• KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm
  • KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm

صحت مند انسانوں کے دماغ میں ہزاروں مائکرو پلاسٹک کی موجودگی کا انکشاف

شائع February 6, 2025
—اسکرین شاٹ، سی این این ویڈیو
—اسکرین شاٹ، سی این این ویڈیو

امریکا میں کی جانے والی طویل اور منفرد تحقیق سے معلوم ہوا ہے کہ گزشتہ تین دہائیوں میں انسانی جسم کے دیگر اعضا کے مقابلے دماغ میں مائکرو پلاسٹک ذرات زیادہ جمع ہو رہے ہیں اور حیران کن طور پر صحت مند انسانوں کے دماغ میں بھی پلاسٹک ذرات موجود ہیں۔

امریکی نشریاتی ادارے ’سی این این‘ میں شائع رپورٹ کے مطابق امریکی ماہرین کی جانب سے مجموعی طور پر 1997 سے 2024 تک مرنے والے مختلف انسانوں کے دماغوں میں پلاسٹک ذرات کی موجودگی پر تحقیق کی گئی۔

ماہرین نے مجموعی طور پر وقفے وقفے سے مرنے والے مختلف انسانوں کے دماغوں کا آٹوپسی، اسکین اور دوسرے ٹیسٹس کے ذریعے جائزہ لیا اور یہ جاننے کی کوشش کی کہ دماغ میں کس قدر پلاسٹک ذرات موجود ہیں۔

ماہرین نے پایا کہ 1997 کے مقابلے 2024 میں انسانی دماغ میں پلاسٹک ذرات کی شرح میں 50 فیصد سے بھی زائد اضافہ ہو چکا ہے۔

ماہرین نے دعویٰ کیا کہ 2024 تک صحت مند دماغ کے انسان میں ایک پلاسٹک چمچ جتنے ذرات پائے گئے۔

ماہرین کا کہنا تھا کہ آسان الفاظ میں یہ سمجھ لیں کہ انسانی دماغ کا 96 فیصد انسانی دماغ ہے، باقی وہاں پلاسٹک موجود ہے، یعنی کسی بھی صحت مند انسان کے دماغ کا 4 فیصد حصہ پلاسٹک کے قبضے میں ہے۔

ماہرین کے مطابق تحقیق کے دوران انسانوں کے جگر اور گردوں سمیت دیگر اعضا میں بھی پلاسٹک موجودگی کا پتا لگایا گیا اور معلوم ہوا کہ سب سے زیادہ مائکرو پلاسٹک انسانی دماغ میں تھے۔

ماہرین نے بتایا کہ مذکورہ تحقیق سے معلوم ہوتا ہے کہ انسانی جسم میں پلاسٹک ذرات کی موجودگی کا پتا لگانے اور ان ذرات کے صحت پر پڑنے والے اثرات جانچنے کے لیے جامع تحقیق کی ضرورت ہے۔

ماہرین نے واضح کیا کہ لازمی نہیں ہے کہ دنیا کے ہر صحت مند انسان کے دماغ میں اتنے ہی پلاسٹک ذرات موجود ہوں، تاہم عندیہ ملتا ہے کہ حالیہ دور میں انسانی دماغ بھی پلاسٹک ذرات یا کچرے سے محفوظ نہیں۔

اس سے قبل بھی متعدد تحقیقات میں یہ انکشاف ہو چکا ہے کہ پلاسٹک ذرات انسانی خون، دل، پھیپھڑوں، گردوں، جگر، دماغ اور یہاں تک ماں کے دودھ میں بھی شامل ہو چکے ہیں۔

ماضی میں عالمی ادارہ صحت کا خیال تھا کہ انسان جسم میں داخل ہونے والے پلاسٹک ذرات صحت کے لیے نقصان دہ نہیں ہوتے، تاہم حالیہ چند سالوں میں عالمی ادارہ صحت بھی واضح کر چکا ہے کہ مذکورہ مائکرو پلاسٹک ذرات سے انسانی صحت متاثر ہو رہی ہے۔

تاہم ابھی تک یہ مکمل طور پر واضح نہیں ہے کہ انسانی جسم میں داخل ہونے والے ذرات کس قدر صحت کے لیے خطرہ ہیں۔

عام طور پر پلاسٹک ذرات فضائی آلودگی، پیکیجینگ غذا، منرل واٹر اور اسی طرح کی دوسری چیزوں کے ذریعے انسانی جسم میں داخل ہو رہے ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025