ترکیہ میں اپوزیشن نے احتجاجی تحریک جاری رکھنے کیلئے حکمت عملی تبدیل کرلی
ترکیہ میں اپوزیشن استنبول کے میئر کی گرفتاری کے بعد شروع ہونے والی احتجاجی تحریک کی رفتار کو برقرار رکھنے کے لیے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے، جبکہ حکومتی کریک ڈاؤن میں سویڈن سے تعلق رکھنے والے رپورٹر کو گرفتار کرلیا گیا ہے۔
عالمی خبر رساں ادارے اے ایف پی کی رپورٹ کے مطابق استنبول کے اپوزیشن میئر اکرم امام اوغلو کی 19 مارچ کو بدعنوانی کے الزامات میں گرفتاری، جسے ان کے حامیوں نے جھوٹا قرار دیا ہے، نے ایک دہائی سے زائد عرصے میں ترکی میں حکومت مخالف سب سے بڑے احتجاج کو جنم دیا، جو صدر رجب طیب اردوان کے لیے ایک بڑا امتحان ہے۔
ایک ہفتے سے زائد عرصے تک رات گئے ہونے والے گلی کوچوں کے احتجاج کے بعد، امام اوغلو کی ریپبلکن پیپلز پارٹی (سی ایچ پی) نے ہفتے کے روز استنبول میں لاکھوں افراد کو ایک بڑی ریلی کے لیے متحرک کیا، جس میں امام اوغلو کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا، جنہیں تقریباً ایک چوتھائی صدی اقتدار میں رہنے کے بعد اردوان کو انتخابات میں شکست دینے کی طاقت رکھنے والا امیدوار سمجھا جاتا ہے۔
ماہ رمضان کے اختتام پر ترکی میں کئی دنوں کی عام تعطیلات شروع ہونے کے ساتھ ہی، اپوزیشن نے حکمت عملی تبدیل کرتے ہوئے احتجاجی تحریک کو جاری رکھنے کا عزم کیا ہے۔
سی ایچ پی کے پارٹی لیڈر اوزغور اوزل، جو ایک سابق فارماسسٹ ہیں اور امام اوغلو کے استنبول کی سیلیوری جیل میں قید ہونے کے بعد پارٹی کے مرکزی عوامی علمبردار کے طور پر سامنے آئے ہیں، نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ ہر ہفتے کے آخر میں ترکی کے 81 صوبوں میں سے ایک مختلف صوبے میں اور ہر بدھ کو استنبول کے ایک مختلف ضلع میں احتجاج کیا جائے گا۔
’ اردوان کو شکست دینے کی طاقت ’
اتوار کے روز، اوزغور اوزل نے امام اوغلو کی رہائی اور جلد انتخابات کے مطالبے کے لیے ایک درخواست پر دستخطی مہم کا آغاز کیا، جس کی شروعات معطل شدہ میئر کے آبائی علاقے مشرقی ترکی کے بحیرہ اسود کے خطے سے کی۔
اوزغور اوزل نے کہا کہ خدا گواہ ہے کہ اکرم امام اوغلو کا جرم طیب اردوان کا حریف ہونا ہے۔ انہوں نے کہا کہ امام اوغلو کو جیل میں ڈالنے کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے ماضی میں طیب اردوان کو شکست دی تھی۔
انہوں نے 2019 اور 2024 کے استنبول کے میئر کے انتخابات میں امام اوغلو کے حکمران جماعت کے امیدواروں کو شکست دینے کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ یہ وہ عہدہ ہے جس پر خود اردوغان بھی فائز رہ چکے ہیں۔ اور امام اوغلو، اردوان کو مستقبل میں بھی شکست دینے کی طاقت اور دانش مندی رکھتا ہے۔
حکومت نے اپوزیشن کے احتجاج کے جواب میں کریک ڈاؤن کیا ہے جس پر نیٹو کے رکن ملک کے اتحادیوں اور حقوق کے گروپوں نے تنقید کی ہے، اور اس کریک ڈائن کے دوران درجنوں نوجوانوں کو حراست میں لے کر عید سلاخوں کے پیچھے گزارنے پر مجبور کردیا گیا۔ کریک ڈائون کے دوران صحافیوں اور غیر ملکی رپورٹرز کو حراست میں لیا گیا ہے یا ملک بدر کیا گیا ہے۔
دگنز ای ٹی سی نامی اخبار کے لیے کام کرنے والے سویڈش صحافی جوآکم میڈن کو جمعرات کو احتجاج کی کوریج کے لیے ترکی پہنچنے پر گرفتار کرلیا گیا۔ ترک صدارت نے کہا ہے کہ انہیں دہشت گردی سے متعلق الزامات اور ’ صدر کی توہین ’ کے الزام میں حراست میں لیا گیا ہے۔
جوآکم میڈن کے اخبار کے چیف ایڈیٹر اینڈریاس گسٹاوسن نے ان الزامات کو ’ مضحکہ خیز’ قرار دیتے ہوئے اے ایف پی کو بتایا کہ صحافت کرنا جرم نہیں ہونا چاہیے۔
ترک حکام نے بی بی سی کے صحافی مارک لوون کو بھی 17 گھنٹے تک حراست میں رکھنے کے بعد ملک بدر کر دیا ہے، جو احتجاج کی کوریج کر رہے تھے، ترک حکام نے انہیں ’ عوامی نظم و نسق کے لیے خطرہ’ قرار دیا۔
اے ایف پی کے فوٹوگرافر یاسین اکگل کو پیر کی صبح ایک چھاپے میں گرفتار کیا گیا تھا، بعدازاں انہیں جمعرات کو رہا کر دیا گیا۔
’ وہ اُبھر رہے ہیں ’
وزیر داخلہ علی یرلی کایا نے جمعرات کو بتایا کہ 19 مارچ سے احتجاج کے سلسلے میں 1879 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے، جن میں سے 260 کو مقدمے کی سماعت تک حراست میں رکھا گیا ہے۔
اوزغور اوزل نے حکام کو پیغام دیتے ہوئے کہا کہ آپ ظلم سے ترقی نہیں کر سکتے، اس ملک کے نوجوان بچوں پر ظلم کرنا بند کریں۔
اردوان نے پہلے مظاہروں کو ’ گلی کوچوں میں ہونے والی دہشت گردی’ قرار دیا تھا۔ حکام نے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے آنسو گیس، کالی مرچ کا اسپرے اور ربڑ کی گولیاں استعمال کی ہیں۔
یورپی یونین کی توسیعی کمشنر مارٹا کوس، جس میں ترکیہ اب بھی باضابطہ طور پر شامل ہونا چاہتا ہے، نے کہا کہ صحافیوں کی گرفتاریاں اور ملک بدر کرنا ترکیہ کے ’ عہد اور جمہوری روایات ’ کے خلاف ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ ’ اجتماع کی آزادی ایک بنیادی حق ہے’، جس کا ترک حکام نے بلاک میں شامل ہونے کی کوشش کے سلسلے میں عہد کیا ہے۔