• KHI: Asr 5:04pm Maghrib 6:50pm
  • LHR: Asr 4:37pm Maghrib 6:25pm
  • ISB: Asr 4:43pm Maghrib 6:32pm
  • KHI: Asr 5:04pm Maghrib 6:50pm
  • LHR: Asr 4:37pm Maghrib 6:25pm
  • ISB: Asr 4:43pm Maghrib 6:32pm

پی ٹی آئی کو حکومت مخالف مہم شروع کرنے کیلئے فضل الرحمٰن کی واپسی کا انتظار

شائع March 7, 2025
— فائل فوٹو
— فائل فوٹو

پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما عید کے بعد اپوزیشن کی متوقع عوامی تحریک کے بارے میں پراعتماد نظر آرہے ہیں اور قومی اسمبلی کے سابق اسپیکر اسد قیصر نے کہا ہے کہ جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا فضل الرحمٰن کے ساتھ مذاکرات ان کی بیرون ملک سے واپسی کے بعد شروع ہوں گے۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق پارٹی کے بانی عمران خان سے ملاقات کی اجازت نہ ملنے پر اڈیالہ جیل کے باہر میڈیا سے بات کرتے ہوئے اسد قیصر نے کہا کہ ’جے یو آئی (ف) اور پی ٹی آئی کے درمیان بات چیت جاری ہے اور جلد ہی قومی ایجنڈے کا اعلان کیا جائے گا۔ انہوں نے کہا کہ ’مولانا ملک سے باہر ہیں اور جیسے ہی وہ واپس آئیں گے، ایک نکاتی ایجنڈے پر مذاکرات کا اعلان کیا جائے گا۔‘

ایک ہفتہ قبل، پی ٹی آئی نے اسلام آباد میں اپوزیشن جماعتوں کی ایک کانفرنس کا انعقاد کیا تھا اور حکومت پر یہ الزام بھی عائد کیا کہ وہ تنازع پیدا کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ گزشتہ سال اکتوبر سے پہلے، پی ٹی آئی نے مولانا فضل الرحمٰن کو منانے کی کوششیں کیں لیکن معاہدہ نہیں ہو سکا تھا، جس کے بعد پارٹی کو حکومت مخالف تحریک شروع کرنے کے لیے اپنی طاقت پر انحصار کرنا پڑا۔

اب، پی ٹی آئی نے کثیرالجماعتی اتحاد کے لیے جے یو آئی (ف) کو اعتماد میں لینے کے لیے دوبارہ کوششیں تیز کردی ہیں۔

اسد قیصر کے ساتھ صحافیوں سے بات کرتے ہوئے پی ٹی آئی خیبر پختونخوا کے صدر جنید اکبر نے کہا کہ ان کی پارٹی ریاستی اداروں کے خلاف نہیں ہے اور اس کا ماننا ہے کہ پاکستان کے استحکام کے لیے ایک مضبوط ادارہ (فوج کی تعریف) ضروری ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’اگر اسے عوام کی حمایت نہ ملے تو ادارہ کمزور ہو جائے گا، ایک اور (انسداد دہشت گردی) آپریشن کی صورت میں، لوگ ادارے کا ساتھ نہیں دیں گے۔‘

ان کا کہنا تھا کہ ’ہمیں کسی فرد سے شکایات ہوسکتی ہیں لیکن ہم ادارے کی حمایت کرتے ہیں، ہمارا ماننا ہے کہ مضبوط ادارہ ہی ملک کو مضبوط بناتا ہے۔‘

جنید اکبر نے کہا کہ گو کہ بلوچستان اور خیبر پختونخوا میں سیکیورٹی کی صورتحال ابتر ہو رہی ہے، لیکن عوام کسی اور فوجی آپریشن کی حمایت نہیں کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ کچھ عناصر جو موجودہ حکومت لے کر آئے وہ یہ پیغام دے رہے ہیں کہ ایک ادارہ سب سے بڑھ کر ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ادارے کے خلاف ’غصہ‘ بڑھتا جارہا ہے، میں کہنا چاہتا ہوں کہ آپ اپنے ایجنڈے میں کامیاب نہیں ہو سکتے، آپ ذوالفقار علی بھٹو کو ختم نہیں کر سکے جو ایک نسل کے لیڈر تھے، تو عمران خان کو کیسے ختم کریں گے جو تین نسلوں کا لیڈر ہے؟

انہوں نے کہا کہ خیبر پختونخوا کے حالات بلوچستان کی طرح خراب ہو رہے ہیں، دارالحکومت اسلام آباد میں رہنے والے صوبے کے رہائشیوں کو نشانہ بنایا جا رہا ہے اور ایف آئی آر میں ملوث کیا جا رہا ہے۔

’رابطوں سے شرمندہ نہیں‘

اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ بیک ڈور ڈائیلاگ کے حوالے سے پوچھے گئے سوال کے جواب میں پی ٹی آئی کے رہنما نے اعتراف کیا کہ پی ٹی آئی کے طاقتور ادارے سے بالواسطہ اور بالواسطہ رابطے ہیں، تاہم انہوں نے کہا کہ اس میں شرمندہ ہونے کی کوئی بات نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ ’مجھے اپنے اداروں سے ملاقات کرنے اور ان سے بات کرنے میں کوئی شرمندگی نہیں ہے تاکہ وہ یہ سمجھ سکیں کہ عوام اور ادارے کے درمیان خلیج بڑھ رہی ہے اور انہیں اپنی پالیسیوں پر نظرثانی کرنی چاہیے،‘ انہوں نے مزید کہا کہ ریاستی اداروں کو قانون کے دائرے میں رہنا چاہیے۔

رہنما پی ٹی آئی اسد قیصر نے دعویٰ کیا کہ افغان پالیسی کی وجہ سے سابقہ ​​فاٹا میں سیکیورٹی کی صورتحال خراب ہو رہی ہے، میں تجویز کروں گا کہ افغان پالیسی پر پارلیمنٹ میں بحث ہونی چاہیے، سرحد کے ساتھ رہنے والے لوگوں کا کاروبار افغانستان اور ایران سے جڑا ہوا ہے، وہ ملک کے مسائل کو کنٹرول اور حل نہیں کر سکتے۔ نئے انتخابات ہونے چاہئیں تاکہ عوام کا مینڈیٹ حاصل کرنے والی حکومت اقتدار میں آسکے۔’

ان کا کہنا تھا کہ حکومت، امریکا کی جانب سے ’شکریہ‘ کے لفظ پر پرجوش ہوگئی، وہ کہہ رہے ہیں کہ انہوں نے ملک کی خودمختاری کی پروا کیے بغیر امریکا کی توثیق حاصل کر لی ہے، میں یہ کہوں گا کہ ملک کی خودمختاری پر سمجھوتہ نہیں ہونا چاہیے۔’

کارٹون

کارٹون : 6 اپریل 2025
کارٹون : 5 اپریل 2025