• KHI: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • LHR: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • ISB: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • KHI: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • LHR: Maghrib 5:00am Isha 5:00am
  • ISB: Maghrib 5:00am Isha 5:00am

کوئٹہ نہ جانے دیا تو مستونگ میں دھرنا دیں گے، بلوچ خواتین کو رہاکیا جائے، اختر مینگل

شائع March 30, 2025

بلوچستان نیشنل پارٹی مینگل (بی این پی- ایم) کے سربراہ سردار اختر مینگل نے اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ گرفتار بلوچ خواتین کی رہائی تک پارٹی کا دھرنا جاری رہے گا۔

صوبائی حکومت کے وفد نے گزشتہ شام مستونگ میں افطار کے بعد پارٹی رہنماؤں سے ملاقات کی، اس سے قبل سردار اختر مینگل اور بی این پی (ایم) کے دیگر کارکن ضلع مستونگ کے علاقے لک پاس کے قریب ہونے والے خودکش حملے میں بال بال بچ گئے تھے۔

سردار اختر مینگل نے بلوچ یکجہتی کمیٹی (بی وائی سی) کی چیف آرگنائزر ڈاکٹر ماہ رنگ بلوچ اور دیگر رہنماؤں کی گرفتاریوں اور دھرنے پر پولیس کریک ڈاؤن کے خلاف وڈھ سے کوئٹہ تک ’لانگ مارچ‘ کا اعلان کیا تھا، تاہم کوئٹہ انتظامیہ نے بی این پی (ایم) کو اپنے جلسے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

مختلف سیاسی جماعتوں سے تعلق رکھنے والے مارچ کرنے والوں اور موٹر سائیکل سواروں نے جمعہ کی صبح تقریباً 9 بجے اختر مینگل کے آبائی قصبے وڈھ سے کوئٹہ کا سفر شروع کیا تھا، ہفتے کے روز بی این پی (ایم) نے دعویٰ کیا کہ مستونگ کے قریب پولیس کی کارروائی کے دوران اس کے 250 سے زائد کارکنوں کو حراست میں لے لیا گیا تھا۔

ہفتہ کی شام ظہور احمد بلیدی، بخت محمد کاکڑ اور سردار نور احمد بنگلزئی پر مشتمل صوبائی حکومت کے وفد نے مینگل اور بی این پی (ایم) کے دیگر رہنماؤں سے مستونگ میں پارٹی کے دھرنے کے مقام پر ملاقات کی۔

دھرنے کے شرکا کی جانب سے اختر مینگل، نواب محمد خان شاہوانی، ساجد ترین اور دیگر رہنماؤں نے مذاکرات میں شرکت کی۔

بات چیت کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے اختر مینگل نے کہا کہ حکومتی وفد نے ہم سے تعاون اور راستہ تلاش کرنے کے بارے میں بات کی، ہم نے ان سے کہا کہ وہ کوئی راستہ تلاش کریں اور ہمیں کوئٹہ جانے دیں۔

سردار اختر مینگل نے کہا کہ حکومتی وفد نے ہم سے پوچھا کہ کیا ہم ریلی نکالنا چاہتے ہیں جس پر ہم نے کہا کہ اگر ہم ریلی نکالتے تو خضدار میں نکالتے۔

اختر مینگل نے کہا کہ ہم نے حکومت کو بتایا کہ ہمارا واحد مطالبہ خواتین کو رہا کرنا ہے، ہم نے ان سے کہا کہ ہم اپنی خواتین کی رہائی کا مطالبہ کرتے ہوئے کوئٹہ کی طرف مارچ کریں گے۔

اختر مینگل نے کہا کہ اگر حکومت نے انہیں کوئٹہ جانے کی اجازت نہ دی تو وہ مستونگ میں دھرنا دیں گے، یہ دھرنا اس وقت تک جاری رہے گا جب تک ہماری خواتین کو رہا نہیں کر دیا جاتا۔

اگرچہ وفد نے افطار کے بعد بی این پی قیادت سے دوبارہ ملاقات کا فیصلہ کیا لیکن ایسا نہیں ہوا۔

کارٹون

کارٹون : 6 اپریل 2025
کارٹون : 5 اپریل 2025