پی ٹی آئی کی پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نگران وزرائے اعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کی درخواست
پاکستان تحریک انصاف نے 90 دن کی آئینی مدت مکمل ہونے پر صوبہ خیبر پختونخوا اور پنجاب کے نگراں وزرائے اعلیٰ کو عہدے سے ہٹانے کے لیے سپریم کورٹ میں درخواست دائر کی ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق یہ درخواست پارٹی کے اسلام آباد آفس سے پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سابق وزرائے اعلیٰ پرویز الٰہی اور محمود خان کی جانب سے دائر کی گئی جس میں عدالت سے درخواست کی گئی کہ وہ الیکشنز کے انعقاد تک دونوں صوبوں کی نگرانی کرے۔
درخواست میں کہا گیا کہ پی ٹی آئی اور مسلم لیگ (ق) کے اراکین متفقہ رائے رکھتے ہیں کہ مسلم لیگ(ن) اور اس کے اتحادیوں کی جانب سے غیر قانونی ہتھکنڈے اختیار کرنے کے ساتھ ساتھ وفاقی سطح پر اتحادی حکومت کے ذریعے مبینہ طور پر دباؤ ڈالے جا رہے ہیں، ملک کی نصف سے زیادہ آبادی والے پنجاب کے عوام سے نیا مینڈیٹ حاصل کرنا وقت کی ضرورت ہے۔
اسی دوران، خیبر پختونخوا کے سابق وزیر اعلیٰ محمود خان کا بھی پارلیمانی پارٹی کے اراکین کے ہمراہ یہ خیال تھا کہ وفاقی حکومت کے کہنے پر مبینہ طور پر شروع کی گئی غیر سنجیدہ مہم کو روکنے کے لیے ایک نیا مینڈیٹ ضروری ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ جنوری کے وسط میں صوبائی اسمبلیاں تحلیل ہونے کے بعد سے پنجاب اور خیبر پختونخوا میں نگراں حکومتیں ہیں، آئین کے آرٹیکل 224 کے تحت نگراں سیٹ اپ 90 دن کے لیے الیکشن کے انعقاد تک تشکیل دیا گیا تھا۔
درخواست میں کہا گیا کہ اب یہ حقیقت ہے کہ 90 دن گزرنے کے بعد پنجاب اور خیبر پختونخوا کے نگراں وزرائے اعلیٰ کو آئین کے مطابق اپنے عہدوں پر فائز رہنے اور برقرار رکھنے کا کوئی قانونی اختیار نہیں ہے۔
اس سلسلے میں مزید کہا گیا کہ دوسری صورت میں بھی ان کی بددیانتی کی وجہ سے ان پر اعتماد نہیں کیا جا سکتا، جو کہ اعلیٰ عدالتوں میں زیر التوا متعدد دیگر درخواستوں کا موضوع ہے۔
درخواست گزاروں نے عدالت سے استدعا کی کہ نگراں وزرائے اعلیٰ کو دفاتر میں فرائض کی ناجام دہی سے روک دیا جائے اور انہیں کسی بھی قسم کے اختیارات کے استعمال سے روکا جائے۔
انہوں نے درخواست میں استدعا کی کہ جب تک کہ عام انتخابات کا انعقاد نہیں ہو جاتا اور وہاں جمہوری طور پر منتخب حکومت قائم نہیں ہو جاتی، اس وقت تک عدالت کی زیر نگرانی پنجاب اور خٰبر پختونخوا کے صوبوں کے روزمرہ امور کو ریگولیٹ کرنے کے لیے مناسب ہدایات جاری کی جائیں۔