• KHI: Fajr 4:24am Sunrise 5:52am
  • LHR: Fajr 3:31am Sunrise 5:08am
  • ISB: Fajr 3:27am Sunrise 5:08am
  • KHI: Fajr 4:24am Sunrise 5:52am
  • LHR: Fajr 3:31am Sunrise 5:08am
  • ISB: Fajr 3:27am Sunrise 5:08am

شاہد آفریدی نے صہیونی گروپ کے ساتھ وائرل تصویر پر وضاحت کردی

شائع June 20, 2024
فوٹو: ڈان امیجز
فوٹو: ڈان امیجز

سوشل میڈیا پر اسرائیل کے ایک حامی گروپ کے رہنماؤں کے ہمراہ وائرل تصویر پر شاہد آفریدی کا رد عمل سامنے آگیا، قومی ٹیم کے سابق کپتان نے صہیونی تحریک کی حمایت سے متعلق دعووں کی تردید کی ہے۔

اسرائیل کی حامی تنظیم فرینڈز آف اسرائیل (ایف او آئی) کی جانب سے پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی کے ہمراہ ایک تصویر پوسٹ کی گئی، جس کے کیپشن میں یہ الزام عائد کیا گیا ’آفریدی نے یرغمالیوں کی رہائی کے لیے ہمارے مطالبے کی حمایت کی‘

گزشتہ روز پوسٹ کی گئی تصویر میں شاہد آفریدی مانچسٹر میں دو مظاہرین کے ساتھ کھڑے ہوئے دکھائی دے رہے ہیں، جن میں سے ایک نے اپنے ہاتھ میں پمفلٹ پکڑا ہوا ہے جس میں حماس کی جانب سے مبینہ طور پر اغوا کیے گئے اسرائیلی بچوں سے متعلق تحریر درج ہے، پمفلٹ میں واضح طور پر ’انہیں گھر واپس لاؤ‘ کے الفاظ درج ہیں، یعنی وہ گزشتہ سال 7 اکتوبر کے حملے میں حماس کے ہاتھوں یرغمال افراد کی رہائی کا مطالبہ کررہے ہیں۔

تنظیم کے مطابق شاہد آفریدی کی تصویر ایف او آئی کے شریک چیئرمین اور ڈپٹی چیئرمین کے ساتھ تھی، اور انہوں نے آفریدی کی حمایت پر ان کا شکریہ بھی ادا کیا۔

وائرل تصویر کے ردعمل میں شاہد آفریدی نے مداحوں سے اپیل کی کہ وہ انٹرنیٹ پر اپ لوڈ ہونے والے ہر چیز پر یقین نہ کریں۔

مائیکرو بلاگنگ ویب سائٹ ایکس (ٹوئٹر) پر اپنی پوسٹ میں آفریدی نے لکھا ’مانچسٹر (برطانیہ) میں ایک گلی میں ٹہلتے ہوئے کوئی مداح آپ سے سیلفی کی درخواست کرے اور پھر کچھ ہی دیر بعد وہ اس تصویر کو صہیونی تحریک کی حمایت سے جوڑ دیں‘۔

انہوں نے مزید لکھا ’فلسطین میں معصوم لوگوں کو اذیت میں مبتلا دیکھنے کے واقعات دل دہلا دینے والے ہیں، لہذا مانچسٹر میں پوسٹ کی گئی کوئی بھی تصویر، کسی بھی ایسی صورت حال کے لیے میری حمایت کی عکاسی نہیں کرتی، جہاں انسانی جانیں خطرے میں ہوں۔

شاہد آفریدی کا کہنا تھا کہ وہ دنیا بھر میں مداحوں کے ساتھ تصاویر بنواتے ہیں اور مانچسٹر میں بھی کچھ ایسا ہی ہوا، انہوں نے جنگ کے خاتمے، امن اور آزادی کی دعا بھی کی۔

مصنفہ فاطمہ بھٹو نے آفریدی سے اس معاملے پر وضاحت طلب کی تھی اور بعد ازاں آفریدی کی وضاحتی ٹوئٹ کے بعد انہوں نے لکھا ’ آفریدی نے اس پر جواب دیا ہے کہ انہیں علم نہیں تھا کہ وہ کون ہیں، میرا اندازہ ہے کہ (ایف او آئی) یہ دکھانا چاہتے تھے کہ ان کے پروگرام میں 5 سے زیادہ لوگ موجود تھے۔

تاہم، ایف او آئی نے شاہد آفریدی کے بیان پر ردعمل دیا، انہوں نے الزام عائد کیا کہ آفریدی نے اپنے کیمرے سے ’یرغمالیوں والے پلے کارڈز‘ کے ساتھ تصویر کھینچی اور گروپ کے پمفلٹ کے ساتھ سیلفی بنانے پر رضامندی ظاہر کی تھی۔

گروپ نے ٹوئٹ میں شاہد آفریدی کو مخاطب کرتے ہوئے لکھا ’ آپ نے اپنی مرضی سے ہم سے بات کی اور ہمارے مقصد کی حمایت کے لیے ’یرغمالیوں والے پمفلٹ‘ کے ساتھ سیلفی بنائی’۔

بعد ازاں، شاہد آفریدی نے فوری طور پر اس پوسٹ کا جواب دیتے ہوئے لکھا ’انہوں نے ایک مداح کے ساتھ سیلفی لی تھی اور وہ ایف او آئی کی ٹوئٹ کی توثیق نہیں کرتے‘

آفریدی نے مزید لکھا ’بطور مسلمان میں دنیا بھر میں امن کی دعا کرتا ہوں‘، انہوں نے گروپ سے اس ٹوئٹ کو ڈیلیٹ کرنے کا مطالبہ بھی کیا۔

ایف او آئی کی جانب سے دوبارہ کمنٹ کیا گیا اور سوال کیا گیا ’کیا آفریدی یرغمالیوں کی رہائی نہیں چاہتے تھے‘؟

گروپ نے لکھا’ آپ نے ہمارے پلے کارڈز کے ساتھ اپنے فون سے ایک تصویر مانگی اور پھر ’یرغمالیوں کی رہائی کے پمفلٹ‘ کے ساتھ سیلفی لینے کے لیے تیار ہوئے، جس میں واضح طور پر حماس کی قید میں موجود اسرائیلی یرغمالیوں کی رہائی کا مطالبہ درج تھا’۔

ایف او آئی نے ٹوئٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا کہ آفریدی نے خود ان سے کہا کہ ’یرغمالی پمفلٹ‘ ان کے چہرے کے سامنے رکھ کر سیلفی لی جائے۔

تاہم، پاکستان کرکٹ ٹیم کے سابق کپتان اور چیف سلیکٹر نے اس ٹوئٹ پر کسی قسم کا جواب نہیں دیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال 7 اکتوبر کو حماس کے غیر معمولی حملے کے بعد سے اسرائیلی فوج نے اب تک غزہ میں 37 ہزار سے زائد معصوم فلسطینیوں کو شہید کرچکی ہے جس میں بڑی تعداد میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

گزشتہ ماہ اسرائیل نے غزہ کے محفوط ترین علاقے رفح میں حملے کے دوران 4 یرغمالیوں کو بازایاب کرایا لیکن اس دوران 200 سے زائد فلسطینوں کو شہید کردیا۔

کارٹون

کارٹون : 14 جولائی 2024
کارٹون : 11 جولائی 2024