• KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm
  • KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm

میانمار میں زلزلے سے 300 ایٹمی بم دھماکوں کے برابر توانائی پیدا ہوئی، ماہر ارضیات

شائع March 29, 2025
تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے اور لاشیں برآمد ہونے کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے
—فوٹو: رائٹرز
تباہ شدہ عمارتوں کا ملبہ ہٹانے اور لاشیں برآمد ہونے کے بعد مرنے والوں کی تعداد بڑھنے کا امکان ہے —فوٹو: رائٹرز

ماہر ارضیات کا کہنا ہے کہ میانمار میں آنے والے زلزلے سے 334 ایٹم بموں کے مساوی توانائی پیدا ہوئی۔

سی این این کے کرس لاؤ کی رپورٹ کے مطابق ماہر ارضیات نے بتایا کہ جمعے کے روز میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے سے 300 سے زائد ایٹم بم دھماکوں کے برابر توانائی پیدا ہوئی۔

جیس فینکس نے ’سی این این‘ کو بتایا کہ اس طرح کے زلزلے سے تقریباً 334 ایٹم بم نکلتے ہیں، انہوں نے خبردار کیا کہ زلزلے کے جھٹکے چند ماہ تک جاری رہ سکتے ہیں، کیوں کہ بھارتی ٹیکٹونک پلیٹ میانمار کے نیچے یوریشین پلیٹ سے ٹکرارہی ہے۔

جیس فینکس نے کہا کہ میانمار میں تباہی ملک کی خانہ جنگی سے بدتر ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ عام طور پر مشکل صورتحال تقریباً ناممکن ہو جاتی ہے۔

میانمار 4 سال سے جاری خانہ جنگی کا شکار ہے، جس کا آغاز خونریز اور معاشی طور پر تباہ کن فوجی بغاوت کے نتیجے میں ہوا ہے، جس کے نتیجے میں افواج ملک بھر میں باغی گروہوں سے نبرد آزما ہیں۔

یہ تنازع اور مواصلاتی بندش بیرونی دنیا کے لیے یہ سمجھنے میں رکاوٹ بنی ہوئی ہے کہ زلزلے سے اب تک کیا اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

مقامی حکام کے مطابق میانمار میں کم از کم ایک ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

میانمار میں زلزلہ سے 10 ہزار ہلاکتوں کا اندازہ

امریکا کے جیولوجیکل سروے (یو ایس جی ایس) نے جمعے کے روز اندازہ لگایا ہے کہ وسطی میانمار میں آنے والے 7.7 شدت کے زلزلے میں ہلاک ہونے والوں کی تعداد 10 ہزار سے تجاوز کر سکتی ہے۔

یو ایس جی ایس نے زلزلے کے نتیجے میں ہونے والی ہلاکتوں کے حوالے سے ریڈ الرٹ جاری کیا ہے، جس میں ’زیادہ جانی و مالی نقصان‘ کی نشاندہی کی گئی ہے۔

میانمار کی فوجی حکومت نے اب تک کم از کم 144 افراد کی ہلاکت کی اطلاع دی، لیکن مزید ملبہ ہٹانے اور لاشیں برآمد ہونے کے بعد یہ تعداد بڑھنے کا امکان ہے۔

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025