اس سے ہم انہیں خوش رکھنے کی پوری کوشش کرتے ہیں۔

اسرائیل نے 18 مارچ کو غزہ میں اپنی فوجی مہم دوبارہ شروع کر دی تھی، جس کے نتیجے میں کئی ہفتوں سے جاری جنگ بندی متاثر ہوئی تھی۔

حماس کے زیر انتظام علاقے کی وزارت صحت کے مطابق اس کے بعد سے اب تک غزہ میں 900 سے زائد افراد شہید ہو چکے ہیں، اکتوبر 2023 سے اب تک اسرائیل نے غزہ میں ایک فوجی کارروائی کے دوران کم از کم 50 ہزار 277 افراد کو شہید کیا، جن میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔

ہلال احمر کے ارکان جاں بحق

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق فلسطین ریڈ کریسنٹ سوسائٹی نے اتوار کے روز غزہ کے شہر رفح سے مزید 11 لاشیں ملنے کی تصدیق کی ہے, جن میں سے 6 کی شناخت اس کے ارکان اور 4 شہری دفاع ایجنسی کے اہلکاروں کے طور پر کی گئی ہے۔

ایمبولینس سروس کا کہنا ہے کہ اس کے 3 طبی عملہ کے ارکان اور شہری دفاع کا ایک اہلکار ’لاپتہ‘ ہے۔

طبی عملے اور عینی شاہدین نے بتایا کہ خان یونس اور غزہ کے کچھ دیگر حصوں میں اسرائیلی فضائی حملے دن بھر جاری رہے۔

طبی ماہرین کے مطابق رفح میں فضائی حملے میں دو بچے زخمی ہوئے۔

محمد القادری نامی شہری نے کہاکہ دنیا عید پر خوشیاں مناتی ہے، جب کہ ہمارے بیٹے اور بیٹیاں مردہ خانوں میں لیٹے رہتے ہیں، یہ سانحہ کب تک جاری رہے گا؟ محمد القادی نے اتوار کی علی الصبح خان یونس پر اسرائیلی حملے میں اپنی بہن اور بھتیجے کو کھو دیا تھا۔

غم کی عید

الجزیرہ کی رپورٹ کے مطابق غزہ کے مرکزی قصبے دیر البلاح میں عادل الشائر نے کہا کہ یہ غم کی عید ہے۔

عادل الشائر نے کہا کہ غزہ پر حملے شروع ہونے کے بعد سے اسرائیلی حملوں میں انہوں نے اپنے خاندان کے 20 افراد کو کھو دیا، جن میں چند روز قبل ہی 4 نوجوان بھتیجے بھی شامل ہیں۔

انہوں نے روتے ہوئے بتایا کہ ہم نے اپنے پیاروں، اپنے بچوں، اپنی زندگیوں اور اپنے مستقبل کو کھو دیا، ہم نے اپنے طالب علموں، اپنے اسکولوں اور اپنے اداروں کو کھو دیا، ہم نے سب کچھ کھو دیا۔

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025