• KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm
  • KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm

امریکی دستبرداری کے بعد عالمی ادارہ صحت کا بجٹ میں 20 فیصد کمی کا فیصلہ

شائع March 29, 2025
— فوٹو: رائٹرز
— فوٹو: رائٹرز

عالمی ادارہ صحت (ڈبلیو ایچ او) نے امریکا کی جانب سے دستبرداری کے فیصلے کے بعد اپنے بجٹ کا پانچواں حصہ کم کرنے کی تجویز پیش کی ہے، اور اب اسے اپنی رسائی افرادی قوت کو کم کرنا ہوگا

غیر ملکی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کے مطابق ڈبلیو ایچ او کے سربراہ کی جانب سے بھیجی گئی ایک اندرونی ای میل میں اس بات کا انکشاف کیا گیا ہے۔

ڈبلیو ایچ او کے ڈائریکٹر جنرل ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے اقوام متحدہ کی ایجنسی کے عملے کو بھیجے گئے پیغام میں کہا کہ عالمی ادارہ صحت کو 2025 میں تقریبا60 کروڑ ڈالر کی کمی کا سامنا ہے اور اس کے پاس بجٹ میں کٹوتی کے علاوہ ’کوئی چارہ نہیں‘ ہے۔

جنوری میں وائٹ ہاؤس واپس آنے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دنیا بھر میں صحت کو فروغ دینے کے لیے وسیع امداد سمیت، عملی طور پر تمام غیر ملکی امداد کو منجمد کرنے کا فیصلہ کیا، امریکا اب تک ڈبلیو ایچ او کا سب سے بڑا ڈونر تھا۔

ڈائریکٹر جنرل ڈبلیو ایچ او کا ای میل میں کہنا تھا کہ امریکا اور دیگر کی طرف سے آفیشل ڈیولپمنٹ اسسٹنٹس (امداد) میں ڈرامائی کٹوتیاں ممالک، این جی اوز اور اقوام متحدہ کی ایجنسیوں بشمول ڈبلیو ایچ او کو بڑے پیمانے پر متاثر کر رہی ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ٹرمپ کی جانب سے ڈبلیو ایچ او سے دستبرداری کے ایک سالہ عمل کو شروع کرنے سے قبل ہی ادارے کو مالی مشکلات کا سامنا ہے، اور اس نے 9 ماہ سے بھی زیادہ عرصہ قبل اس حوالے سے اقدامات پر کام شروع کر دیا تھا۔

ٹیڈروس اذانوم گیبریئس کا کہنا تھا کہ کچھ ممالک کی طرف سے بڑھتے ہوئے دفاعی اخراجات کو فنڈ دینے کے لیے امداد میں حالیہ کمی کے درمیان امریکا کے اعلان نے ہماری صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم نے اخراجات میں خاطر خواہ بچت حاصل کی، موجودہ اقتصادی اور جغرافیائی سیاسی حالات نے وسائل کو متحرک کرنا خاص طور پر مشکل بنا دیا ہے، اس کے نتیجے میں ہمیں صرف اس سال تقریباً 60 کروڑ ڈالر کی آمدنی کے فرق کا سامنا ہے۔

گزشتہ ماہ ڈبلیو ایچ او کے ایگزیکٹو بورڈ نے 27-2026 کے لیے مجوزہ بجٹ کو 5.3 ارب ڈالر کے مقابلے میں کم کر کے 4.9 ارب ڈالر کر دیا تھا۔

ٹیڈروس اذانوم گیبریئس نے کہا کہ تب سے ترقیاتی امداد کا منظرنامہ نہ صرف ڈبلیو ایچ او بلکہ پورے بین الاقوامی صحت کے ماحولیاتی نظام کے لیے خراب ہو گیا ہے، مزید کہنا تھاکہ اس لیے ہم نے رکن ممالک کو تجویز پیش کی ہے کہ بجٹ کو مزید کمی سے 4.2 ارب ڈالر کردیا جائے، جو اصل مجوزہ بجٹ سے 21 فیصد کمی ہے۔

عالمی ادارہ صحت کے آخری 2 سالہ بجٹ سائیکل میں23-2022 کے لیے امریکا کی جانب سے 1.3 ارب ڈالر دیے گئے، جو ڈبلیو ایچ او کے اس وقت کے 7.89 ارب ڈالر کے بجٹ کا 16.3 فیصد حصہ تھا۔

زیادہ تر امریکی فنڈنگ مخصوص منصوبوں کے لیے رضاکارانہ شراکت کے ذریعے کی گئی تھی۔

ٹیڈروس اذانوم گیبریئس کا کہنا تھا کہ بہترین کوششوں کے باوجود ہم اس مقام پر ہیں، جہاں ہمارے پاس اپنے کام اور افرادی قوت میں کمی کے سوا کوئی چارہ نہیں۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ’ڈبلیو ایچ او‘ کی رکنیت چھوڑنے کا اعلان کیا تھا، اس فیصلے کا اطلاق 22 جنوری 2026 کو ہونا ہے۔

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025