• KHI: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • LHR: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • ISB: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • KHI: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • LHR: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • ISB: Maghrib 5:00am Isha 5:00am

کورنگی میں لگنے والی پراسرار آگ پر قابو نہ پایا جاسکا، ماہرین کی مدد طلب کرلی گئی

شائع March 30, 2025
آگ لگنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم تعمیراتی مشینری کو کچھ نقصان پہنچا تھا
—فوٹو: اسکرین گریب
آگ لگنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، تاہم تعمیراتی مشینری کو کچھ نقصان پہنچا تھا —فوٹو: اسکرین گریب

کراچی کے علاقے کورنگی میں آئل ریفائنری کے قریب لگی آگ پر 31 گھنٹے گزر جانے کے باوجود قابو نہیں پایا جاسکا۔

ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق کورنگی کریک کے علاقے میں آئل ریفائنری کے قریب بلند عمارت کی تعمیر کے لیے کھدائی کے دوران لگنے والی پراسرار آگ پر قابو نہیں پایا جاسکا، جس کے بعد حکام نے آگ بجھانا چھوڑ دی اور آگ لگنے کی اصل وجہ جاننے کے لیے ماہرین کی مدد طلب کی۔

پولیس ترجمان نے ایک بیان میں کہا کہ کورنگی کریک میں سلیم حبیب یونیورسٹی کے قریب ٹی پی ایل پراپرٹیز ہاؤسنگ پروجیکٹ میں بورہول کی کھدائی کے دوران اچانک آگ بھڑک اٹھی۔

ریسکیو 1122 کے ڈائریکٹر جنرل عابد شیخ کا کہنا ہے کہ آگ پر 300 سے 400 مربع گز کے علاقے میں قابو پا لیا گیا ہے، اور اس سے قریبی کسی بستی کو کوئی خطرہ لاحق نہیں۔

ہفتہ کی شب میئر کراچی مرتضیٰ وہاب، کمشنر حسن نقوی اور پاکستان ریفائنری لمیٹڈ کے منیجنگ ڈائریکٹر زاہد میر نے پریس کانفرنس کی اور لوگوں کو یقین دلایا کہ آگ پر قابو پانے کی کوششیں جاری ہیں۔

زاہد میر نے کہا کہ آئل ریفائنری آگ لگنے کے مقام کے بہت قریب تھی، ایسا لگتا ہے کہ آگ ’گہری گیس‘ کی وجہ سے لگی ہے، اس طرح کے واقعات یہاں پہلے بھی پیش آچکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ گیس ایک سے 3 ہفتوں میں ختم ہو جائے گی، تاہم آگ پر مزید چند روز نظر رکھنے کی ضرورت ہے، پورے علاقے کو محفوظ بنا دیا گیا ہے اور کچھ دن میں صورتحال نارمل ہوجائے گی۔

ریسکیو 1122 کے ایک اور اہلکار حسن خان نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ انہیں جمعہ کی رات 11 بجے اطلاع ملی کہ زیر زمین گیس لائن میں آگ بھڑک اٹھی ہے، جب فائر فائٹرز موقع پر پہنچے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک اونچی عمارت کے لیے مختص زمین پر ایک گہرے سوراخ سے آگ کے شعلے نکل رہے ہیں۔

انہوں نے بتایا کہ ہاؤسنگ پروجیکٹ کے ایک نمائندے نے دعویٰ کیا کہ وہ گزشتہ 10 دن سے 1200 فٹ گہرے بورہول کے لیے کھدائی کر رہے ہیں، تاہم، انہوں نے ان کے دعوے پر سوال اٹھایا اور کہا کہ صرف زیر زمین پانی حاصل کرنے کے لیے اتنا گہرا بورہول کھودنا غیر معمولی تھا۔

انہوں نے کہا کہ ایسا لگتا ہے کہ آگ کھدائی کے کام کے دوران لگی، کیوں کہ کمپنی کی بھاری مشینری بھی آگ لگنے کے بعد جل گئی تھی۔

ریسکیو 1122 کے سربراہ نے ’ڈان‘ کو بتایا کہ 20 فائر ٹینڈرز نے بھاری مقدار میں پانی اور فوم کا استعمال کیا لیکن آگ پر قابو نہیں پایا جا سکا۔

انہوں نے کہا کہ سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) اور پاکستان پیٹرولیم لمیٹڈ (پی پی ایل) کے ماہرین نے علاقے کی مٹی کی جانچ کی اور نمونے لیبارٹری بھیجے تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آگ کس وجہ سے لگی۔

انہوں نے کہا کہ آئل اینڈ گیس ڈیولپمنٹ کمپنی (او جی ڈی سی) نے دعویٰ کیا تھا کہ علاقے میں زیر زمین گیس پائپ لائن نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ قریبی ریفائنری کو مدنظر رکھتے ہوئے نمونے لیے گئے ہیں، تاکہ یہ معلوم کیا جاسکے کہ آیا وہاں زیر زمین تیل کے ذخائر موجود ہیں یا نہیں۔

انہوں نے اس امکان کو مسترد نہیں کیا کہ کھدائی کے کام کے دوران زیر زمین تیل یا گیس کے ذخائر سامنے آئے ہوں گے۔

ایک اور عہدیدار نے بتایا کہ انہوں نے آگ بجھانے کی کوششوں کو روک دیا ہے، اور کسی بھی صورتحال سے نمٹنے کے لیے صرف 5 فائر ٹینڈر موجود ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے دنیا کے دیگر حصوں میں ہونے والے اسی طرح کے واقعات کے بارے میں معلومات حاصل کیں اور اندازہ لگایا کہ آگ ایک یا دو دن تک جاری رہی۔

دریں اثنا، ٹی پی ایل پراپرٹیز نے ایک پریس ریلیز جاری کی اور کہا کہ ان کی ٹیم اس کی مینگروو پراپرٹی کی حدود سے متصل ایک کھلے علاقے میں لگنے والی قدرتی آگ کو سرگرمی سے سنبھال رہی ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آگ پر بڑی حد تک فائر ڈپارٹمنٹ، امدادی اداروں، مقامی حکومتی حکام اور ٹی پی ایل ٹیم کی کوششوں سے قابو پا لیا گیا، ہمارے تخمینے کے مطابق اور سرکاری رپورٹس کے ذریعے مزید تصدیق کی گئی ہے کہ اس واقعے کے نتیجے میں کسی کے زخمی یا نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ آگ لگنے کی وجوہات اور حالات کا پتہ لگانے کے لیے تحقیقات شروع کی جارہی ہیں۔

کارٹون

کارٹون : 6 اپریل 2025
کارٹون : 5 اپریل 2025