امریکا نے حملہ کیا تو جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا، ایران
ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ایک سینئر مشیر علی لاریجانی نے دوٹوک الفاظ میں واضح کیا ہے کہ اگر امریکا یا اس کے اتحادیوں کی جانب سے ایران پر حملہ کیا گیا تو اس کے پاس جوہری ہتھیار حاصل کرنے کے سوا کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
ترک خبر رساں ادارے انادولو کے مطابق علی لاریجانی نے سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ہم جوہری ہتھیاروں کی طرف نہیں بڑھ رہے لیکن اگر آپ جوہری معاملے پر غلطی کرتے ہیں تو آپ ایران کو اس کی طرف بڑھنے پر مجبور کریں گے کیونکہ اسے اپنا دفاع کرنا ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایران ایسا نہیں کرنا چاہتا لیکن جب آپ دباؤ ڈالتے ہیں تو اس کے پاس کوئی چارہ نہیں ہوگا۔
علی لاریجانی کا یہ بیان ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اتوار کو ایران کو دھمکی دی تھی کہ اگر وہ اپنے جوہری پروگرام پر مذاکرات میں واشنگٹن کے ساتھ شامل ہونے پر راضی نہیں ہوا تو وہ غیر معمولی بمباری کرے گا۔
ٹرمپ نے این بی سی نیوز کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اگر انہوں نے کوئی معاہدہ نہیں کیا تو بمباری کی جائے گی، یہ ایسی بمباری ہوگی جو انہوں نے پہلے کبھی نہیں دیکھی ہوگی۔
ٹرمپ کو اپنے پہلے جواب میں خامنہ ای نے متنبہ کیا تھا کہ کسی بھی ’بیرونی جارحیت‘ کا ’سخت جواب‘ دیا جائے گا۔
علی لاریجانی نے کہا کہ اگر ایران نے خود یا اسرائیل کے ذریعے ایران پر بمباری کرنے کا فیصلہ کیا تو امریکا ایران کو مختلف فیصلے کرنے پر مجبور کرے گا۔
انہوں نے کہا کہ ایران یہ راستہ اختیار نہیں کرنا چاہتا لیکن جب آپ دباؤ ڈالتے ہیں تو اسے ثانوی جواز مل جاتا ہے اور اس کے پاس کوئی دوسرا راستہ نہیں ہوتا، لوگ اس پر زور دیں گے اور دلیل دیں گے کہ یہ ملک کی سلامتی کے لیے ضروری ہے۔