• KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:42pm
  • KHI: Zuhr 12:35pm Asr 5:03pm
  • LHR: Zuhr 12:06pm Asr 4:36pm
  • ISB: Zuhr 12:11pm Asr 4:42pm

کارگل جنگ: 'دلیپ کمار نے نواز شریف سے بات کی'

شائع October 7, 2015
سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری—۔فائل فوٹو/ رائٹرز
سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری—۔فائل فوٹو/ رائٹرز

نئی دہلی: سابق وزیر خارجہ خورشید محمود قصوری کا کہنا ہے کہ 1999 میں کارگل جنگ کے دوران بحران کو کم کرنے کے لیے ہندوستانی فلم اداکار اور پاکستان کے اعلیٰ ترین سول اعزاز کے حامل دلیپ کمار نے وزیراعظم نواز شریف سے بات کی تھی.

این ڈی ٹی وی کو دیئے گئے انٹرویو کے دوران قصوری نے وزیراعظم نواز شریف کے ایک ساتھی کے حوالے سے بتایا کہ جولائی 1999 میں نواز شریف اور اُس وقت کے ہندوستانی وزیراعظم اٹل بہاری واجپائی کے مابین ٹیلیفونک گفتگو کے دوران واجپائی نے فون دلیپ کمار کو پکڑا دیا تھا.

قصوری نے بتایا،"وزیراعطم نواز شریف کو یقین نہیں آیا تھا کہ ایک ہیرو اس وقت فون پر اُن سے مخاطب ہیں"، جس پر دلیپ کمار نے انھیں یقین دلایا کہ فون پر وہ ہی بات کر رہے ہیں اور وہ کارگل کے محاذ پر کشیدگی کے حوالے سے تحفظات کا شکار ہیں.

دلیپ کمار نے وزیراعظم نواز شریف پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اس بحران کو ختم کرنے میں مدد کریں کیوں کہ یہ بات دونوں جانب کے عوام کے بہترین مفاد میں ہے.

ہیڈلائن ٹوڈے چینل کو دیئے گئے ایک علیحدہ انٹرویو میں قصوری نے ایک اعلیٰ سطحی امریکی ٹیم کے حوالے سے بتایا جس نے ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان کی جانب سے فضائی حملوں پر غور کے حوالے سے پاکستانی ردعمل سے متعلق پوچھا.

قصوری نے بتایا کہ امریکی ٹیم نے ان سے اس حوالے سے بات چیت کی کہ اگر ہندوستان فضائی حملے کرتا تو پاکستانی فوج کا کیا ردعمل ہوتا، سابق وزیر خارجہ کا مزید کہنا تھا کہ انھیں یقین ہے کہ اُن سے یہ سوال پوچھنے سے قبل امریکی ٹیم نے "ہندوستان میں کسی اعلیٰ سطح کے عہدیدار" سے بات کی ہوگی.

مزید پڑھیں:'ممبئی حملوں کے بعد ہندوستان فضائی حملوں کا ارادہ رکھتا تھا'

واضح رہے کہ خورشید محمود قصوری نے انڈیا ٹوڈے کو ایک انٹرویو دیتے ہوئے بتایا تھا کہ ممبئی حملوں کے بعد سینیٹر جان مک کین کی قیادت میں ایک امریکی وفد سے ان کی ملاقات ہوئی تھی جس میں وفد نے اس خدشے کا اظہار کیا تھا کہ انڈیا مرید کے میں جماعت الدعوۃ اور لشکر طیبہ کے خلاف فضائی کارروائی کرسکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وفد سے ان کی ملاقات لاہور میں ہوئی تھی جس میں رپبلکن سینیٹر لنڈسے گراہم اور پاکستان اور افغانستان کے خصوصی امریکی سفیر رچرڈ بالبروک بھی شامل تھے۔

سابق وزیر خارجہ نے کہا کہ انہوں نے مک کین کو کہا کہ اگر پاکستانی حدود میں ایسی کوئی کارروائی ہوئی تو پاکستانی فوج اس کا جواب دے گی۔

قصوری کا یہ بھی کہنا تھا کہ پاکستانی فوج اور آئی ایس آئی دونوں ممالک کے درمیان دوستی، امن اور سیکیورٹی کے معاہدوں کی حامی تھے۔

تبصرے (2) بند ہیں

راشد Oct 07, 2015 01:27pm
قصوری کے اس بیان کے بعد شاید اب بھارت میں دلیپ کمار کے گھر پر بھی حملہ ہو جاۓ
Israr Muhammad Khan Yousafzai of Shewa Oct 07, 2015 07:46pm
اس بیان سے یہ بات ظاہر ھوگئی. کہ کارگل لڑائی حکومت کی اجازت کے بغیر شروع ھوئی تھی ممبئی حملوں کے بعد فضائی کاروائی والی بات بھی قابل یقین نہیں کیونکہ کوئی بھی اپنے اس طرح کے منصوبے کسی کو بتاتے نہیں کب کہاں اور کیسے حملہ ھوگا یہ باتیں انتہائی خفیہ رکھی جاتی ھیں یاد رہے کہ کارگل لڑائی سے چند دن پہلے بھارتی وزیراعظم پاکستان ائے تھے یہ دورہ بہت کامیاب رہا تھا معاہدہ لاہور کے نام سے مذاکرات شروع ھوگئے تھے لیکن کارگل لڑائی سے مذاکرات ناکام بنائے گئے

کارٹون

کارٹون : 4 اپریل 2025
کارٹون : 3 اپریل 2025