• KHI: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • LHR: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • ISB: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • KHI: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • LHR: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • ISB: Maghrib 5:00am Isha 5:00am

اقتصادی اصلاحات کے لیے بیوروکریٹس کا کردار کتنا اہم ہے؟

شائع April 3, 2025

پاکستان میں جب حکومت بیوروکریٹس سے تبدیلی کے لیے آئیڈیاز مانگنے لگے تو اس کا مطلب ہوتا ہے کہ حکومت نے اپنی سمت کھو دی ہے۔

حکومت کے بے بس ہوجانے اور اپنی گرفت کھو دینے کے عمومی طور پر اور بھی اشاریے ہوتے ہیں، لیکن ایک بار جب بیورکریٹ حکومت کو تبدیلی کے لیے آئیڈیاز فراہم کرنے لگ جائیں تو آپ بالکل واضح طور پر کہہ سکتے ہیں کہ حکومت کی بس ہوچکی ہے اور وہ جمود کا شکار ہوچکی ہے۔

موجودہ حکومت اس مقام پر چند ماہ پہلے پہنچ گئی تھی اور اس کا ثبوت وہ تبدیلیاں تھیں جو وہ بجلی کے شعبے کے ساتھ ساتھ ٹیکس سسٹم میں لانے کی کوششیں کر رہی تھی، جس کے بارے میں، میں پہلے لکھ چکا ہوں۔ لوگوں نے مجھ سے پوچھا کہ میں پاکستان کے اقتصادی انتظام میں کوئی تبدیلی نہ ہونے کے لیے بیوروکریٹس کو کیوں نشانہ بنا رہا تھا، کیونکہ یہ ایک عام فہم بات ہے کہ بیوروکریٹس نظام کو چلانے اور اس کی حفاظت کے ذمہ دار ہیں نہ کہ اسے تبدیل کرنے کے۔ میں بھی یہی سوچا کرتا تھا، یہاں تک کہ حال ہی میں، میں نے بھارت کی اقتصادی اصلاحات کے سرسری مطالعے سے سیکھا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے۔

بھارت میں بیوروکریٹس نے اقتصادی اصلاحات کا آغاز کیا۔ مجھے خود یہ جان کر حیرت ہوئی۔ ان اصلاحات کی ابتدا کا بہترین ذریعہ مونٹیک سنگھ آہلووالیا کی کتاب ہے جس کا عنوان ’ بیک اسٹیج: دی اسٹوری بی ہائنڈ انڈیاز ہائی گروتھ ایئرز ’ہے۔

اس کتاب میں مونٹیک آہلووالیا نے لکھا ہے کہ 1980 کی دہائی کے وسط میں بھارت کی معیشت جمود کا شکار تھی جبکہ جنوب مشرقی ایشیا کی معیشتیں آگے بڑھ رہی تھیں، تو ’بھارت میں کوئی آواز تبدیلی کی وکالت یا تبدیلی کا مطالبہ نہیں کررہی تھی، نہ سرکاری ملازمین، نہ ماہرین تعلیم، نہ پریس اور نہ ہی ہندوستانی صنعت۔ وہ سب جانتے تھے کہ سرکاری شعبے کی کارکردگی بہت بری تھی اور یہ شعبہ سرمایہ کاری کے لیے سرپلس پیدا کرنے کے بجائے بہت سارے وسائل جذب کر رہا تھا، لیکن انہیں اس کا حل حکومت پر کسی نہ کسی طرح سرکاری شعبے کو زیادہ موثر بنانے کے لیے دباؤ ڈالنے ہی میں نظر آیا۔

مونٹیک آہلوالیا مزید لکھتے ہیں کہ ہر میدان میں کس طرح اقتصادی جمود کا عکس اقتصادی معاملات پر گفت و شنید پر طاری جمود میں نظر آتا تھا۔ ناقص برآمدی کارکردگی کو ترقی کے لیے درآمدی متبادل حکمت عملی کا نتیجہ نہیں سمجھا گیا جو بھارت نے ابتدا سے اختیار کی تھی۔

