اسلام آباد بلدیاتی انتخابات: وفاق اور الیکشن کمیشن کی انٹرا کورٹ اپیلوں پر تحریری حکم نامہ جاری
اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کی انٹراکورٹ اپیلوں پر تحریری حکم نامہ جاری کردیا گیا ہے۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق چیف جسٹس عامر فاروق اور جسٹس سمن رفعت امتیاز پر مشتمل اسلام آباد ہائی کورٹ کا ڈویژن بینچ فیصلہ کرے گا کہ اسلام آباد میں بلدیاتی انتخابات پرانے قانون کے تحت 101 یونین کونسز پر ہوں گے یا نئی قانون سازی کے تحت 125 یونین کونسلز پر ہوں گے۔
الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کی انٹرا کورٹ اپیلوں پر ڈویژن بینچ کے تحریری حکم نامے میں نئی قانون سازی کے بعد انتخابات کے انعقاد پر سوال اٹھایا گیا جس پر صدر عارف علوی کے دستخط ہونا ابھی باقی ہیں۔
تحریری حکم نامے میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے کہا کہ الیکشن کمیشن کے وکیل نے دلیل دی ہے کہ پولنگ کی نئی تاریخ مشاورت کے بعد ہی دی جا سکتی ہے لیکن یہ انتخابات پرانے قانون کے مطابق صرف 101 یونین کونسلز پر ہوں گے اور اگر اس دوران قانون سازی کے ذریعے یونین کونسلز کی تعداد بڑھا کر 125 کردی جاتی ہے تو اس سے بے ضابطگی پیدا ہوگی اور اس کے مطابق نئی حلقہ بندی اور دیگر ضرروی امور سرانجام دینا ہوں گے۔
ڈویژن بینچ کے حکم کے مطابق ’اپیل کنندہ کے وکیل کی جانب سے اٹھائے گئے اعتراضات پر غور کی ضرورت ہے، جواب دہندگان کو 9 جنوری 2023 کے لیے نوٹس جاری کیا جائے‘۔
عدالت نے مزید کہا کہ ’قانونی چارہ جوئی کے پہلے مرحلے کے دوران چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ نے رٹ پٹیشنز کا فیصلہ کرتے ہوئے معاملہ الیکشن کمیشن کو بھیج دیا تھا کہ وہ یونین کونسلز کی تعداد میں اضافہ اور ووٹر لسٹوں کی درستی پر نئے سرے سے فیصلہ کرے، ہائی کورٹ میں دائر ایک درخواست میں کہا گیا تھا کہ تقریباً 10 ہزار ووٹرز نے اپنی یوسی کے علاوہ کسی اور یو سی میں غلطی سے اندراج کروا رکھا ہے۔
الیکشن کمیشن کے وکیل میاں عبدالرؤف نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے مطابق یونین کونسلز میں اضافے کا معاملہ 27 دسمبر کو اٹھایا گیا تھا اور اسی دن اس معاملے کا فیصلہ اس بنیاد پر کیا گیا تھا کہ یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے کے لیے پارلیمنٹ میں قانون سازی کی جارہی ہے۔
یہ دعویٰ کیا گیا کہ ووٹر لسٹ میں تبدیلی کا معاملہ 28 دسمبر کو اٹھایا گیا تھا اور اس معاملے کو فیصلے کے لیے مجاز اتھارٹی کے پاس بھیج دیا گیا تھا کیونکہ اس وقت انتخابات ملتوی کیے جا چکے تھے۔
عدالت کو آگاہ کیا گیا کہ جسٹس ارباب محمد طاہر نے چیف جسٹس اسلام آباد کے فیصلے اور ان کیسز میں 101 سے 125 تک یونین کونسلز کی تعداد بڑھانے کے حوالے سے دی گئی تشریح کو مدنظر نہیں رکھا اور نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دے دیا۔
تحریری فیصلے میں الیکشن کمیشن اور وفاقی حکومت کے وکیل کے استدلال کے مطابق سنگل رکنی بینچ نے اس حقیقت کے باوجود الیکشن کمیشن کو ہدایت جاری کیں کہ الیکشن کمیشن ایک خود مختار اور آئینی ادارہ ہے اور ’شیخ رشید احمد بمقابلہ حکومت پنجاب و دیگر‘ کے عنوان سے کیس میں سپریم کورٹ کے فیصلے کی روشنی میں الیکشن کمیشن کی آزادی کا احترام کیا جانا چاہیے۔
واضح رہے کہ 101 یونین کونسلز میں بلدیاتی انتخابات 31 دسمبر کو ہونے تھے، تاہم حکومت نے 19 دسمبر کو یونین کونسلز کی تعداد 101 سے بڑھا کر 125 کر دی، ایک روز بعد الیکشن کمیشن نے اس اقدام کو مسترد کر دیا تھا لیکن 23 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے فیصلے کے بعد الیکشن کمیشن نے وفاقی حکومت کا مؤقف سنا اور انتخابات ملتوی کر دیے تھے۔
پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) اور جماعت اسلامی (جے آئی) نے اس فیصلے کو اسلام آبادہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا، 30 دسمبر کو اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس ارباب محمد طاہر نے یونین کونسلز کی تعداد میں اضافے کے نوٹیفکیشن کو کالعدم قرار دیتے ہوئے الیکشن کمیشن کو بلدیاتی انتخابات 31 دسمبر کو ہی کرانے کی ہدایت کی تھی۔
الیکشن کمینش اس حکم پر عمل درآمد نہ کرا سکا اور وفاقی حکومت کے ہمراہ اسلام آباد ہائی کورٹ سے رجوع کرلیا، 2 جنوری کو ڈویژن بینچ نے الیکشن کمیشن اور حکومت کی انٹرا کورٹ اپیلوں کی سماعت کی اور پی ٹی آئی اور جماعت اسلامی سمیت مدعا علیہان کو نوٹس جاری کیا۔