ای او بی آئی کے 358 برطرف ملازمین بحال کرنے کیلئے قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کا دباؤ مسترد
اسلام آباد ہائی کورٹ نے ایمپلائیز اولڈ ایج بینیفٹ انسٹی ٹیوشن (ای او بی آئی) کی 358 ’سیاسی تعیناتیوں‘ کی بحالی سے متعلق قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی کی تجاویز مسترد کردیں۔
ڈان اخبار کی رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس عامر فاروق نے سپریم کورٹ کے حکم پر برطرف کیے گئے ای او بی آئی کے ملازمین کی بحالی کے لیے عبدالقادر مندوخیل کی سربراہی میں قومی اسمبلی کے پینل کی جانب سے پیش کی گئی سفارشات کو معطل کرنے کا حکم دیا۔
ای او بی آئی پنشن، بڑھاپے میں مراعات اور سوشل انشورنس کا ادارہ ہے جو وزارت سمندر پار پاکستانی اور انسانی وسائل کی ترقی کے ذریعے چلایا جاتا ہے۔
2014 میں عدالت عظمیٰ نے حکومت سے تعلق رکھنے والے سیاستدانوں کی تجاویز پر تعینات 358 ملازمین کو برطرف کرنے کا حکم جاری کیا، بعدازاں قومی اسمبلی کی خصوصی کمیٹی نے برطرف ملازمین کو بحال کرنے کی سفارش کی تھی۔
تاہم وزارت سمندر پار پاکستانی کے وفاقی سیکریٹری اور ای او بی آئی بورڈ آف ٹرسٹی کے چیئرمین ذوالفقار حیدر کے انکار پر قومی اسمبلی کی کمیٹی نے ذوالفقار حیدر سمیت ای او بی آئی کی چیئرپرسن ناہید درانی کے خلاف تحریک استحقاق پیش کی، پینل نے ایف آئی اے کو ذوالفقار حیدر کی ملکیت کے اثاثوں کی تحقیقات شروع کرنے کی بھی ہدایت کی۔
ذوالفقار حیدر نےقومی اسمبلی کمیٹی کی ہدایت کے خلاف اسلام آد میں درخواست دی تھی، ان کے وکیل سید اشفاق حسین نقوی نے عدالت کے روبرو دلائل دیے کہ غیر قانونی ہدایات/سفارشات کی بنیاد پر درخواست گزار کے خلاف تعزیری کارروائی کی درخواست کی گئی ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ اس سے قبل ملازمین کی بحالی کے لیے سفارشات کی گئی تھیں اور یہ معاملہ پہلے ہی اسلام آباد ہائی کورٹ میں زیر سماعت ہے۔
وکیل کے مطابق اسپیشل کمیٹی کی جانب سے درخواست گزار کے خلاف (جو 22ویں گریڈ کا افسر ہے) استعمال کی گئی زبان غیر ضروری تھی اور ان کا کیس ایف آئی اے کے حوالے کرنا انصاف کے بنیادی اصولوں کے خلاف ہے۔
درخواست میں کہا گیا کہ ’کمیٹی کے چیئرمین ایک ایسے معاملے کے حوالے سے ہدایات جاری کر کے اپنے اختیارات کا غلط استعمال کر رہے ہیں جس کا نہ صرف سپریم کورٹ فیصلہ کرچکی ہے بلکہ کمیٹی کی کارروائی بھی اس عدالت کے سامنے زیر سماعت ہے‘۔
درخواست میں عدالت سے استدعا کی گئی کہ خصوصی کمیٹی کی سفارشات کو کالعدم قرار دیا جائے، علاوہ ازیں عدالت سے کمیٹی کی جانب سے درخواست گزار اور ای او بی آئی کے چیئرپرسن کو طلب کرنے اور ذوالفقار حیدر کے خلاف انکوائری ایف آئی اے کو بھیجنے کی ہدایت مسترد کرنے کی بھی استدعا کی۔
چیف جسٹس عامر فاروق نے کمیٹی کی سفارشات/ہدایات کو معطل کرتے ہوئے مزید سماعت 29 مارچ تک ملتوی کر دی۔