مونٹیک آہلوالیا کے مطابق ’ اس حکمت عملی نے ملکی لاگت کے ڈھانچے کو بڑھاوا دیا اور ایسا ماحول پیدا کیا جس میں کاروبار برآمدی مسابقت پیدا کرنے کے لیے لاگت کم کرنے کی کوشش کرنے کے بجائے درآمدی مسابقت سے زیادہ تحفظ کے لیے لابنگ کررہے تھے۔

کیا یہ ٹھیک لگ رہا ہے؟ جب کوئی حکومت ایک ناکام اقتصادی حکمت عملی دائمی طور پر اختیار کرلیتی ہے، تو اس کے نتیجے میں ملکی لاگت کا ڈھانچہ وسیع ہوجاتا ہے، اس کی برآمدی بنیاد کی مسابقت ختم ہو جاتی ہے، اور پیداواری صلاحیت میں کم سے کم سرمایہ کاری ہوتی ہے کیونکہ وسائل کو ایک وسیع اور غیر مؤثر سرکاری شعبہ ہڑپ کرجاتاہے۔

ان حالات میں ، وہ لوگ جن کے پاس کوئی وژن نہیں ہوتا، وہ ایسی چیزوں پر مُصر ہوجاتے ہیں جیسے کہ سرکاری شعبے کے بلوں کی ادائیگی کے لیے وسائل تلاش کرنا، شرح مبادلہ کا انتظام کرنے کے لیے زرمبادلہ کے ذخائر کا استعمال کرنا، یا نجی شعبے کو بڑھتی ہوئی لاگتوں کی تلافی کے لیے ریاستی سبسڈی کا استعمال کرنا جو ایسی ناکام حکمت عملی کا باعث بنے گی، پیداواری صلاحیت بڑھانے والی سرمایہ کاری کے بجائے زیادہ عوامی حمایت کے ساتھ برآمدات کو بڑھانا وغیرہ وغیرہ۔

یہی وہ مقام ہے جہاں بھارت 80 کی دہائی کے وسط میں کھڑا تھا اور یہ مونٹیک سنگھ آہلووالیا جیسے لوگ تھے جنہوں نے تسلیم کیا کہ پوری اقتصادی حکمت عملی کو ’درآمدی متبادل‘ سے آزاد معیشت کی طرف تبدیل کرنا ہوگا۔ مونٹیک آہلووالیا کے مطابق، اس کا آغاز ایک مختصر 34 صفحات پر مشتمل دستاویز سے ہوا جس کا عنوان تھا ’ بھارت کی صنعتی، تجارتی اور مالیاتی پالیسیوں کی تنظیم نو’ جو ’ایم ڈاکیومینٹ‘ کے نام سے مشہور ہوئی ۔ اس دستاویز میں وہ آئیڈیاز جمع کیے گئے تھے جو پہلے ہی آہلووالیا اور ان کے بھارتی سول سروس کے ساتھیوں کے درمیان زیر بحث تھے، لیکن انہیں جون 1990 میں اس وقت کے وزیر اعظم وی پی سنگھ کی درخواست پر تحریری شکل دی گئی۔

دستاویز میں درج آئیڈیاز پر پہلے ہی’ آٹھویں پنج سالہ منصوبے’ کی تیاری کے دوران بحث ہو چکی تھی اور انہیں سخت تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ کانگریس پارٹی کے پرانے ارکان ریاست کے مرکزی کردار کو برقرار رکھنے کے سخت حامی تھے اور اقتصادی پالیسی کے مقصد کے طور پر تمام شعبوں میں ’خود انحصاری‘ کو آگے بڑھانے اور (ریاست کے مرکزی کردار کو برقرار رکھنے کی خاطر ) ملازمتوں کی تخلیق کے حامی تھے۔

مونٹیک آہلووالیا کے پیش کردہ خیالات کو پلاننگ کمیشن کے کچھ ارکان، جو ہنوز سوچ بچارکے پرانے طریقوں پر کاربند تھے نے ’ اعلیٰ بیوروکریٹس کی ناقابل برداشت مداخلت قرار دیا جو مغربی طاقتوں، بین الاقوامی مالیاتی اداروں اور دیگر مفاد پرستوں کے کہنے پر خود انحصار معیشت کے لیے منصوبہ بندی کے عمل کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔’

