غیرمجاز فون کنکشنز پر پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کی ذمے داران سے 22لاکھ وصولی کی ہدایت
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وفاقی تحقیقاتی ادارے(ایف آئی اے) کو 22 ٹیلی فون کنکشنز کے غیر مجاز استعمال پر سابق وزیر اور وزارت کامرس کے ملازمین سے 22 لاکھ روپے وصول کرنے کی ہدایت کردی۔
ڈان اخبار میں شائع رپورٹ کے مطابق آڈیٹر جنرل کے دفتر نے وزارت تجارت کے کھاتوں کی جانچ پڑتال کے دوران مالی سال 16-2015 اور 18-2017 کے دوران 22 غیر مجاز ٹیلی فون کنکشنز کا سراغ لگایا۔
کامرس سیکریٹری نے دعویٰ کیا کہ وزیر اور وزارت کے دیگر اہلکار اپنی مقررہ حدود میں ٹیلی فون لائنوں کا استعمال کر رہے تھے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے چیئرمین نور عالم خان نے اپنے عملے کو ہدایت کی کہ وہ وفاقی وزرا اور وزرائے مملکت کا (تنخواہ، الاؤنسز اور مراعات) ایکٹ 1975 پیش کریں۔
ایکٹ کے سیکشن 10اے کے مطابق ایک وزیر سرکاری خرچ پر اپنی رہائش گاہ پر نصب ٹیلی فون کا حقدار ہوگا اور اسے اس کے بل کی ادائیگی اور ملک کے اندر کی جانے والی کالوں کے چارجز سے استثنیٰ ہوگا۔
جب سیکریٹری نور عالم خان کو اپنے جوابات سے مطمئن کرنے میں ناکام رہے تو انہوں نے انہیں حکام سے 22 لاکھ روپے وصول کرنے کی ہدایت کی۔
انہوں نے ایف آئی اے کو ہدایت کی کہ رقم کی وصولی کو یقینی بنایا جائے اور ناکامی کی صورت میں ایف آئی آر درج کی جائے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے وزارت تجارت کو پشاور ایکسپو سینٹر کی تعمیر کے لیے 19کروڑ 15لاکھ روپے غیر قانونی طور پر دیے جانے سے متعلق انکوائری رپورٹ شیئر کرنے کی بھی ہدایت کی۔
آڈٹ میں نشاندہی کی گئی کہ وزارت نے پروکیورمنٹ رولز کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ٹھیکے دیے۔
سیکریٹری تجارت نے کمیٹی کو بتایا کہ تفصیلی انکوائری مکمل کر لی گئی ہے اور ذمہ داروں پر ذمہ داری بھی عائد کر دی گئی ہے۔
پبلک اکاؤنٹس کمیٹی نے اسٹیٹ لائف انشورنس کارپوریشن آف پاکستان کے مالی معاملات کی بھی چھان بین کی اور نشاندہی کی کہ پی ٹی آئی حکومت کی جانب سے متعارف کرایا جانے والا فلیگ شپ پراجیکٹ ’ہیلتھ کارڈ‘ انشورنس کمپنی کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