یوکرینی صدر معدنیات کے معاہدے سے پیچھے ہٹے تو بڑے مسائل کا سامنا کرنا ہوگا، ٹرمپ
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے خبردار کیا ہے کہ اگر یوکرین کے ہم منصب ولادیمیر زیلنسکی معدنی حقوق کے معاہدے پر سرد مہری کا مظاہرہ کرتے ہیں تو انہیں ’بڑے مسائل‘ کا سامنا کرنا پڑے گا۔
فرانسیسی خبر رساں ادارے ’اے ایف پی‘ کی رپورٹ کے مطابق ٹرمپ یوکرین اور روس کے درمیان جنگ بندی کی کوشش کر رہے ہیں، اور زیلنسکی پر زور دے رہے ہیں کہ وہ امریکی کمپنیوں کو یوکرین کی نایاب معدنیات تک رسائی دینے کے معاہدے پر دستخط کریں۔
اپنے ایئر فورس ون جیٹ طیارے میں صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے ٹرمپ نے کہا کہ میں دیکھ رہا ہوں کہ وہ (زیلنسکی) زمین میں دفن معدنیات کے اس نایاب معاہدے سے پیچھے ہٹنے کی کوشش کر رہے ہیں اور اگر وہ ایسے کریں گے تو انہیں کچھ مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جو بڑے، بڑے مسائل ہوں گے۔
واضح رہے کہ فروری 2025 میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یوکرین کے سیکڑوں ارب ڈالر کے معدنی ذخائر پر اپنی نظریں جمالی تھیں، وہ چاہتے تھے کہ روس کے ساتھ جنگ میں امریکا کی جانب سے خرچ کی گئی رقم معدنیات سے وصول کرلیں۔
غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ ٹرمپ انتظامیہ یوکرین کے ساتھ معدنیات کے حوالے سے آسان معاہدہ کرنے کی کوشش کر رہی ہے، معاہدے میں ابتدائی طور پر صرف یہ ذکر ہوگا کہ یوکرین کے وسیع وسائل کا امریکا کے پاس کتنا حصہ ہو گا؟ بعد میں تفصیلی شرائط پر بات چیت کی جائے گی۔
یوکرین کے صدر ولادیمیر زیلنسکی نے اس سے ایک ہفتہ قبل تفصیلی امریکی تجویز کو مسترد کر دیا تھا، جس کے تحت واشنگٹن کو یوکرین کی 50 فیصد اہم معدنیات مل سکتی تھیں جن میں گریفائٹ، یورینیم، ٹائٹینیم اور لیتھیم شامل ہیں جو الیکٹرک کاروں کی بیٹری کے لیے لازمی جزو ہیں۔