کتاب میں تفصیل دی گئی ہے کہ کس طرح آہلووالیا اور ان کے ساتھیوں کے ایک گروپ نے سول سروس اور کانگریس پارٹی کے اندر جاری مزاحمت پر قابو پایا، اور وزیر اعظم کو بھارت کی اقتصادی حکمرانی کی نوعیت میں ایک اسٹریٹجک تبدیلی کو اپنانے پر راضی کرنے میں کامیاب ہوئے۔ اہم لمحہ جون 1990 میں آیا، جب اس وقت کے وزیر اعظم وی پی سنگھ نے ان سے اپنے آئیڈیاز کو تحریری شکل دینے کو کہا، اور مشہور ’ایم ڈاکیومینٹ ’ کو کابینہ کے سیکریٹری کی سربراہی میں سیکریٹریوں کی ایک کمیٹی کو بین الوزارتی بحث کے لیے بھیجا۔

پس پردہ کامیابی

مونٹیک آہلووالیا تفصیل سے بتاتے ہیں کہ ان آئیڈیاز کو کہاں پذیرائی ملی، اور کہاں ان کی مخالفت کی گئی۔ اس وقت کی ادائیگیوں کے توازن کی رکاوٹوں کی وجہ سے حکومت کے لیے آزاد تجار ت کو قبول کرنا مشکل تھا، لیکن صنعتی آزادی کو زیادہ قبولیت ملی۔ اس دوران، ایک چیز جو قابل ذکر ہے وہ یہ ہے کہ سول سرونٹس نے آئیڈیاز پر بحث کرنے، انہیں قبول کرنے یا ان کے مندرجات میں ترمیم کرنے، اور انہیں اپنے متعلقہ وزرا کو دوبارہ پیش کرنے میں کلیدی کردار ادا کیا۔

حقیقت یہ ہے کہ ایوان وزیراعظم میں (تعینات بیوروکریٹس میں) اس حوالے سے احساس ملکیت پایا جاتا تھا جہاں مونٹیک آہلووالیا ملازم تھے اور یہی احساس انہیں تحریک دینے میں معاون ہوا لیکن پوری کتاب میں سول سرونٹس کو ان کی رہنمائی میں کلیدی کردار ادا کرتے ہوئے دیکھا جاتا ہے۔

ایک بار جب ان آئیڈیاز کو نافذ کرنا شروع کیا گیا تو صنعتی شعبے کی جانب سے آزاد معیشت کے تصور کی مخالفت کی گئی۔ کتابوں سے پتا چلتا ہے کہ سول سرونٹس کی غیرمتزلزل حمایت اس مخالفت پر قابو پانے میں کس طرح کامیاب رہی، کس طرح یکے بعد دیگرے وزرائے اعظم صنعت کی مخالفت کے سامنے ڈٹے رہنے اور بھارتی صنعت کاروں کے مطالبات کے آگے ہتھیار ڈال دینے کے بجائے ان کی سوچ کو نئے زاویے دینے میں کامیاب رہے۔

اگر سول سرونٹس چاہیں تو وہ تبدیلی کو فروغ دینے میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔ وہ نئی سوچ کو وہ تسلسل دے سکتے ہیں جس کی اسے حکومتوں کی تبدیلیوں سے بچنے کے لیے ضرورت ہے۔ لیکن اس سے پہلے کہ وہ ان میں سے کچھ بھی کر سکیں، انہیں تبدیلی کی خواہش کرنی ہوگی، اس کی ضرورت کو دیکھنا ہوگا اور راستہ تلاش کرنا ہوگا۔

اس تحریر کو انگلش میں پڑھیں۔

خرم حسین

صحافی ماہر معیشت اور کاروبار ہیں

انہیں ٹوئٹر پر فالو کریں۔ : khurramhusain@

ان کا ای میل ایڈریس ہے: khurram.husain@gmail.com

ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔
ڈان میڈیا گروپ کا لکھاری اور نیچے دئے گئے کمنٹس سے متّفق ہونا ضروری نہیں۔

کارٹون

کارٹون : 6 اپریل 2025
کارٹون : 5 اپریل 2025