• KHI: Fajr 5:04am Sunrise 6:21am
  • LHR: Fajr 4:25am Sunrise 5:48am
  • ISB: Fajr 4:26am Sunrise 5:51am
  • KHI: Fajr 5:04am Sunrise 6:21am
  • LHR: Fajr 4:25am Sunrise 5:48am
  • ISB: Fajr 4:26am Sunrise 5:51am

2024 میں شدید موسمیاتی واقعات سے 24 کروڑ 20 لاکھ بچوں کی تعلیم کا حرج ہوا، یونیسیف

شائع January 25, 2025
— فائل فوٹو: وائٹ اسٹار
— فائل فوٹو: وائٹ اسٹار

اقوام متحدہ کے ادارہ برائے اطفال (یونیسیف) کے ایک تجزیے کے مطابق گزشتہ برس موسمیاتی واقعات بشمول ہیٹ ویو، سمندری طوفان، آندھیوں، سیلاب اور خشک سالی کی وجہ سے 85 ممالک میں 24 کروڑ 20 لاکھ سے زائد طلبہ کی تعلیم شدید متاثر ہوئی۔

ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق اس رپورٹ میں پہلی بار کہا گیا ہے کہ تعلیم کے عالمی دن کے موقع پر 2024 میں جاری ہونے والی ’لرننگ انٹرپٹڈ: گلوبل اسنیپ شاٹ آف کلائمیٹ ریلیٹڈ اسکول ڈسرپشنز‘ میں آب و ہوا کے خطرات کا جائزہ لیا گیا ہے جس کے نتیجے میں یا تو اسکول بند ہوئے یا اسکولوں کے ٹائم ٹیبل میں نمایاں خلل پڑا اور اس کے نتیجے میں پری پرائمری سے اپر سیکنڈری سطح تک کے بچوں پر پڑنے والے اثرات کا جائزہ لیا گیا۔

تجزیے کے مطابق جنوبی ایشیا سب سے زیادہ متاثر ہونے والا خطہ تھا جہاں گزشتہ سال 12کروڑ 80 طلبہ کو موسمیاتی مسائل کے باعث تعلیم میں خلل کا سامنا کرنا پڑا جبکہ مشرقی ایشیا اور بحرالکاہل میں 5 کروڑ طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی۔

ال نینو کے افریقہ پر تباہ کن اثرات مرتب ہورہے ہیں، مشرقی افریقہ کو مسلسل شدید بارشوں اور سیلاب کا سامنا ہے جبکہ جنوبی افریقہ کے کچھ حصے شدید خشک سالی کا شکار ہیں۔

بڑھتے ہوئے درجہ حرارت، طوفان، سیلاب اور دیگر آب و ہوا کے خطرات اسکول کے بنیادی ڈھانچے اور رسد کو نقصان پہنچا سکتے ہیں، اسکول جانے کے راستوں کو متاثر کرسکتے ہیں، سیکھنے کے غیر محفوظ حالات کا باعث بن سکتے ہیں اور طلبہ کی توجہ، یادداشت اور ذہنی اور جسمانی صحت کو متاثر کرسکتے ہیں۔

اسکولوں کی طویل بندش سے طلبہ کے کلاس روم میں واپس آنے کا امکان کم ہوجاتا ہے اور ان کے لیے کم عمری کی شادی اور چائلڈ لیبر کا خطرہ بڑھ جاتا ہے۔

شواہد سے پتا چلتا ہے کہ لڑکیاں اکثر غیر متناسب طور پر متاثر ہوتی ہیں، جنہیں آفات کے دوران اور بعد میں اسکول چھوڑنے اور صنفی بنیاد پر تشدد کے بڑھتے ہوئے خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔

عالمی سطح پر نظام تعلیم پہلے ہی لاکھوں بچوں کی ضرویات کو پورا نہیں کرپارہا تھا، تربیت یافتہ اساتذہ کی کمی، کم گنجائش کے حامل کلاس رومز، تعلیم کے معیار اور اس تک رسائی میں مشکلات طویل عرصے سے سیکھنے کے عمل کو متاثر کر رہے ہیں جبکہ جو آب و ہوا کے خطرات نے مشکلات میں مزید اضافہ کر دیا ہے۔

تجزیے سے پتا چلتا ہے کہ پچھلے سال تقریباً 74 فیصد متاثرہ طلبہ لوئر اور لوئر مڈل انکم والے ممالک سے تعلق رکھتے تھے تاہم کوئی بھی خطہ محفوظ نہیں تھا۔

ستمبر میں اٹلی میں موسلا دھار بارشوں اور سیلاب نے تباہی مچائی تھی جس کے نتیجے میں 9 لاکھ سے زائد طلبہ کی تعلیم متاثر ہوئی تھی، جبکہ اسپین میں اکتوبر میں 13 ہزار بچوں کی کلاسز معطل ہو گئی تھیں۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اسکولوں اور تعلیمی نظاموں میں طلبہ کو ان اثرات سے بچانے کے لیے بڑی حد تک سہولیات موجود نہیں ہیں، کیونکہ تعلیم میں آب و ہوا پر مبنی مالی سرمایہ کاری حیرت انگیز طور پر کم ہے اور آب و ہوا کے خطرات کی وجہ سے اسکولوں میں خلل کے بارے میں عالمی اعداد و شمار محدود ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 3 اپریل 2025
کارٹون : 31 مارچ 2025