• KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm
  • KHI: Maghrib 6:50pm Isha 8:07pm
  • LHR: Maghrib 6:24pm Isha 7:47pm
  • ISB: Maghrib 6:31pm Isha 7:56pm

یورپی فنڈز میں خورد برد ثابت، فرانسیسی سیاستدان مارلین لی پین 5 سال کیلئے نااہل قرار

شائع April 1, 2025
— فوٹو: رائٹرز
— فوٹو: رائٹرز

فرانس کی ایک عدالت نے فرانس کی انتہائی دائیں بازو کی رہنما مارین لی پین کو یورپی فنڈز میں خوردبرد کے الزام میں مجرم قرار دیتے ہوئے 4 سال قید اور ایک لاکھ یورو جرمانہ کی سزا سنادی ہے جبکہ 5 سال تک کوئی عوامی عہدہ رکھنے یا اس کے لیے انتخاب لڑنے پر پابندی بھی عائد کردی گئی ہے۔

خبر رساں ادارے رائٹرز کے مطابق فرانسیسی عدالت کا فیصلہ 56 سالہ لی پین کے لیے ایک تباہ کن دھچکا ہے، نیشنل ریلی (آر این) پارٹی کی سربراہ یورپی انتہائی دائیں بازو کی اہم ترین شخصیات میں سے ایک ہیں اور فرانس کے 2027 کے صدارتی انتخابات میں سب سے آگے ہیں۔

اس فیصلے کے فرانس کی سیاست پر وسیع پیمانے پر اثرات مرتب ہوسکتے ہیں، جس سے صدر ایمانوئل میکرون کی جانشینی کی دوڑ ختم ہو سکتی ہے اور کئی ماہ کے مسلسل بحرانوں کے بعد کمزور ہونے والی ان کی کمزور اقلیتی حکومت پر اضافی دباؤ پڑ سکتا ہے۔

اس سے دائیں بازو کے رہنماؤں میں غیر منتخب ججوں کے مینڈیٹ میں مداخلت پر بڑھتے ہوئے عالمی غصے میں اضافے کا بھی امکان ہے۔

ٹی ایف ون پر پرائم ٹائم ٹی وی کو انٹرویو میں لی پین نے کہا کہ وہ بے قصور ہیں اور جتنی جلدی ممکن ہو سکے اس فیصلے کے خلاف اپیل کریں گی جس کا مقصد ان کی صدارتی دوڑ کو روکنا ہے، انہوں نے کہا کہ وہ فی الحال 2027 کی دوڑ سے باہر ہیں ، لیکن اپنے مستقبل کے لیے لڑتی رہیں گے۔

انہوں نے کہا کہ آج رات لاکھوں فرانسیسی عوام غصے میں ہیں اور ناقابل تصور حد تک ناراض ہیں کیونکہ وہ دیکھ رہے ہیں کہ انسانی حقوق کے ملک میں ججوں نے ان طریقوں کو نافذ کیا ہے جو ہمارے خیال میں آمرانہ حکومتوں کے لیے مخصوص تھے۔

لی پین کی5 سالہ سرکاری عہدے کے لیے نااہلی اپیل کے ذریعے معطل نہیں کی جا سکتی، تاہم وہ اپنی مدت ختم ہونے تک اپنی پارلیمانی نشست برقرار رکھیں گی، انہیں 4 سال قید کی سزا بھی سنائی گئی ہے جس میں سے دو سال معطل ہیں اور دو سال گھر میں نظربند ہیں، اور ایک لاکھ یورو جرمانہ بھی عائد کیا گیا ہے، لیکن ان سزاؤں کا اطلاق اس وقت تک نہیں ہوگا جب تک ان کی اپیلوں پر فیصلہ نہیں ہوجاتا۔۔

امریکی ارب ارب پتی ایلون مسک، جو صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ایجنڈے کو روکنے والے امریکی ججوں کے مواخذے کے مطالبے کے سرخیل ہیں، نے الزام عائد کیا ہے کہ لی پین کی ناکامی کے پیچھے اسٹیبلشمنٹ کی سازش ہے، انہوں نے ایکس پر لکھا کہ جب بنیاد پرست بائیں بازو جمہوری ووٹ کے ذریعے جیت نہیں سکتے تو وہ اپنے مخالفین کو جیل بھیجنے کے لیے قانونی نظام کا غلط استعمال کرتے ہیں، یہ پوری دنیا میں ان کی معیاری پلے بک ہے’۔

جج بینیڈکٹ ڈی پرتھوئس نے کہا کہ لی پین یورپی یونین کے 40 لاکھ یورو (4.3 ملین ڈالر) سے زائد کے فنڈز کا غلط استعمال کرنے اور اسے انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے عملے کو وطن واپس لانے کے لیے استعمال کرنے کی اسکیم کا مرکزی کردار تھیں۔

ڈی پرتھوئس نے کہا کہ لی پین اور دیگر مدعا علیہان کی طرف سے پچھتاوا نہ ہونا ان وجوہات میں شامل تھا جس کی وجہ سے عدالت نے انہیں فوری طور پر صدارتی انتخاب لڑنے سے روک دیا۔

لی پین کے اتحادیوں کے ساتھ ساتھ یورپ اور دنیا بھر کے انتہائی دائیں بازو کے رہنماؤں نے بھی اس فیصلے کی مذمت کرتے ہوئے اسے عدالتی مداخلت قرار دیا۔

لی پین کے دائیں ہاتھ اور آر این کے صدر جورڈن بارڈیلا نے کہا کہ آج صرف میرین لی پین کو غیر منصفانہ طور پر سزا نہیں دی گئی بلکہ یہ فرانسیسی جمہوریت تھی جسے قتل کیا گیا۔

برازیل کے سابق صدر جیئر بولسونارو، جنہیں اختیارات کے ناجائز استعمال پر 2030 تک عہدے سے روک دیا گیا تھا، نے رائٹرز کو بتایا کہ لی پین کی سزا ’بائیں بازو کی عدالتی سرگرمی‘ تھی۔

فرانس کی عدلیہ کی اعلیٰ کونسل نے اس فیصلے کے خلاف شدید ردعمل پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ایک بیان میں کہا ہے کہ ’استغاثہ یا سزا کے میرٹ پر سیاسی رہنماؤں کے بیانات، خاص طور پر غور و خوض کے دوران، جمہوری معاشرے میں قبول نہیں کیے جا سکتے ہیں‘۔

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025