• KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm
  • KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm

پاسداران انقلاب دہشت گرد تنظیم، ایران کو جوہری کشیدگی اور میزائل پروگرام روکنا ہوگا، امریکا

شائع April 1, 2025
— فائل فوٹو: امریکی محکمہ خارجہ
— فائل فوٹو: امریکی محکمہ خارجہ

امریکا نے ایران کو دہشت گردی کا سب سے بڑا ریاستی اسپانسر قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ایران کی پاسداران انقلاب ایک غیر ملکی دہشت گرد جماعت ہے جبکہ ایران کے کئی حکومتی رہنماؤں کو بھی دہشت گرد قرار دیا جاچکا ہے، ایران کو جوہری کشیدگی اور میزائل پروگرام روکنا ہوگا۔

امریکی حکومت کی سرکاری ویب سائٹ کے مطابق ترجمان امریکی محکمہ خارجہ ٹیمی بروس نے پریس بریفنگ کے دوران صحافی کے سوال کا جواب دیتے ہوئے کہاکہ ہم جانتے ہیں کہ ایرانی حکومت ہمیشہ سے امریکا اور اس کے اتحادیوں اور شراکت داروں کے ساتھ دشمنی رکھتی ہے اور وہ دہشت گردی کے سب سے بڑے ریاستی اسپانسرز میں سے ایک ہے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ ایران حزب اللہ، حماس، حوثیوں، طالبان، القاعدہ اور دیگر دہشت گرد نیٹ ورکس کی حمایت کرتا ہے، ایران کی اپنی سپاہ پاسداران انقلاب اسلامی ایک غیر ملکی دہشت گرد تنظیم ہے اور حکومت کے بہت سے رہنماؤں کو بھی دہشت گرد قرار دیا جا چکا ہے۔

ٹیمی بروس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے یہ واضح کر دیا ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کر سکتا، اور جیسا کہ وزیر خارجہ روبیو نے کہا ہے کہ ہم ان سے کیا چاہتے ہیں، ڈونلڈ ٹرمپ کے تحت جوہری ایران نہیں بننے جا رہا، ایران کو جوہری ہتھیاروں کا پھیلاؤ، بیلسٹک میزائل پروگرام، اپنے نیٹ ورکس اور علاقائی جارحانہ سرگرمیوں کی مہم، ایرانی عوام کی آزادی پر جبر اور پاسداران انقلاب کی تخریبی سرگرمیوں کو روکنا ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ صدر ٹرمپ مستقل اور واضح رہے ہیں کہ امریکا اس بات کو یقینی بنانے کے لیے پرعزم ہے کہ ایران جوہری ہتھیار حاصل نہیں کرے گا، انہوں نے ایران کے ساتھ معاہدے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے، اگر ایرانی حکومت کوئی معاہدہ نہیں چاہتی، تو صدر کے پاس دیگر آپشنز ہیں، اور وہ متبادل آپشنز ایران کے لیے بہت برے ثابت ہوں گے۔

خیال رہے کہ ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای نے گزشتہ روز امریکا کو خبردار کیا تھا کہ اگر تہران کی جانب سے واشنگٹن کے ساتھ نئے جوہری معاہدے تک پہنچنے سے پہلے ایران پر بمباری سے متعلق صدر ٹرمپ کی دھمکی پر عمل کیا گیا تو اس سے امریکا کو سخت دھچکا لگے گا۔

اپنے پیغام میں ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل سے دشمنی ہمیشہ سے رہی ہے اور وہ ہم پر حملہ کرنے کی دھمکی دیتے ہیں، جس سے متعلق ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا امکان بہت کم ہے، تاہم اگر انہوں نے اس طرح کا کوئی اقدام اٹھایا تو انہیں شدید جوابی ردعمل ملے گا۔

واضح رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے گزشتہ دنوں دھمکی دی تھی کہ اگر ایران نے مارچ کے اوائل تک جوہری معاہدے سے متعلق میری پیش کش قبول نہیں کی تو اس پر بمباری کی جائے گی۔

’غزہ میں جو کچھ ہورہا ہے اس کی ذمہ دار حماس ہے‘

ایک سوال پر ٹیمی بروس نے کہاکہ غزہ میں جو کچھ ہو رہا ہے وہ حماس کی وجہ سے ہو رہا ہے، یہ سب کچھ ایک لمحے میں رک سکتا ہے اگر حماس تمام یرغمالیوں اور یرغمالیوں کی لاشوں کو واپس کر دے اور اپنے ہتھیار ڈال دے۔

انہوں نے الزام عائد کیا کہ حماس طویل عرصے سے سویلین انفراسٹرکچر کا غلط استعمال کررہی ہے اور اسے اپنی حفاظت کے لیے استعمال کرہی ہے، حماس کے اقدامات کی وجہ سے انسانی حقوق کی بنیاد رکھنے والے افراد فائرنگ کی زد میں آ گئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ فوجی کارروائیوں کو روکنے یا ان میں رکاوٹ ڈالنے کے لیے شہریوں یا عوامی املاک کا استعمال بذات خود بین الاقوامی انسانی قانون کی خلاف ورزی ہے ، اور یقینا ہم توقع کرتے ہیں کہ زمین پر موجود تمام فریق بین الاقوامی انسانی قانون کی تعمیل کریں گے۔

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025