آڈیو لیک کیس: وزارت دفاع و داخلہ کے سیکریٹریز اسلام آباد ہائی کورٹ طلب
اسلام آباد ہائی کورٹ کے جج جسٹس بابر ستار نے سیکریٹری دفاع اور سیکریٹری داخلہ کو طلب کرتے ہوئے سابق چیف جسٹس ثاقب نثار کے بیٹے کے خلاف پی ٹی آئی کے ٹکٹ کے لیے امیدوار سے مبینہ طور پر رقم طلب کرنے سے متعلق انکوائری پر حکم امتناع میں توسیع کر دی۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق جسٹس بابر ستار نے ثاقب نثار کے صاحبزادے نجم ثاقب کی درخواست پر سماعت کی۔
قومی اسمبلی کی کمیٹی کو نجم ثاقب کی مبینہ آڈیو لیک کی تحقیقات کا کام سونپا گیا تھا۔
گزشتہ دنوں سامنے آنے والی آڈیو میں ایک آواز سنی جا سکتی تھی جس میں پی ٹی آئی کے ایک رہنما سے پنجاب میں الیکشن لڑنے کے لیے پارٹی ٹکٹ حاصل کرنے پر انعام کا مطالبہ کیا گیا۔
نجم ثاقب نے اپنی درخواست میں عدالت سے اس وقت کے ایم این اے اسلم بھوتانی کی سربراہی میں قائم کی گئی پارلیمانی پینل کی کارروائی روکنے کی استدعا کرتے ہوئے کہا کہ یہ کمیٹی قومی اسمبلی کے قواعد کی خلاف ورزی کرتے ہوئے تشکیل دی گئی ۔
انہوں نے کہا کہ آڈیو لیک درخواست گزار کی پرائیویسی کی غیر قانونی نگرانی کا نتیجہ ہے جسے نہ تو پھیلایا جا سکتا ہے اور نہ ہی درخواست گزار کو مجرم بنانے کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے
عدالت عالیہ نے حکم امتناع میں 18 دسمبر تک توسیع کردی۔
جسٹس بابر ستار نے ایڈیشنل اٹارنی جنرل بیرسٹر منور اقبال دوگل کی درخواست پر سماعت ملتوی کر دی۔
جسٹس بابر ستار نے ان معلومات کی نگرانی اور تحفظ کے طریقہ کار پر سوال اٹھایا اور ان خدشات کا اظہار کیا کہ وزیراعظم ہاؤس بھی غیر محفوظ ہے اور وہاں سے بھی ڈیٹا لیک ہو گیا ہے۔
انہوں نے آئندہ سماعت پر وزاعت دفاع اور وزاعت داخلہ کے سیکریٹریز کو طلب کرتے ہوئے کہا کہ ضرورت پڑنے پر عدالت سیلولر کمپنیوں کو حلف نامہ داخل کرنے کی ہدایت کرے گی۔