• KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:42pm
  • KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:42pm

عمران خان، سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر

شائع May 3, 2023
ریفرنس میں عمران خان، ثاقب نثار ، نجم ثاقب ، ابوذر چوہدری ، میاں عزیر، اعجاز احمد چوہدری، اور اسد عمر کو فریق بنایا گیا ہےَ: فائل فوٹو
ریفرنس میں عمران خان، ثاقب نثار ، نجم ثاقب ، ابوذر چوہدری ، میاں عزیر، اعجاز احمد چوہدری، اور اسد عمر کو فریق بنایا گیا ہےَ: فائل فوٹو

پاکستان مسلم لیگ (ن) نے پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے چیئرمین عمران خان اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف الیکشن کمیشن میں ریفرنس دائر کردیا۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنما ملک محمد احمد خان اور عطااللہ تارڑ نے پی ٹی آئی چیئرمین اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف ریفرنس دائر کیا۔

پی ٹی آئی چیئرمین عمران خان اور سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے خلاف ریفرنس الیکشن ایکٹ 2017 اور آئین کے آرٹیکل 218 تین کے تحت دائر کیا گیا ہے۔

ریفرنس میں کرپشن، کرپٹ پریکٹسز، پنجاب اسمبلی کے امیدواروں سے ٹکٹ کے بدلے رشوت لینے کے الزامات میں الیکشن کمیشن سے قانونی کارروائی کرنے کی استدعا کی گئی ہے۔

ریفرنس میں ثاقب نثار کے بیٹے نجم ثاقب کی آڈیو لیک کا متن بھی شامل کیا گیا ہے جبکہ پی ٹی آئی ٹکٹ ہولڈرز کی فہرست سمیت دیگر دستاویزات اور ریکارڈ بھی ریفرنس کے ساتھ پیش کیا گیا ہے۔

ریفرنس میں عمران خان، ثاقب نثار ، نجم ثاقب ، ابوذر چوہدری ، میاں عزیر، اعجاز احمد چوہدری، اور اسد عمر کو فریق بنایا گیا ہے۔

ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ مالی اور اخلاقی دونوں قسم کی کھلی کرپشن کی بناء پر یہ شکایت دائر کر رہے ہیں، پنجاب اسمبلی کے پارٹی انتخابی ٹکٹوں کی خرید و فروخت جاری ہے۔

ریفرنس میں مزید کہا گیا ہے کہ ایک سیاسی جماعت نے قانون، اخلاقیات اور جمہوریت کی دھجیاں اڑا کر رکھ دی ہیں،ایک جماعت پارٹی ٹکٹوں میں کرپشن کر کے سیاست کے مقدس شعبے کو گندا کر رہی ہے۔

ریفرنس میں استدعا کی گئی ہے کہ آئین ، قانون اور الیکشن ایکٹ کی خلاف ورزی پر الیکشن کمیشن کارروائی کرے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں نے دائر کردہ ریفرنس میں کہا ہے کہ 29 اپریل کومیڈیا میں سامنے آنے والی آڈیو سے مذکورہ افراد بے نقاب ہوئے ہیں، آڈیوز سے پتہ چلا ہے کہ مذکورہ افراد براہ راست اس جرم میں ملوث ہیں.

ریفرنس میں کہا گیا ہے کہ عمران خان نے گزشتہ ہفتے خود پارٹی ٹکٹ دیے ہیں، آڈیو اور 26 اپریل کو عمران خان کے ملزم ابوزر کو پارٹی انتخابی ٹکٹ دینے سے حقیقت ثابت ہوگئی ہے۔

ریفرنس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ آڈیو لیک میں اعتراف کیا گیا ہے کہ ثاقب نثار اس ڈیل میں ملوث ہے، ثاقب نثار، اعجاز چوہدری اور اسد عمر نے سہولت کاری کی۔

پارٹی رہنماؤں نے ریفرنس میں کہا کہ الیکشن کو جانوروں کی خریداری بنا دیا گیا ہے،الیکشن کمیشن معاملے کی تحقیقات کرائے اور ملزمان کو سزا دے۔

ریفرنس میں استدعا کی گئی ہے کہ عمران خان کو پارٹی چئیرمن کے عہدے سے معطل کیا جائے اور پی ٹی آئی کی طرف سے جنرل الیکشن میں جاری کردہ پارٹی ٹکٹ معطل کیے جائیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ ماہ 29 اپریل کو سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی پنجاب اسمبلی کے حلقہ 137 سے پاکستان تحریک انصاف کا ٹکٹ لینے والے ابوذر سے گفتگو کی مبینہ آڈیو منظر عام پر آگئی تھی جس میں انہیں پنجاب اسمبلی کے ٹکٹ کے حوالے سے گفتگو کرتے ہوئے سنا گیا۔

مبینہ آڈیو میں حلقہ 137 سے امیدوار ابوذر چدھڑ سابق چیف جسٹس کے بیٹے سے کہتے ہیں کہ آپ کی کوششیں رنگ لے آئی ہیں، جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ مجھے انفارمیشن آگئی ہے۔

اس کے بعد نجم ثاقب پوچھتے ہیں کہ اب بتائیں اب کرنا کیا ہے؟ جس پر ابوزر بتاتے ہیں کہ ابھی ٹکٹ چھپوا رہے ہیں، یہ چھاپ دیں، اس میں دیر نہ کریں، ٹائم بہت تھوڑا ہے۔

پھر نجم ثاقب ان کو ثاقب نثار سے ملنے کی ہدایت کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ بس بابا کو ملنے آجانا شکریہ ادا کرنے کے لیے، اور کچھ نہیں جس پر ابوذر کہتے ہیں کہ یقیناً، کیسی بات کر رہے ہیں۔

نجم ثاقب کہتے ہیں کہ وہ 11 بجے تک واپس آجائیں گے، ان کو جھپی ڈالنے آجانا بس، انہوں نے بہت محنت کی ہے، بہت محنت کی ہے۔

اس کے بعد ابوذر کہتے ہیں کہ اچھا میں سوچ رہا تھا کہ پہلے انکل کے پاس آؤں یا شام کو ٹکٹ جمع کراؤں جس پر نجم ثاقب کہتے ہیں کہ وہ مرضی ہے تیری، لیکن آج کے دن میں مل ضرور لینا بابا سے جس کے بعد ابوذر کہتے ہیں کہ یقیناً، سیدھا ہی ان کے پاس آنا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025